Daily Mumtaz:
2026-06-02@22:27:57 GMT

بھارتی فلم ’حق‘ کی پاکستان میں تعریفیں کیوں ہو رہی ہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT

بھارتی فلم ’حق‘ کی پاکستان میں تعریفیں کیوں ہو رہی ہیں؟

نیٹ فلکس پر ریلیز ہونے والی بھارتی فلم ’حق‘ ان دنوں نہ صرف بھارت بلکہ پاکستان میں بھی غیر معمولی توجہ حاصل کر رہی ہے۔

1985 کے انڈین شاہ بانو کیس سے متاثر اس عدالتی ڈرامے نے پاکستانی ناظرین، فنکاروں اور سوشل میڈیا صارفین کو اس لیے چونکا دیا ہے کیونکہ فلم میں مسلم خواتین کے حقوق، طلاق اور نان و نفقہ جیسے حساس موضوعات کو غیر جانبدار اور حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

عمران ہاشمی اور یامی گوتم کی فلم ’حق‘ محض ایک عدالتی ڈراما نہیں بلکہ بھارت کی تاریخ کے ایک انتہائی اہم اور متنازع قانونی مقدمے، شاہ بانو کیس، سے متاثر ہے۔

فلم کی کہانی ایک مسلم خاتون کی جدوجہد پر مبنی ہے جو طلاق کے بعد اپنے بنیادی حقوق اور مالی کفالت کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے۔

یہ مقدمہ 1970 کی دہائی کے آخر میں اُس وقت سامنے آیا جب اندور سے تعلق رکھنے والی شاہ بانو نے اپنے شوہر محمد احمد خان کے خلاف سپریم کورٹ میں نان نفقہ (الیمونی) کا دعویٰ دائر کیا۔

شوہر کا مؤقف تھا کہ مسلم پرسنل لا کے تحت وہ صرف عدت کی مدت تک ہی کفالت کا پابند ہے، جبکہ شاہ بانو نے فوجداری قانون کی دفعہ 125 کے تحت مستقل مالی مدد کا مطالبہ کیا۔

مرکزی کردار میں یامی گوتم کی اداکاری کو پاکستان میں خاص طور پر سراہا جا رہا ہے.

جبکہ عمران ہاشمی نہ صرف ان کے شوہر ’عباس‘ بلکہ عدالت میں مخالف وکیل کا کردار بھی نبھاتے دکھائی دیں گے۔

یامی گوتم نے شازیہ کا کردار ادا کیا ہے، جو اپنے شوہر (عمران ہاشمی) کے خلاف حق کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے۔جبکہ عمران ہاشمی کے منفی کردار نے بھی ناظرین پر گہرا اثر چھوڑا ہے۔

ناظرین نے فلم کی سادگی، حقیقت پسندانہ انداز اور جذباتی توازن کو بھی پسند کیا۔ یامی گوتم کے کردار کو نہ حد سے زیادہ معصوم دکھایا گیا اور نہ ہی کمزور، جبکہ عمران ہاشمی کے منفی کردار نے ناظرین کو بے چین کر دیا اور یہی اس کردار کی کامیابی سمجھی گئی۔

ہدایتکار سوپرن ایس ورما کی یہ فلم ریلیز کے چند ہی دنوں میں نیٹ فلکس انڈیا پر نمبر ون پر پہنچ گئی اور بعد ازاں نان انگلش فلموں کی عالمی فہرست میں دوسرے نمبر تک جا پہنچی۔

صرف دوسرے ہفتے میں فلم نے 45 لاکھ ویوز حاصل کیے، جو اس کی مضبوط کہانی اور متاثر کن اداکاری کا ثبوت ہے۔

بھارت میں کامیابی کے چند ہی دن بعد ’حق‘ نیٹ فلکس پاکستان پر ٹرینڈ کرنے لگی اور جلد ہی ٹاپ پوزیشن پر پہنچ گئی۔

سوشل میڈیا پر کئی اداکاروں، وکلا، رائٹرز اور عام ناظرین نے فلم پر کھل کر اظہارِ خیال کیا۔

پاکستانی اداکارہ اور پروڈیوسر فضیلہ قاضی نے فلم کو جذباتی طور پر متاثر کن قرار دیتے ہوئے یامی گوتم کی اداکاری کی تعریف کی۔

جبکہ اداکارہ اور وکیل مریم نور نے فلم کا موازنہ پاکستانی ڈراموں سے کرتے ہوئے لکھا کہ ایک بھارتی فلم نے اسلامی طلاق اور خاندانی نظام کو زیادہ درست انداز میں پیش کیا ہے، جو لمحۂ فکریہ ہے۔

ڈاکٹر اور سوشل میڈیا انفلوئنسر ڈاکٹر اعجاز وارث نے فلم کی فنی ساخت اور مجموعی اثرات پر تفصیلی رائے دیتے ہوئے کہا کہ فلم کا اسکرپٹ مضبوط ہے، ہدایت کاری پُراعتماد محسوس ہوتی ہے اور کہانی کہیں بھی زبردستی نہیں لگتی۔ تمام شعبوں کی ہم آہنگی ’حق‘ کو ایک عمدہ طور پر تیار کی گئی فلم بناتی ہے، جو ناظرین کو آخر تک جوڑے رکھتی ہے اور گہرا اثر چھوڑتی ہے۔

 

View this post on Instagram

 

Shared post on Time

Televizia

پاکستانی ناظرین نے بھی فلم کو بے حد پسند کیا اور کھل کر اس کی تعریف کی۔

سوشل میڈیا پر ایک ناظر نے لکھا کہ فلم اتنی دل گرفتہ تھی کہ پلک جھپکنے کا موقع نہیں ملا اور یہ ہر عورت کے دل کو چھو لینے والی کہانی ہے۔

ایک اور صارف کا کہنا تھا کہ اچھا کام سرحدوں کا محتاج نہیں ہوتا، جو دل کو چھو جائے اس کی تعریف ہونی چاہیے۔

ایک مداح نے جذباتی انداز میں لکھا کہ انہوں نے فلم دیکھتے ہوئے کئی بار آنسو بہائے اور اگرچہ وہ عام طور پر بھارتی مواد نہیں دیکھتے، مگر یہ فلم دیکھنا ضروری محسوس ہوئی۔

ایک اور پاکستانی ناظر نے اداکاری کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ فلم نہایت خوبصورتی سے پیش کی گئی ہے اور بعض عدالتی مناظر میں یامی گوتم نے انہیں بے نظیر بھٹو کی یاد دلائی۔

تاہم چند ناظرین نے اس بات پر بحث بھی کی کہ فلم میں اور بھی بہت کچھ دکھایا گیا ہے جو غلط ہے۔

اس کے باوجود مجموعی رائے یہی رہی کہ فلم ایک مضبوط، بامقصد اور اثر انگیز پیغام دینے میں کامیاب رہی۔

ناظرین کے مطابق فلم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ کسی ایک فریق کو مکمل طور پر فرشتہ یا شیطان نہیں بناتی، بلکہ حقیقت کے قریب رہتے ہوئے خواتین کے قانونی اور سماجی مسائل کو سامنے لاتی ہے۔ یہی غیر جانبداری اور سچائی پاکستانی ناظرین کو متاثر کر رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ’حق‘ کی مقبولیت اس بات کی بھی عکاس ہے کہ پاکستانی ناظرین اب ایسے مواد کو سراہ رہے ہیں جو تفریح کے ساتھ سماجی شعور بھی اجاگر کرے۔

فلم نے طلاق، نان و نفقہ اور خواتین کے حقوق جیسے موضوعات پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے، جو پاکستان میں پہلے ہی حساس اور زیرِ بحث رہے ہیں۔

اگرچہ فلم کی بنیاد ایک بھارتی قانونی کیس پر ہے، مگرمسائل مشترک ہیں اور سوال وہی ہیں جو پاکستانی معاشرے میں بھی اکثر نظرانداز کر دیے جاتے ہیں۔

مذہب، خاندان، قانون اور پدر شاہی نظام کے بیچ پسی ہوئی عورت کی جدوجہد دنیا کے کئی معاشروں کی مشترکہ کہانی ہے اور یہی بھارتی فلم ’حق‘ کی پاکستان میں مقبول ہونے کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پاکستانی ناظرین عمران ہاشمی پاکستان میں سوشل میڈیا بھارتی فلم یامی گوتم کی تعریف شاہ بانو فلم کی کہ فلم نے فلم ہے اور

پڑھیں:

کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

صدر مسلم لیگ (ن) نوازشریف(nawaz shrif) کا کہنا ہے کہ کسی پر تنقید کرکے،کسی کی برائی کرکے ووٹ نہیں مانگتا بلکہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔

گلگت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ کسی پارٹی یا حکومت کے خلاف بات نہیں کرنا چاہتا، حکومت ملنے پر کیوں اس علاقے کو نظر انداز کیا گیا؟

کیوں اس علاقے پر توجہ نہیں دی گئی؟ جب وزیراعظم تھا تو کئی بار گلگت آیا اور اسکردو گیا تھا، کئی برسوں بعد آپ سے گفتگو کرکے بہت خوشی ہورہی ہے۔

نوازشریف نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیراعظم بننے سے بھی پہلے گلگت،اسکردو آیاتھا، گلگت، بلتستان، اسکردو سے مجھے دلی محبت ہے، جس گلگت کو میں جانتا تھا وہ گلگت کہاں ہے؟ میرا دل روتا ہے کہ آپ کا پیسہ آپ پر کیوں نہیں لگا یاگیا۔

صدر مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ کسی ایک پارٹی نے یہاں منصوبے کی بنیاد نہیں رکھی، جومیرےزمانے میں ایئرپورٹ تھا، آج بھی وہی ہے، شہبازشریف سے کہوں گا اس ایئرپورٹ کو بڑا کریں، جیٹ طیارے لینڈ کرنے اور ٹیک آف کی گنجائش پیدا کریں گے۔

نوازشریف کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں لواری ٹنل 70سال سے مکمل نہیں ہورہی تھی، ہم نے اربوں روپےخرچ کرکے لواری ٹنل مکمل کی، یہاں منصوبہ شروع ہوتا ہے تو مکمل ہونے کا نام نہیں لیتا۔

گلگت بلتستان میں 10،10 اور12،12گھنٹےکی لوڈشیڈنگ منظور نہیں۔ ووٹ ملے نہ ملے، آپ کو ان چیزوں سے محروم نہیں کرسکتے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت آئی تو یہاں ہر دوسرے تیسرے ماہ آتارہوں گا، اپنی نگرانی میں منصوبے مکمل کراؤں گا، تمام اسٹیک ہولڈرز کو بٹھا کر آپ کے حق میں فیصلہ کریں گے۔ تجارت بڑھنے پر گلگت بلتستان بہت خوشحال ہوجائے گا۔

مزید پڑھیں:پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم

نوازشریف نے کہا کہ مجھے کیوں نکالا؟ کیوں مجھے ملک چھوڑ کر جانا پڑا؟ کیوں مجھے جیلوں میں ڈالا گیا۔ قصور آپ کا بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • عشق پاکستانی نوجوان کو ایل او سی کے پار لے گیا
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • پاکستان میں ڈالر مستحکم، پاؤنڈ اور یورو سمیت بڑی کرنسیوں کے تازہ ریٹس جاری
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟