WE News:
2026-07-24@01:23:27 GMT

ایلون مسک نے راپٹر 3 کو بہترین راکٹ انجن قرار دے دیا

اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT

ایلون مسک نے راپٹر 3 کو بہترین راکٹ انجن قرار دے دیا

اسپیس ایکس کے سی ای او ایلون مسک نے کہا ہے کہ راپٹر 3 انجن اب تک کا بہترین راکٹ انجن ہے، جس کی بنیاد اس کی بے مثال طاقت، وزن میں کمی اور انتہائی سادہ ڈیزائن پر ہے۔

راپٹر 3 کو 2024 میں متعارف کروایا گیا تھا۔ یہ صرف 1,525 کلوگرام وزن رکھتا ہے، مگر 280 میٹرک ٹن تھرسٹ فراہم کرتا ہے، جو ناسا کے قدیم RS-25 انجن کے مقابلے میں تھرسٹ ٹو ویٹ تناسب کو دوگنا کرنے کے برابر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسپیس ایکس کا کامیاب مشن: نیا فالکن 9 راکٹ مزید 28 سیٹلائٹس لے اڑا

2026 میں راپٹر 3 اسٹار شپ ورژن 3 کے لیے معیاری آپریشنل انجن بن چکا ہے، جس سے پروگرام تجرباتی مرحلے سے نکل کر تیز رفتار پیداوار کے ماحول میں داخل ہو گیا ہے۔

SpaceX’s Raptor 3 engine is sublime engineering
• No basic heat shield needed → saves mass and dramatically boosts reliability
• Small fuel leaks aren’t dangerous — they simply burn off safely in the open plasma
• Major improvements in payload capacity, efficiency, and… pic.

twitter.com/3tKF0Ss6ye

— Tesla Owners Silicon Valley (@teslaownersSV) January 23, 2026

 راپٹر 3 میں کی گئی نئی تکنیکی بہتریوں نے پرزوں کی پائیداری میں اضافہ کیا ہے اور مینوفیکچرنگ کو سادہ بنا دیا ہے، جس سے بڑے پیمانے پر ایک انجن کی قیمت 250,000 ڈالر تک پہنچنے کی صلاحیت پیدا ہو گئی ہے۔

یہ کامیابی اسٹار شپ کی فلائٹ 12 کو تقویت دے رہی ہے، جو 2026 کے شروع میں ٹیکساس سے روانہ ہونے کا امکان ہے، اور مریخ تک دوبارہ قابل استعمال پروازوں کے حوالے سے جوش میں اضافہ کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اسپیس ایکس کا مشن کامیاب، ناسا اور ناوا کے اسپیس ویذر سیٹلائٹس خلا میں روانہ

راپٹر 3 کے خاص ڈیزائن کی وجہ سے اسپیس ایکس کئی ٹن فائر سپریشن سسٹمز اور انجنوں کے پیچھے ہیٹ شیلڈز ہٹا سکتا ہے، جس سے گاڑی کا وزن کم اور ٹرن اراؤنڈ زیادہ موثر ہو جاتا ہے۔

 مزید برآں راپٹر 3 کو بڑے پیمانے پر پیداوار کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس سے اسٹار شپ پروگرام کے لیے ایک زیادہ مؤثر اور کم لاگت انجن تیار ہو سکے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news اسپیس ایکس ایلون مسک خلائی راکٹ

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اسپیس ایکس ایلون مسک خلائی راکٹ اسپیس ایکس راپٹر 3 کے لیے

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا