وزیراعظم واپس آکر بورڈ آف پیس پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں گے، رانا ثنا اللہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
اسلام آباد(آ ئی این پی )وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم وطن واپس آکر بورڈ آف پیس پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں گے، یہ تاثر درست نہیں کہ صرف کراچی کما کر دیتا ہے، پورے ملک کا امپورٹ ایکسپورٹ کراچی سے ہوتا ہے اور محصولات بھی وہیں جمع ہوتی ہیں۔
ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ صرف کراچی میں نہیں پورے ملک میں کاروبار ہوتا ہے، امپورٹ ایکسپورٹ ہوتی ہے، اسی طرح کراچی میں تمام بینکوں کے مرکزی دفاتر ہیں مگر بینکوں کی کمائی پورے ملک سے ہوتی ہے۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ یہ پورے ملک کا پیسہ ہوتا ہے تو ریونیو کی صورت جمع ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے بلدیاتی قانون پر تجویز وفاق تک پہنچائی ہے، آگے کوئی بات ہوگی تو دیکھیں گے۔
پاکستان اور صومالیہ کے درمیان سفارتی پاسپورٹ رکھنے والوں کے لیے ویزا کی شرط ختم کرنے کا معاہدہ ہوگیا
ایک سوال کے جواب میں رانا ثنا نے کہا کہ وزیراعظم شہبازشریف بیرون ملک سے واپس آکر بورڈ آف پیس پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں گے، کابیہ سے منظوری، پارلیمنٹ کو اعتماد میں بعد میں لینا بھی جمہوری عمل ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان سمیت 8 ممالک نے غزہ میں آگ بجھانے کی کوشش کی اور کسی حد تک کامیاب ہوئی ہے، سیز فائر معاہدے پر عملدرآمد نہیں کرنا تو پھر کیا کرنا ہے؟ بورڈ آف پیس کے ذریعے مثبت اقدامات ہوں تو اچھی بات ہے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔