لاہور؛ کثیرالمنزلہ ہوٹل میں آگ لگنے سے 3 افراد جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
لاہور:
کثیرالمنزلہ ہوٹل میں آگ لگنے کے واقعے میں 3 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے جبکہ 270 سے زائد مہمانوں اور عملے کو بحفاظت ریسکیو کرلیا گیا۔
ترجمان ریسکیو پنجاب فاروق احمد نے بتایا کہ ریسکیو کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر میں 12:25 بجے انڈیگو ہوٹل سے فائر کال موصول ہوئی، جس پر سنٹر سے فوری سرچ اور ریسکیو ٹیموں نے ریسپانڈ کیا۔
انہوں نے بتایا کہ آپریشن میں ریسکیو 1122 کی 27 ایمرجنسی گاڑیوں، 80 اہلکاروں اور افسران نے حصہ لیا۔
ترجمان نے بتایا کہ آگ لگنے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے افراد کی شناخت 37 سالہ مبین، 18 سالہ علی، 22 سالہ راشد، 60 سالہ رفیق، 21 سالہ عدنان، 34 سالہ شاہد، 20 سالہ مقدس، 40 سالہ پترس اور 45 سالہ شاہین بی بی کے نام سے ہوئی۔
ریسکیو 1122 کے ترجمان نے بتایا کہ ہوٹل میں ہونے والی آتشزدگی میں جاں بحق افراد کی شناخت عمران 30 سالہ، شہریار عمر 25 سالہ اور 40 سالہ ریاض 4کے نام سے ہوئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ فائر ریسکیور محمد یوسف کی طبعیت اچانک خراب ہونے سے فوری طور پر نزدیکی اسپتال منتقل کیا گیا_
ترجمان نے بتایا کہ ہوٹل میں موجود 275 کے قریب مہمانوں اور عملے کو ریسکیو کرتے ہوئے انخلا ہو چکا ہے، پلازہ کی 19 منزلیں بشمول 3بیسمنٹ ہیں اور رقبہ 4 کنال پر مشتمل ہے اور پلازے کی بیسمنٹ ون شدید متاثر ہے،۔
انہوں نے کہا کہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا اور اس تمام ریسکیو آپریشن کے دوران سیکریٹری ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نصیر خود موقع پر موجود رہے اور تمام آپریشن کی نگرانی کرتے رہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نے بتایا کہ ہوٹل میں
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔