کیوبا کو تیل کی فراہمی روکنے کا امریکی منصوبہ، حکومت کو دباؤ میں لانے کی کوشش
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
امریکا کی جانب سے کیوبا پر تیل کی مکمل ناکہ بندی عائد کرنے کے امکان نے خطے میں نئی کشیدگی کو جنم دے دیا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق واشنگٹن کیوبا کی تیل تک رسائی روک کر صدر میگوئل دیاز کینیل کی حکومت کو شدید دباؤ میں لانا چاہتا ہے، جبکہ اس مقصد کے لیے اندرونی عناصر کی تلاش بھی جاری ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیاں، کیوبا کے صدر نے امریکا کے ساتھ مذاکرات سے انکار کردیا
امریکی جریدے پولیٹیکو کے مطابق کیوبا پر تیل کی مکمل پابندی کا منصوبہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے بعض سخت گیر ناقدین کی جانب سے آگے بڑھایا جا رہا ہے، جسے وزیر خارجہ مارکو روبیو کی حمایت حاصل ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے تاحال اس منصوبے پر حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ ذرائع کے مطابق اس اقدام کا مقصد کیوبا کی حکومت کو اس حد تک دباؤ میں لانا ہے کہ وہ کام کرنے کے قابل نہ رہے۔
گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ وینزویلا کا تیل کیوبا پہنچنے سے روکا جائے گا، تاہم مکمل ناکہ بندی کی صورت میں کیوبا کو 1960 کی دہائی کے بعد سب سے سنگین صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کیوبا پہلے ہی دہائیوں سے امریکی تجارتی پابندیوں کی زد میں ہے، تاہم 1962 کے کیوبا میزائل بحران کے بعد پہلی بار کسی امریکی بحری ناکہ بندی کا امکان سامنے آیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا بمقابلہ کیوبا اور وینزویلا: تعلقات میں کشیدگی کی اصل وجوہات کیا ہیں؟
دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ رواں سال کے اختتام تک کیوبا میں حکومت کی تبدیلی کی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق امریکی حکام میامی اور واشنگٹن میں کیوبن جلاوطن افراد اور سول سوسائٹی گروپس سے ملاقاتیں کر رہے ہیں تاکہ کیوبا کے اندر کسی ایسے سرکاری عہدیدار کی نشاندہی کی جا سکے جو واشنگٹن سے معاہدہ کرنے پر آمادہ ہو۔ پولیٹیکو کے ذرائع نے بھی اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر دیاز کینیل کو ہٹانے کا منصوبہ مکمل طور پر 2026 سے جڑا ہوا ہے۔
صدر دیاز کینیل نے امریکی دباؤ اور دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کیوبا ایک آزاد، خودمختار اور خود فیصلہ کرنے والا ملک ہے، جس پر کوئی بیرونی طاقت اپنی مرضی مسلط نہیں کر سکتی۔ دوسری جانب روس نے بھی کیوبا کے خلاف امریکی بیانات اور ممکنہ اقدامات کی مذمت کی ہے۔ روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا ہے کہ امریکا دہائیوں سے کیوبا کو غیر قانونی پابندیوں کے ذریعے نشانہ بناتا آ رہا ہے اور دھمکیوں کی زبان ناقابل قبول ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا تیل ناکہ بندی کیوبا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی اس )امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیو نے متنبہ کیا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کے ساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی۔امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے منیلا میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے ایران کے ساتھ ڈیل کی پاسداری کی، ایران اس وقت امریکا کے ساتھ ڈیل کے لیے تیار نہیں، ممکن ہے کہ اگلے چند دنوں میں اپنا مقف تبدیل کر لے، انہوں نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ صورتحال برقرار رہی تو ایران کو اس کی بھاری قیمت چکانا ہوگی۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا جب بھی ایران امریکا ڈیل ہوتی ہے اسے ایران کو چلانے والے لوگ خراب کردیتے ہیں، انہوں نے دعوی کیا کہ ایران اب بھی ڈیل کے لیے براہِ راست اور بالواسطہ درخواستیں کر رہا ہے، ایران چاہے تو مشرق وسطی کا امیر ترین ملک بن سکتا ہے لیکن اسے چلانے والے انتہا پسند مذہبی رہنماں کو معاشی معاملات کا علم ہی نہیں، انہیں دلچسپی حزب اللہ، حماس، حوثیوں اور دیگر ملیشیاں کو رقومات دینے میں ہے جن کی سرپرستی میں دہشت گردی ہوتی ہے ۔
مارکو روبیو کا حوثیوں کے حوالے سیکہنا تھا کہ ایران نے حوثیوں کو اس تنازع میں شامل کردیا ہے، اب دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، امید ہیحوثی حملے روک دیں گے۔مارکو روبیو نے سعودی عرب کو امریکا کا اہم اسٹریٹجک شراکت دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنا قابل فہم ہے، مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ سعودی عرب پر امن سول جوہری پروگرام چاہتا ہے، سعودی عرب یا دیگر ممالک کے ساتھ کسی بھی سول جوہری معاہدے میں حفاظتی اقدامات شامل ہوں گے، سول جوہری معاہدے کانگریس کی منظوری سے ہوں گے۔
مارکوروبیو کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عالمی فوجداری عدالت میں پاگل اورجنونی لوگ ہیں، امریکا اس کا حصہ نہیں بنے گا، اگر اگر لوگ اس احمق تنظیم کا حصہ بننا چاہتے ہیں تو وہ ایسا کر سکتے ہیں لیکن ہم اس کا حصہ نہیں بنیں گے اور وہ امریکی شہریوں پر اپنے دائرہ اختیار کا اطلاق نہیں کر سکیں گے۔ یوکرین روس جنگ سے متعلق امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ روس یوکرین جنگ میں بہت خونریزی ہوئی، یوکرین نے اس کی بہت بھاری قیمت اداکی ہے، امریکا یوکرین جنگ کے خاتمیکے لیے تعمیری کردارادا کرنیکے لیے تیار ہے۔ چین کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے مارکوروبیو کا کہنا تھا کہ چین کیساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا اگلی خبرپاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم