data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ٹنڈوجام (نمائندہ جسارت ) گولارچی کے سینئر صحافی کے خلاف کوٹ لالو میں مقدمہ درج کیے جانے کے خلاف آل پاکستان مری اتحاد کی جانب سے ٹنڈوجام پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ مظاہرے میں آل پاکستان مری اتحاد کے رہنماؤں اور کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی اگر مقدمہ واپس نہیں لیا گیا تو سندھ بھر میں مظاہرے کیے جائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق گولارچی کے سینئر صحافی مہر الدین مری عوام کی جرأت مندانہ نمائندگی کرنے اور ان کے مسائل پر آواز اُٹھانے پر با اثر افراد کے اشاروں پر ان کی آواز دبانے کے لیے ایس ایس او گورلاچی مسلسل ان پر جھوٹے مقد مات درج کرکے انہیں پریشان کر رہا ہے۔ یہ بات پریس کلب ٹنڈوجام کے سامنے مظاہرہ کرتے ہوئے میرہ خان مری، وزیر خان مری، محب علی مری، میر محمد مری اور مٹھا خان مری نے کہی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ بھر میں صحافیوں کو خاموش کرانے کے لیے جھوٹے اور من گھڑت مقدمات درج کرنے کا سلسلہ جاری ہے، جو آزادی صحافت کے لیے شدید خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوٹ لالو کے ایس ایچ او کی جانب سے گولاڑچی پریس کلب کے سابق صدر اور معروف صحافی مہرالدین مری کے خلاف ڈیوٹی میں رکاوٹ، اغوا اور جان سے مارنے جیسے سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا جانا سراسر زیادتی اور بدنیتی پر مبنی اقدام ہے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ صحافی مہرالدین مری ایک بااصول اور نڈر صحافی ہیں جو ہمیشہ قلم کے ذریعے حق اور سچ کی آواز بلند کرتے رہے ہیں ان کے خلاف خیرپور میرس ضلع کے شہر کوٹ لالو میں اس نوعیت کا مقدمہ درج ہونا سمجھ سے بالاتر ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ کارروائی صحافت کا گلا گھونٹنے کی کوشش ہے انہوں نے آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو سے مطالبہ کیا کہ صحافی مہرالدین مری کے خلاف درج کیا گیا جھوٹا مقدمہ فوری طور پر ختم کر کے اس میں ملوث ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔

نمائندہ جسارت گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے خلاف

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل