کراچی:

سکھن کے علاقے بھینس کالونی میں زمین کی کھدائی کے دوران بڑی تعداد میں اسلحہ اور گولیوں سمیت دیگر سامان برآمد ہوا۔

قائم مقام ایس ایس پی ڈسٹرکٹ ملیر زبیر نذیر نے بتایا کہ بھینس کالونی میں قائم ایک پلاٹ پر کام کے دوران مالک کی جانب سے کی جانے والی کھدائی کے دوران کچھ اسلحہ دکھائی دیا جس پر انہوں نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی۔

ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے موقع پر پہنچ کر جائے وقوع کو سیل  کیا، کھدائی کے دوران پرانا زنگ آلود اسلحہ اور گولیاں برآمد ہوئی ہیں اور اس حوالے سے مزید کھدائی کی جا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کھدائی کے دوران برآمد کیے جانے والے اسلحے میں ایک ایس ایم جی بمعہ 2 میگزین، ایم 16 رائفل بمعہ میگزین، ایس ایم جی 9 ایم ایم(Gepard ماڈل) بمعہ میگزین، جرمن ایم پی فور ایس ایم جی 9 ایم ایم بمعہ 2 میگزین، جرمن پستول بمعہ میگزین، ایک پستول بمعہ میگزین، 8 ایم ایم میگزین، 149 ایس ایم جی کارتوس، 44 کارتوس 3 بور ، 4 کارتوس ریپیٹر گن، ڈرم میگزین بمعہ 2 کارتوس، 19 راؤنڈ 8 ایم ایم اور ایک چھری ملی ہے۔

زبیر نذیر نے بتایا کہ برآمد کیے جانے والا اسلحہ فارنزک لیبارٹری بھیجوایا جا رہا ہے جبکہ اسلحہ زمین میں کس نے اور کب دفن کیا تھا اس حوالے سے تفتیش کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ اسلحہ برآمدگی کا مقدمہ بھی درج کیا جا رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کھدائی کے دوران بمعہ میگزین نے بتایا کہ ایس ایم جی ایم ایم

پڑھیں:

رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی

رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔

مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔

دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔

اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔

متعلقہ مضامین

  • رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • 27 مئی تا یکم جون عید تعطیلات، ریلوے کی آمدن میں خاطرہ خواہ اضافہ
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
  • واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد