مری میں 22 گھنٹوں بعد رکنے والی برف باری ایک بار پھر شروع ہوگئی ، جھیگا گلی سے ملحقہ ایم آئی ٹی روڈ پر سیاحوں کی گاڑیاں پھنس گئیں
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)مری میں 22 گھنٹوں بعد رکنے والی برف باری ایک بار پھر شروع ہوگئی ہے۔ جھیگا گلی سے ملحقہ ایم آئی ٹی روڈ پر سیاحوں کی گاڑیاں پھنس گئی ہیں، جہاں سے تاحال برفباری نہیں ہٹائی جاسکی ہے۔مری میں ڈیڑھ فٹ سے زائد برف باری ریکارڈ کی گئی ہے، وہاں سیاحوں کا داخلہ تاحال بند ہے، جھیگا گلی سے مری جانے والا راستہ ٹریفک کےلیے بند ہے۔سیاحوں نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ہمارے پاس پیسے ہیں نہ ہی کھانے کا کوئی انتظام ہے، کئی گھنٹے سے ہم برف میں پھنسے ہیں کوئی ادارہ نہیں پہنچا۔
کمشنر راولپنڈی عامر خٹک نے کہا ہےکہ مری میں برفباری کا سلسلہ پھر سے شروع ہوگیا ہے، راولپنڈی اسلام آباد سے مری کا داخلہ بند کردیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مری میں پھنسی گاڑیوں کو نکالنے کا ریسکیو آپریشن جاری ہے، شدید برف باری کے باعث سڑکیں پھسلن کا شکار ہیں۔عامر خٹک نے مزید کہا کہ برفباری میں صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور پولیس ریسکیو آپریشن میں شریک ہیں۔کمشنر راولپنڈی نے یہ بھی کہا کہ مری میں مواصلاتی نظام متاثر ہونے سے رابطوں میں دشواری ہے، برف میں پھنسے سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہے ہیں۔اُن کا کہنا تھا کہ سیاح مری میں غیر ضروری سفر سے گریز کریں، وزیر اعلیٰ پنجاب صورتحال کی خود نگرانی کررہی ہیں۔
’’عوام کی خوشیاں لوٹانے آئی ہوں ،6فروری کی رات بسنت فیسٹول کی لانچنگ،7فروری کو باقاعدہ آغازہوگا‘‘:وزیراعلیٰ مریم نواز کی زیر صدارت اجلاس ، اہم فیصلے
حکام کا کہنا ہے کہ مری میں پھنسے سیاحوں کو نکالنے کا عمل آدھا مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ مختلف شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں سے برف ہٹا دی گئی ہے تاکہ ٹریفک کی روانی بحال رہے۔انتظامیہ نے مزید سیاحوں کے مری میں داخلے پر پابندی برقرار رکھی ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے بچا جا سکے۔ شہریوں اور سیاحوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔ملکہ کوہسار میں شدید برفباری کے باعث اسلام آباد انتظامیہ نے مری جانے والے راستے صبح سے بند کر رکھے ہیں، مری ایکسپریس وے کے داخلے راستے پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں۔
محکمہ موسمیات نے اتوار سے منگل تک ملک کے مختلف علاقوں میں مزید بارش اور برفباری کی پیش گوئی کر دی
ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق مری میں شدید برف باری جاری ہے جس کے پیش نظر ایکسپریس وے پر موٹروے پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے ، موٹروے پولیس کے حکام این 75 پر جگہ جگہ مسافروں کی رہنمائی کیلئے موجود ہیں، برف ہٹانےوالی مشینری اور آلات بھی اپنے کام میں مصروف عمل ہیں، شہری موسمی حالات کے پیش نظر مری کے غیرضروری سفر سے گریز کریں۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کہ مری میں کہا کہ گئی ہے
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔