سردیوں میں بال زیادہ کیوں جھڑتے ہیں؟ وجہ اور علاج جانیے
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
سردیوں کا موسم جہاں گرم کپڑوں اور چائے کے مزے لے کر آتا ہے، وہیں بہت سے لوگوں کے لیے بالوں کے جھڑنے کی پریشانی بھی بڑھا دیتا ہے۔
کنگھی میں زیادہ بال نظر آنا، یا سر کی خشکی کا بڑھ جانا عام شکایات ہیں۔ ماہرین کے مطابق موسم کی تبدیلی، نمی کی کمی اور ہماری روزمرہ عادات اس مسئلے کو بڑھا سکتی ہیں۔ آیئے جانتے ہیں کہ سردیوں میں بال زیادہ کیوں جھڑتے ہیں اور اس سے بچاؤ کے آسان طریقے کیا ہیں۔
سرد موسم اور سر کی خشکی
سردیوں میں ہوا میں نمی کم ہوجاتی ہے، جس کا براہِ راست اثر سر کی جلد پر پڑتا ہے۔ خشک کھوپڑی میں خارش اور فلیکس بننے لگتے ہیں، جس سے بال کمزور ہو کر ٹوٹنے لگتے ہیں۔ گرم پانی سے بار بار بال دھونا بھی قدرتی تیل کو ختم کر دیتا ہے، نتیجتاً بالوں کی جڑیں مزید کمزور ہو جاتی ہیں۔
ہیٹر اور گرم ہوا کا نقصان
گھروں میں ہیٹر یا بلور استعمال کرنے سے فضا مزید خشک ہو جاتی ہے۔ مسلسل خشک ماحول میں رہنے سے کھوپڑی کی نمی برقرار نہیں رہتی اور بال بے جان ہونے لگتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال عارضی ہوتی ہے، مگر اگر احتیاط نہ کی جائے تو بالوں کا جھڑنا نمایاں ہو سکتا ہے۔
غذائی کمی اور پانی کم پینا
سردیوں میں پیاس کم لگنے کے باعث لوگ پانی کم پیتے ہیں، جس سے جسم میں پانی کی کمی ہو سکتی ہے۔ اس کے ساتھ اگر خوراک میں پروٹین، آئرن، زنک اور وٹامن ڈی کی مقدار کم ہو تو بالوں کی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔ متوازن غذا نہ صرف جسم بلکہ بالوں کی صحت کے لیے بھی ضروری ہے۔
ذہنی دباؤ اور نیند کی کمی
ذہنی دباؤ، بے ترتیب نیند اور سرد موسم کی سستی بھی ہارمونز پر اثر ڈال سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹریس کی وجہ سے بالوں کے قدرتی گروتھ سائیکل میں خلل آتا ہے، جس سے وقتی طور پر بال زیادہ جھڑنے لگتے ہیں۔
بالوں کا جھڑنا روکنے کے آسان طریقے
نرم شیمپو اور نیم گرم پانی استعمال کریں: سردیوں میں بال دھوتے وقت بہت زیادہ گرم پانی سے پرہیز کریں۔ ایسا شیمپو استعمال کریں جو موئسچر فراہم کرے اور سلفیٹس سے پاک ہو تاکہ بالوں کی قدرتی چکنائی محفوظ رہے۔
تیل سے مالش کو معمول بنائیں: ناریل، بادام یا زیتون کے تیل سے ہفتے میں دو بار ہلکی مالش خون کی گردش بہتر بناتی ہے اور بالوں کی جڑوں کو مضبوط کرتی ہے۔ چاہیں تو چند قطرے کیسٹر آئل بھی شامل کر سکتے ہیں۔
متوازن غذا اور پانی کی مقدار بڑھائیں: اپنی خوراک میں انڈے، مچھلی، دالیں، سبزیاں، گری دار میوے اور دہی شامل کریں۔ دن بھر مناسب مقدار میں پانی پینے کی عادت ڈالیں، چاہے سردی ہی کیوں نہ ہو۔
ہیومیڈیفائر کا استعمال: اگر گھر میں ہیٹر چلتا ہے تو کمرے میں ہیومیڈیفائر رکھنے سے ہوا میں نمی برقرار رہتی ہے، جو کھوپڑی اور جلد دونوں کے لیے فائدہ مند ہے۔
بالوں کو سختی سے باندھنے سے گری: ٹوپیاں یا اسکارف زیادہ تنگ نہ باندھیں اور گیلے بالوں کو فوراً کنگھی نہ کریں۔ نرم برش استعمال کریں تاکہ بال ٹوٹنے سے بچ سکیں۔
کب ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے؟
اگر بالوں کا جھڑنا مسلسل کئی ہفتوں تک برقرار رہے، سر میں شدید خارش یا زخم ہوں، یا اچانک بال بہت زیادہ گرنے لگیں تو ماہرِ جلد سے مشورہ لینا ضروری ہے۔ بعض اوقات یہ ہارمونل مسئلہ یا غذائی کمی کی علامت بھی ہو سکتا ہے۔
سردیوں میں بالوں کا جھڑنا اکثر موسم کی تبدیلی، خشکی اور معمولات میں فرق کی وجہ سے ہوتا ہے، مگر درست نگہداشت، متوازن غذا اور چند سادہ احتیاطی تدابیر اپنا کر اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ تھوڑی سی توجہ آپ کے بالوں کو سرد موسم میں بھی صحت مند اور مضبوط رکھ سکتی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سردیوں میں بال لگتے ہیں بالوں کی
پڑھیں:
کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
صدر مسلم لیگ (ن) نوازشریف(nawaz shrif) کا کہنا ہے کہ کسی پر تنقید کرکے،کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتا بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔
گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، حکومت ملنے پر کیوں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا؟
کیوں اس علاقے پر توجہ نہیں دی گئی؟ جب وزیراعظم تھا تو کئی بار گلگت آیا اور اسکردو گیا تھا، کئی برسوں بعد آپ سے گفتگو کرکے بہت خوشی ہورہی ہے۔
نوازشریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بننے سے بھی پہلے گلگت،اسکردو آیاتھا، گلگت، بلتستان، اسکردو سے مجھے دلی محبت ہے، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ گلگت کہاں ہے؟ میرا دل روتا ہے کہ آپ کا پیسہ آپ پر کیوں نہیں لگا یاگیا۔
صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کسی ایک پارٹی نے یہاں منصوبے کی بنیاد نہیں رکھی، جومیرےزمانے میں ایئرپورٹ تھا، آج بھی وہی ہے، شہبازشریف سے کہوں گا اس ایئرپورٹ کو بڑا کریں، جیٹ طیارے لینڈ کرنے اور ٹیک آف کی گنجائش پیدا کریں گے۔
نوازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں لواری ٹنل 70سال سے مکمل نہیں ہورہی تھی، ہم نے اربوں روپےخرچ کرکے لواری ٹنل مکمل کی، یہاں منصوبہ شروع ہوتا ہے تو مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا۔
گلگت بلتستان میں 10،10 اور12،12گھنٹےکی لوڈشیڈنگ منظور نہیں۔ ووٹ ملے نہ ملے، آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے۔
سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو یہاں ہر دوسرے تیسرے ماہ آتارہوں گا، اپنی نگرانی میں منصوبے مکمل کراؤں گا، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر آپ کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ تجارت بڑھنے پر گلگت بلتستان بہت خوشحال ہوجائے گا۔
مزید پڑھیں:پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
نوازشریف نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا؟ کیوں مجھے ملک چھوڑ کر جانا پڑا؟ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا۔ قصور آپ کا بھی ہے۔