اسلام ٹائمز: تحریک جعفریہ پاکستان نے تشیعِ پاکستان کو سیاسی شعور دیا، راستہ دکھایا اور قربانیاں دیں، مگر ریاستی دباؤ، پابندیوں اور تنظیمی جمود نے اس کے سفر کو محدود کر دیا۔ اس کے برعکس مجلس وحدت مسلمین نے اسی شعور کو جدید سیاسی حکمتِ عملی، اتحادوں اور پارلیمانی سیاست کے ذریعے عملی کامیابیوں میں ڈھال دیا۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ تحریک جعفریہ پاکستان تشیعِ پاکستان کی سیاسی بنیاد تھی اور مجلس وحدت مسلمین اس بنیاد پر کھڑی ہونے والی توسیع۔ خصوصی تحریر

شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینیؒ وہ نام ہیں جنہوں نے تشیعِ پاکستان کو محض مذہبی شناخت کے خول سے نکال کر قومی سیاست کے میدان میں لا کھڑا کیا۔ انہوں نے تحریک جعفریہ پاکستان کے ذریعے یہ واضح پیغام دیا کہ اگر تشیع کو اپنے اجتماعی حقوق کا تحفظ درکار ہے تو اسے ریاستی و سیاسی نظام کا فعال حصہ بننا ہوگا۔ یہی وہ فکر تھی جس نے تشیعِ پاکستان کے سیاسی سفر کی بنیاد رکھی۔ علامہ عارف حسینیؒ کی شہادت کے بعد تحریک جعفریہ کی قیادت علامہ سید ساجد علی نقوی کے ہاتھ آئی۔ اس دور میں جماعت نے انتخابی سیاست میں قدم رکھا۔

پارہ چنار جیسے اہم خطے سے قومی سطح پر جماعت کی حمایت اور کوششوں کے نتیجے میں دو سینیٹرز منتخب کروائے گئے، تاہم یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس سیاسی عمل میں جماعتی تنظیم سے زیادہ انفرادی سرمایہ اور ذاتی وسائل فیصلہ کن ثابت ہوئے۔ گلگت بلتستان میں تحریک جعفریہ نے اپنی جماعتی شناخت کے ساتھ جو سیاسی کامیابیاں حاصل کیں، وہ اس خطے کی تاریخ میں ایک نمایاں باب ہیں۔ عوامی حمایت اور انتخابی قوت نے بعض ریاستی حلقوں کو خوفزدہ کیا، جس کے نتیجے میں تحریک جعفریہ پر پابندی عائد کر دی گئی۔

اس پابندی نے نہ صرف جماعت بلکہ مجموعی طور پر تشیعِ پاکستان کے سیاسی عمل کو شدید نقصان پہنچایا اور ایک ابھرتی ہوئی سیاسی قوت کو عملاً غیر مؤثر بنا دیا۔ اس کے باوجود تحریک جعفریہ نے متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے سیاسی جدوجہد ترک نہیں کی۔ بطور اتحادی خیبر پختونخوا اسمبلی میں خواتین کی ایک مخصوص نشست اور ایک مشیر کا عہدہ حاصل کرنا، اس بات کا ثبوت ہے کہ جماعت نے مشکل حالات میں بھی سیاسی وجود برقرار رکھنے کی کوشش کی۔

دوسری جانب مجلس وحدت مسلمین بھی متحرک جماعت کے طور پر ابھری۔ ابتدا میں ایم ڈبلیو ایم نے اسٹریٹ پاور کے ذریعے تشیع کے حقوق کو قومی سطح پر اجاگر کیا، ملک بھر میں بڑے اجتماعات، دھرنوں اور عوامی تحریک نے جماعت کو کم وقت میں ایک مؤثر شناخت عطا کی۔ بعد ازاں مجلس وحدت مسلمین نے انتخابی سیاست میں قدم رکھا اور تاریخ میں پہلی مرتبہ کوئٹہ سے ایک شیعہ مذہبی جماعت کے ٹکٹ پر آغا رضا رضوی کو بلوچستان اسمبلی کا رکن منتخب کروایا، یہ محض ایک نشست نہیں بلکہ ایک علامتی پیش رفت تھی۔

پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ انتخابی اتحاد کے نتیجے میں گلگت بلتستان میں ایم ڈبلیو ایم کو حکومت میں چار نشستیں ملیں، جو جماعت کی سیاسی حکمتِ عملی اور اتحاد سازی کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ قومی سطح پر ایک اور سنگِ میل اس وقت عبور ہوا جب پارہ چنار سے انجینئر حمید حسین قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار ہوا کہ کسی شیعہ مذہبی جماعت کے ٹکٹ پر براہِ راست قومی اسمبلی کی نشست حاصل کی گئی۔ حالیہ عرصے میں جماعت کے سربراہ سینیٹر راجہ ناصر عباس جعفری کا سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر منتخب ہونا، ایم ڈبلیو ایم کی سیاسی بلوغت اور پارلیمانی قبولیت کا واضح ثبوت ہے۔

اگر تقابلی جائزہ لیا جائے تو تحریک جعفریہ پاکستان نے تشیعِ پاکستان کو سیاسی شعور دیا، راستہ دکھایا اور قربانیاں دیں، مگر ریاستی دباؤ، پابندیوں اور تنظیمی جمود نے اس کے سفر کو محدود کر دیا۔ اس کے برعکس مجلس وحدت مسلمین نے اسی شعور کو جدید سیاسی حکمتِ عملی، اتحادوں اور پارلیمانی سیاست کے ذریعے عملی کامیابیوں میں ڈھال دیا۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ تحریک جعفریہ پاکستان تشیعِ پاکستان کی سیاسی بنیاد تھی اور مجلس وحدت مسلمین اس بنیاد پر کھڑی ہونے والی توسیع۔ دونوں جماعتیں ایک ہی سیاسی سفر کی مختلف منزلیں ہیں اور تشیعِ پاکستان کی سیاسی تاریخ ان دونوں کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: تحریک جعفریہ پاکستان پاکستان کی یہ پاکستان جماعت کے کی سیاسی کے ذریعے

پڑھیں:

اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی

پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب ملکر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کیساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔ اسلام ٹائمز۔ لداخ کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے یکجا طور حکومتِ ہند کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی پیشرفت سے حوصلہ پا کر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو خطوط لکھ کر جموں و کشمیر کے حقوق اور وقار کی بحالی کے لئے متحد ہونے کی اپیل کی ہے۔ اپنے خط میں سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو لکھا کہ "لیہہ ایپکس باڈی" اور "کرگل ڈیموکریٹک الائنس" کی جانب سے مرکز کے ساتھ مذاکرات میں حاصل ہونے والی حالیہ کامیابیاں ایک اہم سبق فراہم کرتی ہیں کہ بامعنی نتائج صرف بات چیت کے ذریعے ہی حاصل کئے جا سکتے ہیں۔

محبوبہ مفتی نے خط میں کہا کہ جموں و کشمیر ایک بار پھر اپنی تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں مایوسی اور بددلی کا احساس عوام پر غالب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نکلنے کے لئے سیاسی اور جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر وسیع اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام کے وقار اور تحفظ کو بحال کرنا ہے تو حکومت ہند کے ساتھ تعمیری مذاکرات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ سب مل کر وزیر اعظم اور مرکزی وزیر داخلہ سے رابطہ کریں اور جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ مسلسل بات چیت شروع کرنے پر زور دیں۔

جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے علاوہ محبوبہ مفتی نے بی جے پی کے قائد حزب اختلاف سنیل شرما، جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر طارق حمید قرہ، سی پی آئی (ایم) رہنما ایم وائی تاریگامی، پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون، رکن پارلیمان انجینئر رشید، عام آدمی پارٹی کے صدر معراج ملک، پی ڈی ایف کے چیئرمین حکیم محمد یاسین، جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے صدر ہرش دیو سنگھ، شیو سینا (جموں و کشمیر یونٹ) کے صدر منیش ساہنی، کشمیری پنڈت سنگھرش سمیتی کے صدر سنجے ٹکو اور گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے چیئرمین جسپال سنگھ کو بھی خطوط ارسال کیے ہیں۔

انہوں نے تمام رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے مشترکہ اور منظم انداز میں رابطہ قائم کرنے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ ہمیں اپنے اختلافات اور متضاد خیالات کو ایک طرف رکھ کر عوامی مفاد اور اجتماعی فلاح کے لئے متحد ہونا ہوگا۔ یہ سیاسی کریڈٹ لینے یا ایک دوسرے پر سبقت حاصل کرنے کا معاملہ نہیں بننا چاہیئے بلکہ ان لوگوں کے وسیع تر مفاد میں اتحاد کا موقع ہونا چاہیئے جن کی نمائندگی کا ہم سب دعویٰ کرتے ہیں۔ علاقائی جماعتوں کے درمیان اختلافات اور کشیدگی نے ہمیشہ جموں و کشمیر کے اجتماعی مفادات کو نقصان پہنچایا ہے، اس لئے خاص طور پر 2019ء کے بعد ایک معقول اتفاق رائے ہی واحد راستہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر لداخ ایسا کر سکتا ہے تو ہم بھی کر سکتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ سے اپیل کی کہ وہ ایک کل جماعتی اجلاس طلب کریں تاکہ مرکز کے ساتھ رابطے کے عمل کا آغاز کیا جا سکے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اس سیاسی پلیٹ فارم کی کامیابی کے لئے عمر عبداللہ کی حمایت ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ غیر معمولی اور مشکل حالات میں حقیقی اتحاد ہی عوام کے ان حقوق اور وقار کی بحالی کی راہ ہموار کر سکتا ہے جن کی ضمانت بھارتی آئین دیتا ہے۔ محبوبہ مفتی کا یہ خط ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند دن قبل لیہہ ایپکس باڈی اور کرگل ڈیموکریٹک الائنس نے دعویٰ کیا تھا کہ حکومتِ ہند کے ساتھ ان کے مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔

یہ مذاکرات آرٹیکل 371 کے تحت چھٹے شیڈول کا درجہ اور قانون ساز اسمبلی کے مطالبات سے متعلق تھے۔ اگست 2019ء میں سابق ریاست جموں و کشمیر کی تقسیم کے بعد لداخ میں یہ سیاسی اتحاد سامنے آیا تھا۔ پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس، پیپلز کانفرنس اور دیگر علاقائی جماعتوں نے 5 اگست 2019ء کو آرٹیکل 370 کی منسوخی سے دو روز قبل پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن (PAGD) قائم کیا تھا۔ تاہم نومبر اور دسمبر 2020ء میں مرکز کی جانب سے ضلع ترقیاتی کونسل (DDC) انتخابات کے انعقاد کے بعد اس اتحاد میں اختلافات نمایاں ہونے لگے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے