تلہار،بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دفتر میں مبینہ کرپشن
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تلہار( نمائندہ جسارت) تلہار شہر میں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دفتر میں مبینہ کرپشن، صحافیوں پر آفیس میں داخلے پر پابندی صحافتی امور کی انجام دہی میں رکاوٹ پیدا کرنا صحافیوں کے آئینی حقوق سے تصادم کے مترادف ہے صحافی برادری کی جانب سے انچارج بینظیر انکم سپورٹ پروگرام پر شدید تنقید۔تفصیلات کے مطابق تلہار کے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کے دفتر سے متعلق سامنے آنے والے سنگین الزامات محض انتظامی بدانتظامی تک محدود نہیں رہے بلکہ اب یہ معاملہ آئین، قانون اور عوامی حقوق سے براہِ راست ٹکراؤ کی صورت اختیار کر چکا ہیمستحق خواتین اور اْن کے ساتھ آنے والے مردوں کے بیانات کے مطابق، ہر سم کارڈ کے عوض پانچ سو روپے رشوت وصول کی جا رہی ہے، جبکہ رقم ادا نہ کرنے والی مستحق خواتین کو ‘‘قسط بند ہونے’’ کا جواز بتا کر دفتر سے واپس بھیجا جا رہا ہیان الزامات کی تصدیق یا تردید اور عوام کو اصل حقائق سے آگاہ کرنے کے لیے جب صحافی بینظیر انکم سپورٹ دفتر تلہار پہنچے تو انہیں دفتر کے بیرونی گیٹ پر پولیس اہلکار نے روک لیا استفسار کرنے پر بتایا گیا کہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر جواد ظفر جمالی کی ہدایات پر تلہار کے کسی بھی صحافی کو دفتر میں داخل ہونے یا کوریج کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے یہاں سوال یہ نہیں کہ صحافیوں کو کیوں حقیقی رپورٹنگ سے روکا جارہا ہے بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ عوامی خزانے سے چلنے والے ادارے پر لگنے والے الزامات کی اصل حقیقت جاننا ہر شہری کا بنیادی حق ہے ۔پاکستان کا آئین بھی صحافیوں کو سرکاری اداروں سے متعلق معلومات تک رسائی کا بنیادی حق فراہم کرتا ہے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کوئی نجی ادارہ نہیں بلکہ قومی خزانے سے چلنے والا ایک عوامی فلاحی پروگرام ہے، جس پر شفافیت اور جوابدہی قانونی طور پر لازم ہے۔ ایسے ادارے میں بغیر کسی تحریری حکم، عدالتی فیصلے یا قانونی نوٹیفکیشن کے میڈیا پر مکمل پابندی آئین کی روح کے منافی ہے اپنے قواعد و ضوابط اور آپریشنل گائیڈ لائن کے BISPمستحق افراد سے سہولت کے بدلیکسی قسم کی رقم وصول کرنا غیرقانونی عمل ہے اگر اس قسم کے الزامات مسلسل BISP آفیس کے عملے پر لگ رہے ہیں تو انہیں ان الزامات کا جواب دینا لازمی ہیگزشتہ دنوں دفتر کے باہر موجود صحافیوں کے سامنے مستحق خواتین کے وہ بیانات بھی سامنے آئے جن میں کہا گیا کہ اْن کی قسط بند کر دی گئی ہے، جبکہ خواتین روتے ہوئے احتجاج کر رہی تھیں کہ ماضی میں نام کٹنے کے باوجود قسط ملتی رہی، اب سم کارڈ کے نام پر رقم طلب کی جا رہی ہے۔ صحافیوں پر عائد کی گئی غیر قانونی پابندی کو فی الفور ختم کر کے ان صحافتی خدمات انجام دینے کا موقع دیا جائے صحافی برادری کا مطالبہ۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بینظیر انکم سپورٹ پروگرام
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔