بھارت میں فضائی آلودگی کیوجہ سے روزانہ 4,657 اموات ہوتی ہیں، رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
ماہرین کے مطابق فضائی آلودگی سے پیدا ہونے والی بیماریاں صرف اسپتالوں تک محدود نہیں ہیں بلکہ وہ ملک کی پیداواری صلاحیت اور معیشت پر بھی براہ راست اثر ڈالتی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں فضائی آلودگی اب صرف ماحولیاتی تشویش کی بات نہیں رہی بلکہ یہ ملک میں صحت عامہ کی ایک سنگین شکل اختیار کرگئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آلودہ ہوا ہر سال لاکھوں لوگوں کی جان لے رہی ہے اور اس کے اثرات خاموشی سے معیشت کو بھی کمزور کر رہے ہیں۔ حال ہی میں جنیوا میں ہونے والے عالمی اقتصادی فورم کے دوران ماہر اقتصادیات گیتا گوپی ناتھ نے اس مسئلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ فضائی آلودگی سے ہندوستان میں ہر سال تقریباً 17 لاکھ اموات ہوتی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ملک میں ہونے والی ہر 5 میں سے تقریباً ایک موت آلودہ ہوا سے منسلک ہے۔
اگر ان اعداد و شمار کا روزانہ کی بنیاد پر تخمینہ لگایا جائے تو صورتحال مزید تشویشناک ہو جاتی ہے۔ زہریلی ہوا کی وجہ سے ہندوستان میں ہر روز اوسطاً 4,657 لوگ زہریلی ہوا کی وجہ سے اپنی جان گنوا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق فضائی آلودگی سے پیدا ہونے والی بیماریاں صرف اسپتالوں تک محدود نہیں ہیں بلکہ وہ ملک کی پیداواری صلاحیت اور معیشت پر بھی براہ راست اثر ڈالتی ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان کو ہر سال قبل از وقت اموات اور آلودگی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی وجہ سے اربوں ڈالر کا معاشی نقصان ہوتا ہے۔ صرف 2019ء میں آلودگی سے متعلق قبل از وقت اموات سے ملک کو 28 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا جب کہ بیماریوں سے ہونے والے معاشی نقصانات کا تخمینہ 8 ارب ڈالر لگایا گیا۔ یہ نقصان کل 36.
گزشتہ ہفتے جاری ہونے والی ورلڈ بینک کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کی 100 فیصد آبادی نقصان دہ پی ایم 2.5 ذرات سے متاثر ہے۔ پی ایم 2.5 کو سب سے خطرناک فضائی آلودگی سمجھا جاتا ہے جو متعدد ذرائع سے خارج ہوتے ہیں اور براہ راست پھیپھڑوں میں داخل ہوکر نقصان پہنچاتے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق فضائی آلودگی سے فالج، دل کی بیماری، پھیپھڑوں کی دائمی بیماری، پھیپھڑوں کا کینسر اور نمونیا جیسی سنگین بیماریوں کے خطرات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔ صرف طویل مدت تک ہی نہیں بلکہ مختصر مدت کے لئے بھی بہت زیادہ آلودگی میں سانس لینا دمہ کے دورے، سانس کی تکلیف اور پھیپھڑوں کی صلاحیت کم ہونے جیسے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔
"دی لینسیٹ پلینیٹری ہیلتھ" میں شائع ایک تحقیق کے مطابق اگر ہندوستان میں ہوا کا معیار ڈبلیو ایچ او کے معیار پر پورا اترتا ہے تو ہر سال تقریباً 15 لاکھ اضافی اموات کو روکا جا سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق صرف فوسل فیول کے جلنے سے سالانہ تقریباً 7.5 لاکھ اموات ہوتی ہیں۔ اس میں کوئلے سے ہونے والی تقریباً 4 لاکھ اور بائیو ماس کے جلنے سے تقریباً 3.5 لاکھ اموات شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آلودہ ہوا کے رابطے میں کچھ وقت کے لئے آنے سے بھی سانس سے منسلک مسائل، دمہ اور پھیپھڑوں کی کام کرنے کی صلاحیت پر اثر پڑسکتا ہے جبکہ طویل وقت تک رابطے میں رہنے سے دل، دماغ اور پھیپھڑوں کی سنگین بیماریوں کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فضائی آلودگی سے پھیپھڑوں کی ہونے والی کے مطابق ہر سال
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :