لاہور: گلبرگ کے ہوٹل میں آگ لگ گئی، 3 افراد زخمی، 180 ریسکیو کر لیے گئے
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
لاہور کے علاقے گلبرگ کے مقامی ہوٹل کی بیسمنٹ میں اچانک آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں 3 افراد جھلس کر زخمی ہو گئے، 180 افراد کو ریسکیو کر لیا گیا۔چیف سیکرٹری پنجاب زاہد زمان نے جائے وقوعہ پر بتایا کہ آگ صرف ہوٹل کے بیسمنٹ میں لگی، جسے بجھانے کا کام جاری ہے، ہوٹل سے 180 لوگوں کو ریسکیو کیا گیا، اس وقت عمارت کے اندر کوئی بھی شخص موجود نہیں ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ آگ کی وجہ سے زخمی ہونے والے شخص کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا، بیسمنٹ کے اندر پانی وافر مقدار میں موجود ہے، آگ کو بہت جلد کنٹرول کر لیا جائے گا۔ہوٹل کی چودھویں منزل سے نکلنے والے شخص ہمایوں نے بتایا کہ میں چودھویں منزل پر موجود تھا جب آگ لگی، میں آگ لگنے کے بعد سیڑھیوں سے نیچے آیا ہوں۔آتشزدگی کی اطلاع پر چیف سیکرٹری پنجاب زاہد زمان اور ڈی سی لاہور کیپٹن (ر) علی اعجاز موقع پر پہنچ گئے اور امدادی کارروائیوں کی نگرانی کر رہے ہیں۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اظہارِ تشکر کرتے ہوئے کہا کہ ریسکیو 1122 ٹیموں نے گلبرگ ہوٹل میں محصور تمام 180 افراد کو بحفاظت نکال لیا۔وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کے حکم پر صوبائی وزیر، چیف سیکرٹری اور ڈی جی ایل ڈی اے اور ڈی سی لاہور موقع پر موجود ہیں، ہدایت کی گئی جب تک آپریشن مکمل نہ ہو، ایک ایک شخص بحفاظت نکل آ نہ آئے، پوری ٹیم ریسکیو آپریشن جاری رکھے۔اس وقت ریسکیو 1122 کی جانب سے پوری عمارت کی انسپکشن جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
چیک ریپبلک کے مشرقی حصے میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہوگیا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہو گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق چیک وزارتِ دفاع اور فوج کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ حادثہ بدھ کے روز نامیشت ناد اوسلاوو ایئر فورس بیس پر پیش آیا جو دارالحکومت پراگ سے تقریباً 180 کلومیٹر جنوب مشرق میں واقع ہے۔
حادثے کا شکار ہونے والا ہیلی کاپٹر UH-1Y Venom تھا، جس میں مجموعی طور پر 5 فوجی اہلکار سوار تھے۔ حادثے میں ایک اہلکار موقع پر ہی جان کی بازی ہار گیا جبکہ تین زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ہیلی کاپٹر معمول کی فوجی تربیتی سرگرمی کے سلسلے میں پرواز کر رہا تھا، تاہم حکام نے ابھی تک اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے فوج نے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی ہیں۔
چیک حکام کا کہنا ہے کہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں، آیا حادثہ تکنیکی خرابی، موسمی حالات یا انسانی غلطی کے باعث پیش آیا۔ تحقیقات کے نتائج سے میڈیا کو آگاہ کیا جائے گا۔