منشیات اسمگلنگ کا جرم، سعودی عرب میں پاکستانی شخص کو سزائے موت
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
سعودی حکام نے منشیات اسمگلنگ کی کوشش کے جرم میں پاکستانی شخص کو سزائے موت دے دی ہے۔ ملزم کا نام نقاب خان بتایا جاتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سعودی وزارتِ داخلہ نے منشیات اسمگلنگ سے متعلق الزام میں پاکستانی شخص کو سزائے موت دینے کی تصدیق کردی۔ نقاب خان پر سعودی عرب میں منشیات اسمگل کرکے لانے کی کوشش کا الزام عائد کیا گیا تھا، جو درست ثابت ہوا۔ملزم کو منشیات اسمگل کرنے سے متعلق الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ بعد ازاں سعودی حکومت کے تفتیشی حکام نے ملزم کے منشیات اسمگل کرنے کی کوششوں میں ملوث ہونے کی آفیشل ثبوت اور اعترافی بیان کے ساتھ تصدیق کی۔حکام کے مطابق تمام قانونی تقاضوں کو پورا کرنے کے بعد ملزم کو سعودی عدالت کے روبرو پیش کیا گیا۔ کیس کے ثبوت و شواہد اور ملزم کے اقرارِ جرم کے بعد عدالت نے ملزم کو سزائے موت سنائی، جس پر عملدرآمد کیا گیا۔
واضح رہے کہ سعودی عرب میں منشیات اسمگلنگ انتہائی سنگین جرم ہے.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: منشیات اسمگلنگ کو سزائے موت کیا گیا
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔