بھارت: زہریلا پانی پینے سے 25 افراد ہلاک افراد، 24 یرقان میں مبتلا
اشاعت کی تاریخ: 23rd, January 2026 GMT
بھارت: بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں زہریلا پانی پینے سے ہونے والی بیماریوں اور ہلاکتوں کے واقعات میں تشویشناک اضافہ دیکھا گیا ہے، اندور شہر میں اب تک 25 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جبکہ مہو علاقے میں 24 افراد یرقان میں مبتلا ہو گئے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ متاثرہ افراد میں شدید پیٹ درد، قے اور دیگر سنگین علامات ظاہر ہوئی ہیں، جنہیں فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔ انتظامیہ نے فوری طور پر متاثرہ علاقوں میں پانی کے نمونے حاصل کر کے لیبارٹری میں جانچ کا آغاز کر دیا ہے اور مشتبہ پانی کے استعمال پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق متاثرہ علاقوں کے مکینوں نے شکایت کی ہے کہ کئی مقامات پر پانی کی پائپ لائنیں گندی نالیوں اور سیوریج کے قریب سے گزرتی ہیں اور کئی بار گندے پانی کی اطلاع دی جا چکی ہے، مگر حکومت کی جانب سے اب تک کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق مقامی انتظامیہ نے پانی کی سپلائی کا جائزہ لینا شروع کر دیا ہے اور شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ صرف اُبال کر یا فلٹر شدہ پانی استعمال کریں۔
مدھیہ پردیش حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ صاف پانی کی فراہمی اور صورتحال سے نمٹنے کے لیے 1.
ماہرین نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو مزید صحت کے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں، اور یہ بحران عوامی صحت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔