اتوار سے منگل تک مزید بارش اور برفباری کا امکان، الرٹ جاری
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
محکمہ موسمیات نے اتوار سے منگل تک ملک کے مختلف حصوں میں مزید بارش اور برفباری کی پیش گوئی کر دی ہے۔ موسمیاتی حکام کے مطابق 25 جنوری کو مغربی ہواؤں کا ایک نیا سلسلہ ملک کے مغربی علاقوں میں داخل ہونے کا امکان ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ 26 جنوری کو یہ مغربی ہوائیں مزید علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گی، جس کے نتیجے میں موسم سرد اور مرطوب ہو جائے گا جبکہ سردی کی شدت میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ پیش گوئی کے مطابق 25 اور 26 جنوری کو بلوچستان اور سندھ کے مختلف علاقوں میں بارش جبکہ پہاڑی علاقوں میں برفباری کا امکان ہے۔ اسی طرح 26 سے 27 جنوری کے دوران گلگت بلتستان، کشمیر اور خیبرپختونخوا میں بارش اور برفباری متوقع ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق مری، گلیات، اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھی بارش اور برفباری ہو سکتی ہے، جس کے باعث سرد موسم مزید شدید ہونے کا خدشہ ہے۔ محکمہ موسمیات نے شہریوں اور مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں اور بالخصوص پہاڑی علاقوں کا سفر سوچ سمجھ کر کریں تاکہ کسی ناخوشگوار صورتحال سے بچا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بارش اور برفباری محکمہ موسمیات علاقوں میں
پڑھیں:
کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔
محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔
مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔
ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔
محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔
جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔