کم عمری کی شادی کا قانون غیر اسلامی ہے، 18 سال سے چھوٹے نوجوانوں کی شادیاں کرواں گا، مولانا فضل الرحمان
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے 18 سال سے کم عمر افراد کی شادی سے متعلق قانون سازی کو غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس قانون کو تسلیم نہیں کرتے اور اس کی خلاف ورزی کریں گے۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان جیل میں کیوں ہیں؟ سیاستدان کی گرفتاری اور ملاقات پر پابندی کے حق میں نہیں، مولانا فضل الرحمان
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا کہ وہ اس قانون کے خلاف شدید احتجاج ریکارڈ کرا رہے ہیں اور وہ اس قانون کی خلاف ورزی کریں گے اور 18 سال سے کم عمر افراد کی شادیاں کروائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے قوانین کو ملک میں نافذ نہیں ہونے دیا جائے گا۔
انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے مخاطب ہو کر کہا کہ انہیں محسوس ہو رہا ہے کہ اسپیکر دباؤ میں ہیں۔ اس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے جواب دیا کہ یہ ایسی کرسی ہے جس سے نہ حکومت خوش ہوتی ہے اور نہ ہی اپوزیشن۔
مزید پڑھیے: پاک افغان مذاکرات کامیاب، ٹی ٹی پی کی شامت، مولانا فضل الرحمان آگ اگلنے لگے
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ 18 سال سے کم عمر نوجوانوں کی شادی پر پابندی سے متعلق قانون سازی اسلامی اصولوں کے منافی ہے اور بہتر ہوتا کہ اس معاملے کو اسلامی نظریاتی کونسل کو بھیجا جاتا۔
جے یو آئی سربراہ نے قانون سازی کے پس منظر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس ذہنیت کے خلاف ہیں جس کے تحت یہ قانون بنایا گیا۔
مزید پڑھیں: حکومت مغرب کے اصل ایجنڈے پر عملدرآمد کر رہی ہے، مولانا فضل الرحمان حکومت پر برس پڑے
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ دنیا کے دیگر ممالک معاشی ترقی کی راہ پر گامزن ہیں جبکہ پاکستان معاشی بحران کا شکار ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیراعظم نے اہم فیصلوں پر پارلیمنٹ اور کابینہ کو اعتماد میں نہیں لیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
کم عمری کی شادی مولانا فضل الرحمان مولانا فضل الرحمان کی حکومت پر تنقید.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کم عمری کی شادی مولانا فضل الرحمان مولانا فضل الرحمان کی حکومت پر تنقید مولانا فضل الرحمان نے کی شادی سال سے کہا کہ
پڑھیں:
خیبرپختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔
نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔
ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔