سونا 5 لاکھ 21 ہزار 162 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتیں مسلسل بڑھتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر رہی ہیں، جس کے باعث خریدار اور سرمایہ کار دونوں ہی حیران دکھائی دے رہے ہیں۔
بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں سونے کی فی اونس قیمت میں مزید 65 ڈالر کا نمایاں اضافہ ہوا، جس کے بعد سونا 4 ہزار 988 ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔
عالمی مارکیٹ میں اضافے کے اثرات مقامی صرافہ بازاروں میں بھی واضح طور پر دیکھے گئے۔ 24 قیراط سونے کی فی تولہ قیمت میں 6 ہزار 500 روپے کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد سونا 5 لاکھ 21 ہزار 162 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت بھی 5 ہزار 573 روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 46 ہزار 812 روپے ہو گئی۔
چاندی کی قیمتوں میں بھی نمایاں تیزی دیکھنے میں آئی۔ فی تولہ چاندی کی قیمت ایک ہی دن میں 526 روپے بڑھ کر 10 ہزار 801 روپے کی نئی بلند سطح پر جا پہنچی، جبکہ 10 گرام چاندی کی قیمت 451 روپے اضافے کے ساتھ 9 ہزار 260 روپے تک پہنچ گئی۔
مسلسل اضافے کے باعث بازار میں بے یقینی کی فضا ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق عالمی معاشی حالات اور سرمایہ کاری کے رجحانات قیمتی دھاتوں کی قیمتوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: چاندی کی قیمت اضافے کے
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔