Express News:
2026-06-02@22:17:51 GMT

اگر یہ علامات ظاہر ہوں تو وٹامن ڈی لینا فوراً ترک کردیں

اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT

وٹامن ڈی ہڈیوں اور دیگر جسمانی نظاما کیلئے انتہائی ضروری ہے اور اس کی کمی انسانی صحت کو شدید متاثر کرسکتی ہے لیکن کچھ علامات ایسی ہیں جس میں وٹامن ڈٰی لینا خطرناک ہوجاتا ہے۔

ذیل میں ایسی علامات درج کی جارہی ہیں: 

1) متلی، الٹی یا بھوک کا ختم ہو جانا

2) بہت زیادہ پیاس لگنا اور بار بار پیشاب آنا

3) چکر آنا، کمزوری یا تھکن

4) سر درد یا الجھن / کنفیوژن

5) قبض

6) دل کی دھڑکن بے ترتیب ہونا

7) ہڈیوں یا پٹھوں میں درد

8) خون میں کیلشیم کا بڑھ جانا (Hypercalcemia)، جو گردوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے

اصل میں وٹامن ڈی چکنائی میں حل ہونے والا وٹامن ہے، یعنی جسم میں جمع ہو سکتا ہے۔
بغیر ٹیسٹ کے یا زیادہ ڈوز (مثلاً 50,000 IU بار بار) لینے سے خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اگر یہ مذکورہ بالا علامات ظاہر ہوں تو وٹامن ڈی لینا فوراً بند کردیں اور ڈاکٹر سے رجوع کریں۔

علاوہ ازیں بلڈ ٹیسٹ (25-OH Vitamin D, Calcium) کروائیں اور مستقبل میں صرف ڈاکٹر کے مشورے سے درست خوراک لیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: وٹامن ڈی

پڑھیں:

نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹو 

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔

لاہور ہائیکورٹ: درست ویزا، ٹکٹ اور سفری دستاویزات والے مسافر کو آف لوڈ کرنا غیر قانونی قرار

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔

عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ