برطانوی وزیراعظم نے نیٹو فوجیوں سے متعلق ٹرمپ بیان کو توہین آمیز قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
برطانیہ کے وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے افغانستان جنگ کے دوران غیر امریکی نیٹو افواج کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کی سخت مذمت کی ہے۔
غیرملکی خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ افغانستان میں غیر امریکی نیٹو فوجی محاذ جنگ سے پیچھے رہے تھے۔
کیئر اسٹارمر نے کہا کہ ’میں صدر ٹرمپ کے اس بیان کو توہین آمیز، اور سچ کہوں تو، انتہائی افسوسناک سمجھتا ہوں‘۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں اس بات پر حیرت نہیں کہ ان بیانات سے ملک بھر میں ’شدید دکھ اور تکلیف‘ کا احساس پیدا ہوا۔
برطانوی وزیرِ اعظم نے افغانستان میں ہلاک ہونے والے برطانوی مسلح افواج کے 457 اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ ان کی قربانی کو کبھی فراموش نہیں کرے گا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ بعض حلقے صدر ٹرمپ سے معافی کا مطالبہ کر رہے ہیں تو کیئر اسٹارمر نے اس مؤقف سے اتفاق کا اشارہ دیا تاہم انہوں نے براہِ راست معافی کا مطالبہ نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ’اگر میں نے اس طرح کی بات کی ہوتی یا ایسے الفاظ استعمال کیے ہوتے تو میں یقیناً معذرت کرتا‘۔
خیال رہے کہ جمعرات کو ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے تھا کہا کہ وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ اگر امریکا کو کسی بڑے خطرے کا سامنا ہو تو نیٹو اس کے دفاع کے لیے امتحان پر پورا اترے گا۔
ٹرمپ نے کہا کہ ’ہمیں کبھی ان کی ضرورت نہیں پڑی۔ وہ کہیں گے کہ انہوں نے افغانستان میں کچھ فوجی بھیجے اور بھیجے بھی، لیکن وہ ذرا پیچھے رہے، محاذِ جنگ سے کچھ دور‘۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل کہا کہ
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔