Express News:
2026-07-24@12:22:57 GMT

لاہور؛ کثیرالمنزلہ ہوٹل میں آگ لگنے سے 3 افراد جاں بحق

اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT

لاہور:

کثیرالمنزلہ ہوٹل میں آگ لگنے کے واقعے میں 3 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے جبکہ 270 سے زائد مہمانوں اور عملے کو بحفاظت ریسکیو کرلیا گیا۔

ترجمان ریسکیو پنجاب فاروق احمد نے بتایا کہ ریسکیو کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر میں 12:25 بجے انڈیگو ہوٹل سے فائر کال موصول ہوئی، جس پر سنٹر سے فوری سرچ اور ریسکیو ٹیموں نے ریسپانڈ کیا۔

انہوں نے بتایا کہ آپریشن میں ریسکیو 1122 کی 27 ایمرجنسی گاڑیوں، 80 اہلکاروں اور افسران نے حصہ لیا۔

ترجمان نے بتایا کہ آگ لگنے کے نتیجے میں زخمی ہونے والے افراد کی شناخت 37 سالہ مبین، 18 سالہ علی، 22 سالہ راشد، 60 سالہ رفیق، 21 سالہ عدنان، 34 سالہ شاہد، 20 سالہ مقدس، 40 سالہ پترس اور 45 سالہ شاہین بی بی کے نام سے ہوئی۔

ریسکیو 1122 کے ترجمان نے بتایا کہ ہوٹل میں ہونے والی آتشزدگی میں جاں بحق افراد کی شناخت عمران 30 سالہ، شہریار عمر 25 سالہ اور 40 سالہ ریاض 4کے نام سے ہوئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ فائر ریسکیور محمد یوسف کی طبعیت اچانک خراب ہونے سے فوری طور پر نزدیکی اسپتال منتقل کیا گیا_

ترجمان نے بتایا کہ ہوٹل میں موجود 275 کے قریب مہمانوں اور عملے کو ریسکیو کرتے ہوئے انخلا ہو چکا ہے، پلازہ کی 19 منزلیں بشمول 3بیسمنٹ ہیں اور رقبہ 4 کنال پر مشتمل ہے اور پلازے کی بیسمنٹ ون شدید متاثر ہے،۔

انہوں نے کہا کہ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا اور اس تمام ریسکیو آپریشن کے دوران سیکریٹری ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نصیر خود موقع پر موجود رہے اور تمام آپریشن کی نگرانی کرتے رہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نے بتایا کہ ہوٹل میں

پڑھیں:

غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ

غزہ میں انسانی بحران مزید شدت اختیار کرتا جا رہا ہے اور رواں سال دسمبر تک تقریباً 14 لاکھ افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہونے کا خدشہ ہے۔ یہ تعداد اپریل سے جون 2026 کے دوران 12 لاکھ تھی۔ یہ انکشاف انٹیگریٹڈ فوڈ سکیورٹی فیز کلاسیفیکیشن (IPC) کی تازہ رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق غزہ کی 67 فیصد آبادی شدید غذائی عدم تحفظ  کا شکار ہو سکتی ہے، جبکہ 2 لاکھ 12 ہزار افراد غذائی بحران کے انتہائی ہنگامی مرحلے میں زندگی گزار رہے ہیں۔

آئی پی سی کے مطابق گزشتہ سال اکتوبر میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد امدادی سرگرمیوں میں اضافے سے حالات میں وقتی بہتری آئی تھی اور مئی کے دوران تقریباً 14 لاکھ 90 ہزار افراد تک غذائی امداد پہنچائی گئی۔ تاہم امداد کی مقدار ضرورت سے کہیں کم ہے، روزگار کے مواقع تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور 83 فیصد خاندانوں کے پاس آمدنی کا کوئی مستقل ذریعہ موجود نہیں، جس کے باعث آبادی کی اکثریت مکمل طور پر امدادی سامان پر انحصار کرنے پر مجبور ہے۔

یہ بھی پڑھیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کا نیتن یاہو کی گرفتاری کا مطالبہ، آئی سی سی میں مقدمہ چلانے پر زور

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اپریل 2027 تک 5 سال سے کم عمر 74 ہزار 200 بچے شدید غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں، جن میں 11 ہزار 432 بچوں کی حالت انتہائی تشویشناک ہونے کا خدشہ ہے اور انہیں فوری طبی و غذائی امداد درکار ہوگی۔

رپورٹ کے مطابق اس وقت غزہ میں ہر 5 میں سے صرف ایک بچے کو مناسب خوراک میسر ہے، جبکہ تقریباً نصف خاندانوں کو روزانہ فی فرد 15 لیٹر سے بھی کم پانی دستیاب ہے، جو عالمی انسانی معیار سے کہیں کم ہے۔

اسی طرح 24 ہزار 600 سے زائد حاملہ خواتین اور دودھ پلانے والی مائیں شدید غذائی قلت کا شکار ہیں اور انہیں فوری ہنگامی غذائی امداد کی ضرورت ہے۔

آئی پی سی کے مطابق جاری جنگ کے نتیجے میں غزہ کا بنیادی ڈھانچہ بھی بری طرح تباہ ہو چکا ہے۔ تقریباً 75 فیصد رہائشی مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو گئے ہیں، 70 فیصد سڑکیں ناقابل استعمال ہو چکی ہیں، 95 فیصد زرعی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے، جبکہ 92 فیصد سے زائد کاروباری ادارے تباہ یا بند ہو چکے ہیں۔

رپورٹ میں ورلڈ بینک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے مشترکہ تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں غزہ میں 35.2 ارب ڈالر مالیت کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، 22.7 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہو چکا ہے، جبکہ غزہ کی بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے کم از کم 71.4 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔

آئی پی سی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ غزہ تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ اور مسلسل رسائی یقینی بنائی جائے، غذائیت سے متعلق ہنگامی پروگراموں میں توسیع کی جائے اور مستقل جنگ بندی کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ انسانی بحران مزید سنگین نہ ہو۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود اکتوبر 2025 سے فضائی حملوں، گولہ باری اور ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جبکہ معاہدے کے بعد بھی 900 سے زائد شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

غذائی قلت غزہ فلسطین

متعلقہ مضامین

  • لاہور ڈیفنس فیز 5 میں گھر کی بیسمنٹ سے 53 سالہ شخص کی لاش برآمد
  • کراچی: لی مارکیٹ کی بحالی کے دوران قدیم مجسمے دریافت
  • تیسرے آپریشن کے بعد آنے والی خواتین کا مانع حمل آپریشن کردینا چاہیے، وزیر صحت سندھ
  • ایران پر امریکی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 55 ہو گئی، 645 زخمی
  • لاہور: گھر کے بیسمنٹ میں جمع بارش کے پانی میں ڈوب کر 1 شخص جاں بحق
  • غزہ میں غذائی بحران مزید سنگین، 14 لاکھ افراد کے شدید غذائی قلت کا شکار ہونے کا خدشہ
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا