سندھ اسمبلی میں اپنے خطاب کے دوارن مراد علی شاہ نے کہا کہ مجھ سمیت جس کی بھی غلطی سامنے آئی اسے سزا ملے گی، غفلت اور کوتاہیاں ہیں، ہمارے پاس وسائل کی کمی ہے، ہمارے دورِ حکومت میں کراچی میں 3 بڑے واقعات ہوئے ہیں، بولٹن، ٹمبر اور کوآپریٹو مارکیٹ میں بڑے واقعات ہوئے ہیں، تینوں واقعات میں صدر آصف زرداری نے وفاق کی طرف سے مدد کی تھی۔ اسلام ٹائمز۔ وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ گل پلازہ کو گرانا ہی پڑے گا، کوشش ہوگی کہ 2 سال کے اندر یہاں دکانیں بنا کر دے دیں۔ اسپیکر اویس شاہ کی صدارت میں سندھ اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں سانحۂ گل پلازہ کے شہداء کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی جبکہ زخمی متاثرین کی صحت یابی کے لیے دعا کروائی گئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ سانحۂ گل پلازہ کے شہداء کی مغفرت کی دعا کرتا ہوں، ایسے واقعات دنیا بھر میں ہوتے ہیں اور ایسے واقعات سے سبق حاصل کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ایسا سانحہ ہے جس کو بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں، 10 بج کر 14 منٹ پر گل پلازہ کی ایک دکان میں آگ لگی، 10 بج کر 26 منٹ پر پہلی بار فائر بریگیڈ کو کال موصول ہوئی، 10 بج کر 27 منٹ پر پہلی فائر بریگیڈ روانہ کر دی گئی، ساڑھے 10 بجے ڈپٹی کمشنر موقع پر پہنچ چکے تھے، اس کے بعد پولیس پہنچی۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ نے کہا کہ سانحۂ گل پلازہ کی انکوائری پہلے ہی آرڈر ہو چکی تھی، ابھی تک کی انکوائری کے مطابق وزیرِ داخلہ کو ایف آئی آر درج کرنے کا کہا ہے، جائے حادثہ پر اعلانات کیے گئے کہ یہاں نہ آئیں، لیکن لوگ وہاں پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بہت بڑا سانحہ تھا، کسی کی نیت پر شک نہیں کر رہا لیکن اس پر سیاست کی گئی، پتہ نہیں کہاں سے 18ویں ترمیم اور کراچی کو وفاق کے حوالے کر دینے کی بات کی گئی۔ وزیرِ اعلیٰ کی تقریر کے دوران اپوزیشن رکن محمد فاروق نے بات کرنے کی کوشش کی جس پر وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ میں اسٹیٹمنٹ دے رہا ہوں۔ اسپیکر سندھ اسمبلی نے ہدایت کی کہ فاروق صاحب! آپ بیٹھ جائیں، ہاؤس کا ماحول خراب نہ کریں، میں آپ کو موقع دوں گا، تحمل سے ساری باتیں سن لیں۔ وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ میں کہنا نہیں چاہتا تھا لیکن کہہ رہا ہوں کہ چور کی داڑھی میں تنکا۔ وزیرِ اعلیٰ سندھ کے اس بیان پر ایوان میں تالیاں بجائی گئیں۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ براہِ مہربانی تالیاں نہ بجائیں، 1979ء میں کے بی سی اے ہوا کرتی تھی، اس جگہ عمارت بنانے کے لیے درخواست آئی، جبکہ اس کی سیل ڈیڈ 1983ء میں منظور ہوئی، کے بی سی اے نے عمارت بنانے کی اجازت دی، 80ء کی دہائی میں عمارت بنانے کی اجازت ملی، 1983ء میں اس کی لیز مکمل ہو چکی تھی، لیز رینیو نہیں ہوئی، 1991ء میں اس پلاٹ کی لیز کو رینیو کیا گیا، وہ بھی 8 سال کے بعد۔ ان کا کہنا ہے کہ اٹھارہویں ترمیم سے پہلے کے گند ہم آج تک صاف کر رہے ہیں، میں نے کہا تھا کہ مجھے اتنے روز کیوں لگے، میں بتاتا ہوں آپ کو، اٹھارہویں ترمیم سے پہلے میئر نے اس جگہ کی لیز منظور کی،1991ء میں اس وقت کے میئر نے اس پلاٹ کی لیز منظور کی، 1998ء میں دوبارہ ایک درخواست دی گئی کہ تیسرے فلور کی اجازت دی جائے، 2003ء میں گل پلازہ میں مزید دکانوں کو ریگولرائز کیا گیا۔

وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ سب 18ویں ترمیم سے پہلے کے کارنامے ہیں، 18ویں ترمیم سے پہلے بیسمنٹ میں دکانوں کی منظوری دی گئی، بات ایک سانحے کی ہو رہی ہے، 82 افراد کی جانوں کی ہو رہی ہے، اس وقت یہ کہا جائے کہ 18ویں ترمیم کی وجہ سے یہ سب کچھ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے سانحے کو سیاسی مقصد کے لیے استعمال کرنا بہت بڑے جرم کے مترادف ہے، ہماری غلطیاں بتائیں، لیکن لوگوں کی لاشوں پر اپنا ایجنڈا شروع کر دیا، پیر کو ہی سانحے کی انکوائری کے لیے کمیٹی بنا دی تھی، انکوائری رپورٹ کے بعد ایف آئی آر ہوگی اور جو بھی ذمے دار ہے اس کو سزا ملے گی۔ وزیرِ اعلیٰ سندھ نے کہا کہ مجھ سمیت جس کی بھی غلطی سامنے آئی اسے سزا ملے گی، غفلت اور کوتاہیاں ہیں، ہمارے پاس وسائل کی کمی ہے، ہمارے دورِ حکومت میں کراچی میں 3 بڑے واقعات ہوئے ہیں، بولٹن، ٹمبر اور کوآپریٹو مارکیٹ میں بڑے واقعات ہوئے ہیں، تینوں واقعات میں صدر آصف زرداری نے وفاق کی طرف سے مدد کی تھی۔

ان کا کہنا ہے کہ قائم علی شاہ نے ایک کمیٹی بنائی اور جن جن کا نقصان ہوا تھا ان کا ازالہ کیا گیا، جن لوگوں کا نقصان ہوا ان کا ازالہ شفاف طریقے سے ہوا، کسی کی جان کی کوئی قیمت نہیں ہوتی، سانحے میں جن لوگوں کی جان گئی، ان کے لواحقین کے لیے 1 کروڑ روپے امداد کا اعلان کیا، کمیٹی کو نقصان کا جائزہ لینے کا کہا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت نقصان کو پورا کرے گی، یہ بہت بڑا سانحہ ہے، اس کے لیے ہمیں کچھ اور سوچنا پڑے گا، 1102 دکانوں کی منظوری دی گئی تھی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ گل پلازہ میں جتنی بھی دکانیں ہیں، سندھ حکومت ہر دکان کے مالک کو 5 لاکھ روپے فوری دے گی، پیر کو ہدایات دے دی ہیں کہ دکانداروں کی فہرست بنائیں، 5 لاکھ روپے فی دکاندار کو دیں گے، اس وقت تک ایک عمارت میں 500 دکانیں اور دوسری میں 350 دکانیں دستیاب ہوئی ہیں۔

وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ ان عمارتوں کے مالکان نے کہا ہے کہ ایک سال تک کرایہ نہیں لیں گے، گل پلازہ کے ہر دکاندار کے لیے کولیٹرل سندھ حکومت دے گی، 1 کروڑ روپے دکانداروں کو قرض ملے گا، جو لینا چاہے اسے، سود سندھ حکومت ادا کرے گی، گل پلازہ کو گرانا ہی پڑے گا، کوشش ہوگی کہ 2 سال کے اندر یہاں دکانیں بنا کر دے دیں۔ وزیرِاعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ بے جا تنقید کے بجائے اصلاحی تنقید کریں، اگر آپ اپنا کوئی خفیہ ایجنڈا کرنا چاہتے تو اس کی اجازت نہیں، آپ تنقید ضرور کریں، غلطیوں کی نشاندہی کریں، ہم برا نہیں مانیں گے، ہم آپ کی تجاویز پر ضرور غور کریں گے، اب قومی اسمبلی میں بھی 18ویں ترمیم کے خلاف باتیں کی جا رہی ہیں، ہم اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے رہے ہیں، اس طرح کے المیے میں پیپلز پارٹی لوگوں کے دکھ میں شریک ہوتی ہے۔ اس موقع پر سندھ اسمبلی میں اپوزیشن ارکان نے شور شرابا کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ بڑے واقعات ہوئے ہیں ترمیم سے پہلے کا کہنا ہے کہ سندھ اسمبلی 18ویں ترمیم سندھ حکومت وزیر اعلی گل پلازہ کی اجازت کے لیے کی لیز پڑے گا کی تھی

پڑھیں:

پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ

اسلام آباد:

پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کردی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کام کی کارکردگی پر اجلاس ہوا جس میں ادارے کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔

اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ ، وزیر اقتصادی امور احد چیمہ ، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ، وزیر تعلیم خالد مقبول، وزیر مملکت خزانہ بلال اظہر کیانی، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ موبائل اسپیکٹرم کی دستیابی جون 2025ء میں 274 میگا ہرٹز سے بڑھ کر جون 2026ء میں 880 میگا ہرٹز ہوگئی، موبائل اسپیکٹرم میں اضافے سے انٹرنیٹ کی رفتار اور کنیکٹیویٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔

وزیراعظم کو "کنیکٹ پاکستان وژن 2030ء " کے اجراء کی تیاریوں پر بریفنگ دی گئی، بتایا گیا ہے کہ باغ، آزاد جموں و کشمیر میں سافٹ ویئر ٹیکنالوجی پارک مکمل ہو چکا ہے، پاکستان میں اسمارٹ فون استعمال کرنے والوں کا تناسب 2024ء میں 62 فیصد سے بڑھ کر جون 2026ء میں 72 فیصد ہوگیا، جون 2026ء تک 5.1 ملین گھروں میں فکسڈ براڈ بینڈ /فائبر کنکشن دئیے گئے، حکومتی اقدامات کی بدولت پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں ہوئی برآمدات میں فری لانسرز کا حصہ 1164.7 ملین ڈالر رہا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈیجیٹل نیشن پاکستان کے تحت حکومت پاکستان کی 130 سروسز کو ڈیجیٹائز کیا جا چکا ہے، پچھلے مالی سال آئی ٹی کے شعبے میں 942,646 تربیتی سرٹیفکیٹس دیئے گئے جن میں 5053 ہائے اینڈ تربیتی پروگرام منعقد ہوئے ؛ لیڈرشپ اور سافٹ اسکلز کی 2700 ٹرینینگز کا انعقاد ہوا، ویمن انوویشن اینڈ اسٹارٹ اپ ایمپاورمنٹ لیب کے منصوبہ کا افتتاح جلد ہی ہوگا۔

وزیراعظم کو بتایا گیا کہ چینی کمپنی علی بابا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت وفاقی حکومت کی کئی وزارتوں اور اداروں میں مصنوعی ذہانت کی نفاذ اور اس حوالے سے کئی منصوبے اور تربیتی سیشنز منعقد کئے جا رہے ہیں۔

بتایا گیا کہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، وزارت ریلوے، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، فیڈرل بورڈ آف ریونیو، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی، وزارت قومی غذائی تحفظ ، اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی، پاکستان سنگل ونڈو، وزارت قومی غذائی تحفظ، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان، پاکستان پوسٹ، وفاقی ترقیاتی ادارہ، وزارت بحری امور اور ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں علی بابا مصنوعی ذہانت کے کئی منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔

وزیراعظم نے پاکستان کی سالانہ آئی ٹی برآمدات 21 فیصد اضافے کے ساتھ 4.6 ارب امریکی ڈالر تک پہنچنے پر وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی اور تمام ٹیم کی پذیرائی کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات میں نمایاں اضافہ حکومت کی ڈیجیٹل معیشت کی ترقی کے لیے لئے جانے والے اقدامات پالیسیوں کا ثمر ہے، ملک میں آئی ٹی کے شعبے کا فروغ اور آئی ٹی سے متعلق برآمدات میں اضافہ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، آئی ٹی کے شعبے میں دیئے جانے والے تربیتی کورسز کی معتبر تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے، آئی ٹی کے شعبے میں تربیت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔

وزیراعظم نے ملک بھر میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر مزید بہتر بنانے کی ہدایت کی۔

متعلقہ مضامین

  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن