ڈی ایچ اے 26 اسٹریٹ: برقعہ پوش خاتون گینگ کی سرِ عام لوٹ مار
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) شہر قائد کے محفوظ تصور کیے جانے والے علاقے ڈیفنس میں اسٹریٹ کرائم کی ایک تشویشناک واردات سامنے آئی ہے، جہاں برقعہ پوش لٹیری خاتون نے اپنے مسلح گینگ کے ہمراہ ایک کار سوار کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ تاہم کار سوار کی حاضر دماغی نے اسے بڑی لوٹ مار اور جانی نقصان سے بچا لیا۔تفصیلات کے مطابق، درخشاں کے علاقے ڈیفنس کی مصروف شاہراہ 26 اسٹریٹ پر دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار ملزمان، جن میں ایک برقعہ پوش خاتون بھی شامل تھی، نے ایک کار کو رکنے کا اشارہ کیا۔ کار سوار نے عام شہری سمجھ کر گاڑی روک لی لیکن جیسے ہی گاڑی رکی، موٹر سائیکل سوار ملزم نے اسلحہ نکال لیا اور ڈرائیور کی سمت (الٹی سائیڈ) پہنچ گیا۔ڈاکو کو اسلحہ تانے اپنی جانب بڑھتا دیکھ کر کار سوار نے حواس برقرار رکھے اور جیسے ہی ملزم گاڑی کے بالکل قریب پہنچا، ڈرائیور نے گاڑی کی رفتار بڑھاتے ہوئے اسے وہاں سے دوڑا دیا۔ اس اچانک ردِعمل کے باعث ڈاکوؤں کا گینگ دنگ رہ گیا اور شہری خوش قسمتی سے ان کے چنگل سے نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔شہریوں نے اس واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ واقعہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کار سوار
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک