کراچی میں یخ بستہ ہواؤں سے سردی کی شدت میں اضافہ، شہری ٹھٹھر کر رہ گئے
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
کراچی میں سائبیریا سے آنے والی یخ بستہ ہواؤں کے باعث سردی کی شدت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور شہری شدید سرد موسم سے ٹھٹھر کر رہ گئے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ روز کے مقابلے میں کم سے کم درجہ حرارت میں 3 ڈگری جب کہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت میں 5.8 ڈگری کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے باعث سردی کی شدت غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ہے۔
شہر کے سرکاری ڈیٹا رکھنے والے ویدر اسٹیشن کے مطابق جمعے کے روز کراچی میں کم سے کم درجہ حرارت 10.
محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ آج ہفتے کے روز شہر میں تند و تیز سرد ہوائیں چلنے کا امکان ہے، جن کی رفتار 55 کلومیٹر فی گھنٹہ تک جا سکتی ہے۔ ہواؤں کی شدت کے باعث درجہ حرارت مزید کم محسوس کیا جا سکتا ہے، جس سے سردی کی شدت میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب دیہی سندھ کے علاقوں میں بھی سردی کی لہر برقرار ہے۔ موہنجودڑو میں کم سے کم درجہ حرارت 0.5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا، جو اس موسم کی شدید سردی کی عکاسی کرتا ہے۔ سرد موسم کے باعث معمولاتِ زندگی متاثر ہو رہے ہیں اور خاص طور پر بزرگوں اور بچوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند روز تک سرد ہواؤں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث کراچی اور سندھ کے دیگر علاقوں میں سردی برقرار رہ سکتی ہے۔ شہریوں کو غیر ضروری طور پر رات گئے باہر نکلنے سے گریز اور گرم لباس کے استعمال کا مشورہ دیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل سردی کی شدت کے باعث
پڑھیں:
گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان۔ تفصیلات کے مطابق بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے، جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔ سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔(جاری ہے)
حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔ سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔