معروف فرانسیسی اداکار کا اسلام قبول کرنے کے بعد والدہ کے ہمراہ عمرہ
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
معروف فرانسیسی ٹی وی اسٹار ڈیلن تھیری اور ان کی والدہ نے اسلام قبول کرنے کے بعد عمرے کی سعادت حاصل کرلی۔
سوشل میڈیا پر فرانسیسی اداکار ڈیلن تھیری کی ایک پوسٹ وائرل ہورہی ہے جس میں وہ اپنی والدہ کے ساتھ مکہ مکرمہ میں موجود ہیں۔
اداکار ڈیلن تھیری نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ایک خبر کا اسکرین شارٹ شیئر کیا جس میں وہ اپنی والدہ کے ہمراہ خانہ کعبہ کے سامنے اپنی والدہ کے ماتھے کو چومتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔
View this post on Instagram
Shared post on Time
Iframe code generator
رپورٹس کے مطابق ڈیلین تھیری اور ان کی والدہ چند ماہ قبل دائرہ اسلام میں داخل ہوئے تھے اور اسلام قبول کرنے کے بعد انہوں نے مقدس مقام کا دورہ کیا جو ان کی زندگی کا ایک نہایت روحانی اور جذباتی سنگِ میل ثابت ہوا۔
اداکار کا کہنا تھا کہ اپنی والدہ کے ساتھ اس بابرکت سفر کا تجربہ شکرگزاری، اخلاص اور ایمان کے تحت زندگی کے ایک نئے آغاز کی نمائندگی کرتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اپنی والدہ کے
پڑھیں:
ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔
میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔
ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔
تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔
اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔
ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔
اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔
گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔
آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔
مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔