بلوچستان میں بارش و برفباری سے موسم شدید سرد، کوئٹہ میں پارہ منفی 10 ریکارڈ
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
کوئٹہ:
بلوچستان کے بیشتر اضلاع گزشتہ روز بارش اور برف باری کے بعد شدید سردی کی لپیٹ میں ہیں جس کے سبب زیارت، چمن، کوئٹہ، قلات، ژوب اور قلعہ سیف اللہ میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے گر گیا۔
سرد ہواؤں کے باعث نظام زندگی مفلوج ہوگیا جبکہ شہری گھروں میں محصور ہوگئے۔ شدید سردی کے باعث پانی کی پائپ لائنیں بھی جم گئیں جبکہ سڑکوں پر کھڑا پانی بھی برف میں تبدیل ہوگیا۔
سردی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ہی کوئٹہ شہر کے بیشتر علاقوں میں گیس پریشر بھی غائب ہوگیا۔
محکمہ موسمیات کے مطابق کوئٹہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 10 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا جبکہ زیارت اور قلات میں منفی 11، ژوب اور چمن میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 5 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا۔
نوکنڈی میں کم سے کم درجہ حرارت صفر، سبی میں 3، تربت میں 8، گوادر میں 10 اور جیوانی میں 12 ریکارڈ ہوا۔
بلوچستان؛ سردی کی شدت میں اضافہ، مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری شروع
بلوچستان سردی کی لپیٹ میں، شمالی اضلاع میں شدید سرد موسم، میدانی علاقوں میں دھند کا راج
گزشتہ 24 گھنٹوں میں قلات میں 1.
محکمہ موسمیات کے مطابق قلات میں 27 ملی میٹر بارش، بارکھان میں 17 ملی میٹر بارش، اوتھل میں 16.6، لورالائی میں 14.8، ژوب میں 10، چمن میں 9.8 اور پشین میں 6.3 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی۔
اْوستہ محمد میں 6.0، سی میں 4.0، کوئٹہ میں 3.8 ملی میٹر جبکہ سریاب میں معمولی بارش ریکارڈ کی گئی۔ مسلم باغ میں 3.3 اور لسبیلہ میں 2.0 ملی میٹر بارش ہوئی۔
Tagsپاکستان
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان پاکستان کھیل ملی میٹر بارش ریکارڈ کی سردی کی
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔