امریکا میں دہائیوں بعد گمشدہ انگوٹھی اپنی اصل مالکن تک پہنچ گئی
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکا میں ایک دلچسپ اور حیران کن واقعہ سامنے آیا ہے جہاں دہائیوں پہلے گم ہونے والی ایک انگوٹھی بالآخر اپنی اصل مالکن تک پہنچا دی گئی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی ریاست نیو جرسی کے ساحلی علاقے بیلمر پر خزانے کی تلاش میں مصروف ایک شوقیہ میٹل ڈیٹیکٹر صارف اینڈریو کیفر کو ریت میں دبی ایک قدیم انگوٹھی ملی، جس پر B.
اینڈریو کیفر نے تحقیق کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ریاست نیبراسکا کے کریٹ ہائی اسکول سے رابطہ کیا، جہاں ریکارڈ کی جانچ کے بعد انکشاف ہوا کہ انگوٹھی پر درج حروف باربرا ویلاج کے نام سے مطابقت رکھتے ہیں، جو 1966 کی کلاس کی رکن رہ چکی ہیں۔ اس طرح برسوں پرانا ایک بھولا بسرا تعلق دوبارہ جڑ گیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے باربرا ویلاج کی بہن سینڈی ویلاج-روش نے بتایا کہ اہلِ خانہ کے لیے یہ انکشاف حیرت کا باعث ہے۔
سینڈی ویلاج نے کہا کہ اگرچہ باربرا کچھ عرصے کے لیے بوسٹن میں مقیم رہی تھیں، تاہم یہ اب تک معمہ ہے کہ ان کی انگوٹھی نیو جرسی کے ساحل تک کیسے جا پہنچی۔
یہ واقعہ نہ صرف انسانی دیانت اور ایمانداری کی خوبصورت مثال ہے بلکہ اس بات کی بھی یاد دہانی کراتا ہے کہ بعض اشیاء محض زیور نہیں ہوتیں بلکہ یادوں، وقت اور کہانیوں کا حصہ بن جاتی ہیں—اور کبھی کبھی قسمت انہیں دوبارہ ان کے اصل مالک سے ملا ہی دیتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔