کراچی کے المناک گل پلازہ سانحے کے بعد ریسکیو اور سرچ آپریشن کے دوران ملبے سے لاشوں کے بجائے ہڈیاں ملنے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ سینئر فائر آفیسر ظفر خان نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ تہ خانے میں ایک بار پھر آگ بھڑک اٹھی تھی جسے فوری طور پر بجھا دیا گیا، جبکہ عمارت کا اسٹرکچر شدید متاثر ہوچکا ہے اور اب صرف سرچنگ کا عمل باقی رہ گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمارت کی چھت پر موجود ڈیزل ٹینک کو اتارتے وقت آگ لگی تھی جسے قابو میں کرلیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کھوسو کے مطابق سرچ آپریشن آخری مراحل میں ہے اور اسے آج مکمل کرلیا جائے گا۔ دوسری جانب پولیس سرجن ڈاکٹر سمیعہ سید نے بتایا کہ 67 لاشوں کا پوسٹ مارٹم مکمل ہوچکا ہے، جن میں سے 16 کی شناخت ہوگئی ہے، جبکہ متعدد لاشوں کی شناخت ڈی این اے، شناختی کارڈ اور ذاتی اشیا کے ذریعے ممکن ہوئی۔ تحقیقاتی حکام کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق آگ شارٹ سرکٹ کے باعث نہیں بلکہ مصنوعی پھولوں کی دکان میں بچوں کے کھیلنے کے دوران ماچس یا لائٹر سے بھڑکی، جس کے بعد آگ تیزی سے پھیل گئی اور عمارت کے دروازے بند ہونے کے باعث بھگدڑ مچ گئی۔ واضح رہے کہ یہ افسوسناک واقعہ گزشتہ ہفتے 17 جنوری کی رات پیش آیا تھا جس میں اب تک 67 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں جبکہ 77 افراد تاحال لاپتہ ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار

ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔

ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ: ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ، بچے سمیت 3 افراد قتل 
  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • بارشوں سے پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، پی ڈی ایم اے
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق