جہانگیر نگر یونیورسٹی میں ہجرت کرنے والے پرندوں کی آمد میں تیزی سے کمی
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
بنگلہ دیش کے جہانگیر نگر یونیورسٹی کیمپس میں اس موسمِ سرما صرف تقریباً 1,500 ہجرتی پرندے ریکارڈ کیے گئے، جو گزشتہ سالوں کے 6,000 سے 7,000 پرندوں کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔ ماہرین اس کمی کو ماحولیاتی نظام کی بگڑتی صورتحال کی علامت قرار دے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:بحالی کے بعد 63 سمندری پرندے جدہ کے ساحل پر آزاد
رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی کے جھیلوں اور پانی کے ذخائر میں پرندوں کی کمی کی وجہ انسانی دباؤ، غیر منصوبہ بند تعمیرات، ایکوی کلچر کے لیے جھیلوں کی لیز، شور و روشنی کی آلودگی اور قدرتی خوراک کے ذرائع کا نقصان ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ارد گرد کے علاقے میں تالابوں اور قدرتی مسکن کی حفاظت نہ کی گئی تو یہ کمی مستقل ہو سکتی ہے اور یونیورسٹی کی جھیلوں کا مشہور ہجرتی پرندوں کا موسمِ سرما ختم ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش جہانگیر نگر یونیورسٹی ہجرتی پرندے.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش جہانگیر نگر یونیورسٹی ہجرتی پرندے
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔