کراچی میں یکم جنوری سے اب تک 3 ہزار سے زائد کتوں کے کاٹنے کے کیسز ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

کراچی کے سرکاری اور نجی اسپتالوں میں کتوں کے کاٹے کے کیسز میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

ترجمان انڈس اسپتال کے مطابق کراچی کے مختلف اسپتالوں میں رواں سال اب تک کتوں کے کاٹنے کے 3 ہزار 40 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔

ترجمان کے مطابق یکم جنوری سے اب تک انڈس اسپتال میں سب سے زیادہ، 1300 سے زائد ڈاگ بائٹ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

جناح اسپتال کے ترجمان ڈاکٹر عرفان صدیقی کے مطابق اسپتال میں اسی عرصے کے دوران 700 سے زائد کیسز سامنے آ چکے ہیں۔

اس کے ساتھ سول اسپتال میں رواں سال کے آغاز سے اب تک کتے کے کاٹے کے1 ہزار نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

اسپتال حکام کے مطابق مریضوں کی بڑی تعداد روزانہ ایمرجنسی میں لائی جا رہی ہے، نجی اسپتالوں میں بھی کتوں کے کاٹنے کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں، اسٹیڈیم روڈ پر واقع نجی اسپتال میں اب تک 20 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

ترجمان کے مطابق متاثرہ افراد کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی جاتی ہے، اسی طرح فیڈرل بی ایریا کے ایک نجی اسپتال میں بھی 20 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔

ڈاکٹر فاروق مامجی کا کہنا ہے کہ ابتدائی علاج کے بعد مریضوں کو سرکاری اسپتال منتقل کر دیا جاتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: کیسز رپورٹ ہوئے ہیں کتوں کے کاٹنے کے اسپتال میں نجی اسپتال کے مطابق

پڑھیں:

بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز

اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔

پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔

سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔

ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔

پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ

پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں فائرنگ سے باپ اور نوجوان بیٹا جاں بحق
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
  • گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار