خواجہ آصف: نئے صوبے بنانے میں کوئی حرج نہیں، خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ملک میں نئے صوبے بنانے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں اور کسی کو اس سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔
لاہور میں تھنک فیسٹ کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ نئے صوبے بنانے سے ملک میں استحکام اور بہتر گورننس ممکن ہے۔ انہوں نے 27ویں ترمیم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس میں دو چیزیں خارج کی گئی تھیں، جن میں سے ایک لوکل گورنمنٹ سے متعلق تھی، جس پر کافی اعتراضات سامنے آئے تھے۔
وزیرِ دفاع نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ کو اپنے لیے خطرہ سمجھنے کی بجائے اسے نرسری کی طرح سمجھنا چاہیے، اور مثال کے طور پر نیویارک کے میئر کو پیش کیا، جسے پوری دنیا جانتی ہے۔ ان کے بقول پاکستان کی بقا لوکل گورنمنٹ کے مضبوط نظام میں ہے، اور اگر اختیارات نچلی سطح تک منتقل نہیں کیے گئے تو یہ عوام کے ساتھ دھوکہ ہوگا۔
خواجہ آصف نے 18ویں ترمیم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ڈویلیشن کی گارنٹی دی لیکن عملدرآمد مکمل نہیں ہوا، اسی لیے انہوں نے اسے ایک ڈھکوسلا قرار دیا، جس سے کئی لوگ ناراض ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ سیاستدانوں کو اپنی طاقت مضبوط کرنے کے لیے عوام تک اختیارات پہنچانے چاہئیں، اور یہ طریقہ ڈکٹیٹرز نے بھی اپنایا تھا، کیونکہ لوکل گورنمنٹ کے ذریعے اختیارات نیچے تک پہنچتے ہیں۔
وزیرِ دفاع نے مزید کہا کہ لوکل گورنمنٹ سے کسی کو خطرہ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اگر کسی کو خطرہ ہے تو صرف بیوروکریسی کو ہے، کیونکہ ان کے اختیارات کم ہو کر عوامی اداروں کو منتقل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ خوف اس لیے پایا جاتا ہے کہ لوگ سوچتے ہیں کسی مخصوص سیاسی جماعت کی برتری ممکن ہو جائے گی۔
خواجہ آصف نے کہا کہ قومی نصاب کی شمولیت کی بات بھی 27ویں ترمیم میں خارج کی گئی تھی، اور دعا کی کہ اس پر بحث کا مثبت نتیجہ نکلے اور آئندہ ان شقوں کو بھی شامل کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: لوکل گورنمنٹ خواجہ ا صف نے کرتے ہوئے نے کہا کہ انہوں نے
پڑھیں:
گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
فائل فوٹووفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی ہے۔
گلگت میں جیو نیوز سے گفتگو میں احسن اقبال نے کہا کہ مسلم لیگ ن کا گلگت بلتستان میں ترقیاتی کاموں کا ریکارڈ ہے، جس کا مقابلہ کوئی جماعت نہیں کرسکتی۔
انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں تمام جماعتیں اور ان کے لیڈرز انتخابی عمل میں حصہ لے رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ اگر کوئی جماعت یہ کہتی ہے کہ اسے حصہ نہیں لینے دیا جارہا تو وہ اپنی شکست کا بہانہ تلاش کررہی ہے۔