مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کی تاریخی تعیناتی، 800 سے زائد ٹوماہاک میزائل حملے کے لیے تیار
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
اسرائیلی فوجی ریڈیو نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کی تعداد اس ہفتے ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی ہے، جو برس گزشتہ جون میں ایران کے خلاف کارروائی کے بعد سب سے زیادہ ہے، جبکہ امریکی فوج کی مشرق وسطیٰ میں آئرن کلاد تعیناتی، 812 ٹوماہاک میزائل فوری استعمال کے لیے تیار ہیں۔ یہ پیشرفت امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ بریڈ کوپر کے تل ابیب دورے کے دوران سامنے آئی۔
العربیہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے تصدیق کی ہے کہ دفاعی حلقے امریکی فوج کی اس تعیناتی کو ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لیے ممکنہ وسیع حملے اور دباؤ ڈالنے کے لیے ایک مضبوط فوجی دھمکی کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی فوج کے ساتھ مسلسل رابطے کے باوجود ایران کے معاملے پر فی الحال کوئی آپریشنل ہم آہنگی موجود نہیں، اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حتمی فیصلے تک صورتحال غیر واضح ہے۔
اس حوالے سے ایران کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آیا۔ ایک ایرانی عہدے دار نے رائٹرز کو بتایا کہ ایران ہائی الرٹ پر ہے اور بدترین صورتحال کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی حملے کو ہمہ گیر جنگ تصور کیا جائے گا جس کا بے مثال عسکری جواب دیا جائے گا۔ اسی حوالے سے ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے بھی کہا کہ اسرائیل ایران پر حملے کا موقع تلاش کر رہا ہے، جس سے خطے میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے۔
ادھر امریکی محکمہ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کا فیصلہ صرف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اختیار میں ہے۔
محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان مینیون ہیوسٹن کا کہنا تھا کہ موجودہ امریکی حکمت عملی ایرانی عوام کی حمایت پر مرکوز ہے، جس کے تحت ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف اور ایرانی حکام پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ایرانی عوام کی حالت زار اور احتجاج پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے بھی اشارہ دیا ہے کہ اگر ایران کی جانب سے مظاہرین کو سزائے موت دینے کا سلسلہ بند نہ ہوا، تو امریکہ فوجی کارروائی کر سکتا ہے۔
دوسری جانب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے درمیان، نئی رپورٹس سے امریکی سینٹرل کمانڈ کی موجودگی کے خوفناک حجم کا انکشاف ہوا ہے۔ اسرائیلی ویب سائٹ جے فیڈ کے مطابق امریکہ نے خطے میں ایک مضبوط آئرن کلاد فورس تعینات کی ہے، جس کا مقصد کسی بھی بڑھتی ہوئی کشیدگی کو روکنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی بحریہ کے پاس مشرق وسطیٰ میں ٹوماہاک میزائلوں سے لیس ایک طاقتور نظام موجود ہے۔ ڈپلومیٹک رپورٹر امیچائی اسٹین نے دعویٰ کیا کہ فوری استعمال کے لیے دستیاب ٹوماہاک میزائلوں کی کل تعداد 812 ہے، جو آزاد بحری اثاثوں اور لنکن اسٹریک گروپ کے درمیان تقسیم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: امریکی فوج کی ایران کے کے لیے
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔