جیکب آباد ، سیپکو سٹی ون فیڈر پر اضافی بجلی کی بندش ، صارفین پریشان
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
جیکب آباد (نمائندہ جسارت)جیکب آباد سیپکو سٹی ون فیڈر پر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے قبل اور بعد بجلی بند رہنے کی شکایات، ذمہ داری پی ڈی سی سکھر پر ڈال دی گئی۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد میں سیپکو سٹی ون فیڈر پر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے شیڈول سے ہٹ کر بجلی کی فراہمی شہریوں کے لیے شدید اذیت بن گئی۔ صارفین کی جانب سے شکایات سامنے آئی ہیں کہ مقررہ لوڈشیڈنگ سے کم از کم 15 منٹ قبل بجلی بند کر دی جاتی ہے جبکہ لوڈشیڈنگ ختم ہونے کے بعد بھی 15 منٹ یا اس سے زائد وقت تک بجلی بحال نہیں کی جاتی، جس سے مجموعی بندش دورانیہ غیر اعلانیہ طور پر بڑھ جاتا ہے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ اس اضافی بندش کے باعث گھریلو زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے، کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں جبکہ طلبہ، مریضوں اور بزرگ شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ متعدد صارفین نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ عمل روزانہ کی بنیاد پر معمول بن چکا ہے اور متعلقہ حکام شکایات کے ازالے میں ناکام دکھائی دیتے ہیں۔دوسری جانب گرڈ حکام کا مؤقف ہے کہ سٹی ون فیڈر پر یہ عمل پی ڈی سی سکھر کے احکامات پر کیا جا رہا ہے، ان کے بقول گرڈ سطح پر از خود بجلی بند کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا جاتا۔ تاہم جب اس حوالے سے پی ڈی سی سکھر سے رابطہ کیا گیا تو وہاں سے واضح طور پر کہا گیا کہ ان کی جانب سے کسی قسم کی فورس لوڈشیڈنگ یا مقررہ شیڈول سے ہٹ کر بجلی بند کرنے کی ہدایت جاری نہیں کی گئی۔پی ڈی سی سکھر کی تردید اور گرڈ حکام کے دعوؤں کے بعد معاملہ مزید الجھ گیا ہے، جبکہ متاثرہ شہری سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر فورس لوڈشیڈنگ نہیں ہو رہی تو پھر مقررہ وقت سے پہلے اور بعد بجلی کیوں بند رکھی جاتی ہے؟ شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ داران کا تعین کر کے شفاف تحقیقات کی جائیں اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا فوری نوٹس لے کر سٹی ون فیڈر کے صارفین کو ریلیف فراہم کیا جائے، بصورت دیگر احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: سٹی ون فیڈر پر پی ڈی سی سکھر جیکب ا باد بجلی بند
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔