رواں سال کی پہلی قومی انسداد پولیو مہم 2 فروری سے شروع ہوگی
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو عائشہ رضا فاروق نے سال 2026 کی پہلی قومی پولیو مہم کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ مہم 2 فروری سے 8 فروری تک جاری رہے گی،
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسدادِ پولیو عائشہ رضا فاروق نے بتایا ہے کہ سال 2026 کی پہلی قومی پولیو مہم کے دوران ملک بھر میں چار کروڑ پچاس لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، یہ مہم پاکستان کو پولیو سے مکمل طور پر پاک بنانے کی سمت ایک اہم اور فیصلہ کن قدم ہے۔
عائشہ رضا فاروق نے کہا کہ اس قومی مہم میں چار لاکھ سے زائد تربیت یافتہ پولیو ورکرز حصہ لیں گے جو گھر گھر جا کر بچوں کو حفاظتی قطرے پلائیں گے، فیلڈ میں موجود عملہ نہ صرف پیشہ ورانہ تربیت سے آراستہ ہے بلکہ قومی فریضے کے جذبے کے تحت اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہا ہے، تاکہ کوئی بچہ پولیو کے خطرے سے محروم نہ رہ جائے۔
فوکل پرسن نے والدین سے اپیل کی کہ وہ ہر انسدادِ پولیو مہم میں اپنے بچوں کو لازمی طور پر قطرے پلوائیں اور پولیو ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں، چند لمحوں کی احتیاط بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے محفوظ بنا سکتی ہے، اس لیے کسی بھی قسم کی کوتاہی مستقبل کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر تمام متعلقہ ادارے پولیو کے خاتمے کے لیے مکمل ہم آہنگی اور یکجہتی کے ساتھ کام کر رہے ہیں جبکہ حکومتِ پاکستان اس موذی مرض کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہے، پولیو کے خلاف جنگ میں سرکاری اقدامات کے ساتھ ساتھ عوامی شمولیت بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔
عائشہ رضا فاروق نے اس موقع پر علمائے کرام اور ذرائع ابلاغ کے کردار کو بھی نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں شعور اجاگر کرنے کے لیے ان طبقات کی آواز مؤثر ثابت ہو سکتی ہے، میڈیا اور مذہبی رہنما پولیو سے متعلق درست معلومات عام کریں تاکہ ہر بچے تک حفاظتی قطرے پہنچ سکیں اور پاکستان کو پولیو فری ملک بنانے کا خواب حقیقت میں بدلا جا سکے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عائشہ رضا فاروق نے پولیو مہم بچوں کو
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدہ ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت سے مشروط کر دیا
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ مجوزہ سول جوہری معاہدے کومعاہدہ ابراہیمی (Abraham Accords) میں سعودی شمولیت سے مشروط کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ معاہدے کے تحت سعودی عرب کو کسی بھی صورت یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان زیر غور سول جوہری معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام ایران، متحدہ عرب امارات اور دیگر ممالک کے سول جوہری پروگراموں کی طرز پر ہوگا، تاہم اس میں یورینیم افزودگی کی اجازت شامل نہیں ہوگی۔
امریکی صدر نے کہا کہ معاہدے کی منظوری ضرور دی جائے گی، لیکن اس کی بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت اور باہمی احترام پر مبنی معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔ ان کے مطابق امریکا کو ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں جو مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں اور جن میں یورینیم افزودہ نہ کیا جائے۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر سعودی عرب معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہوتا ہے تو یہ مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ہوگی۔ بیان میں کہا گیا کہ حالیہ علاقائی پیش رفت کے بعد خطے میں امن کے دائرے کو مزید وسعت دینے کا موقع پیدا ہوا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
ادھر امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب کے ساتھ 30 سالہ سول جوہری معاہدے کی اصولی منظوری دے چکے ہیں، جسے اب کانگریس کی منظوری درکار ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق اس معاہدے کی مالیت کئی ارب ڈالر ہو سکتی ہے اور اس کے ذریعے سعودی عرب کو جوہری توانائی کی جدید ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہوگی۔
تاہم اسرائیل میں اس مجوزہ معاہدے پر تحفظات بھی سامنے آئے ہیں۔ سابق اسرائیلی وزیر دفاع اویگدور لائبرمین نے اسے اسرائیل کے لیے اسٹریٹیجک خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر فوجی جوہری پروگرام کی ابتدا سول جوہری پروگرام سے ہوتی ہے اور اگر سعودی عرب کو اپنی سرزمین پر یورینیم افزودگی کی اجازت دی گئی تو اس سے مشرق وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ معاہدہ ابراہیمی کا آغاز 2020 میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں ہوا تھا، جس کا مقصد اسرائیل اور مختلف عرب و مسلم ممالک کے درمیان سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعلقات کو فروغ دینا تھا۔ اس معاہدے کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لا چکے ہیں، جبکہ سعودی عرب کی ممکنہ شمولیت کو خطے کی سفارتی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔