سانحہ گل پلازہ، ریسکیو آپریشن کے دوران قرآن پاک و لوح قرآنی بالکل ٹھیک حالت میں برآمد
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
ریسکیو رضاکاروں نے بتایا کہ جس مقام پر قرآن کریم اور لوح قرآنی موجود تھے، وہاں اطراف میں آگ سے مکمل تباہی ہوئی تھی۔ اسلام ٹائمز۔ سانحہ گل پلازہ کراچی میں سرچ آپریشن کے 8ویں روز ریسکیو ٹیم کو قرآن پاک اور لوح قرآنی ملے جو مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ تفصیلات کے مطابق سانحہ گل پلازہ میں سرچنگ کے دوران ریسکیو کے عملے کو قرآن شریف اور لوح قرآنی ملا جو مکمل طور پر محفوظ رہا۔ ترجمان ریسکیو 1122 کے مطابق سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم کو سرچ آپریشن کے دوران قرآن شریف اور لوح قرآنی ملا، جو خوفناک آتشزدگی کے باوجود مکمل طور پر محفوظ رہا۔ ریسکیو رضاکاروں نے بتایا کہ جس مقام پر قرآن کریم اور لوح قرآنی موجود تھے، وہاں اطراف میں آگ سے مکمل تباہی ہوئی تھی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی گل پلازہ کی سرچنگ کے دوران مسجد اور دکانوں میں رکھے ہوئے قرآن شریف ملے تھے، جو لگنے والی خوفناک آگ میں مکمل طور پر محفوظ رہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مکمل طور پر محفوظ لوح قرا نی گل پلازہ کے دوران اور لوح
پڑھیں:
چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
دنیا بھر میں لاکھوں افراد بے خوابی اور نیند کی مختلف خرابیوں کا شکار ہیں، تاہم چینی سائنسدانوں نے ایک ایسے قدرتی مالیکیول کی نشاندہی کی ہے جو دماغ میں نیند کی خواہش کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں بے خوابی اور دیگر نیند کے مسائل کے لیے نئی، محفوظ اور مؤثر ادویات کی تیاری میں اہم سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
چینی اکیڈمی آف سائنسز اور دیگر تحقیقی اداروں کے سائنسدانوں کی یہ تحقیق معروف سائنسی جریدےنیچر نیورو سائنس (Nature Neuroscience) میں شائع ہوئی ہے۔ تحقیق کے مطابق ٹرپٹامین (Tryptamine یا TrpA) نامی قدرتی مالیکیول دماغ کو یہ اشارہ دیتا ہے کہ جسم کو آرام اور نیند کی ضرورت ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ مناسب نیند انسانی صحت کے لیے انتہائی ضروری ہے، کیونکہ اسی دوران دماغ یادداشت کو منظم کرتا، نئی معلومات محفوظ بناتا اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران جمع ہونے والے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ اس کے باوجود دنیا بھر میں بے خوابی، ذہنی دباؤ، ڈپریشن، بے چینی اور جسمانی گھڑی (سرکیڈین ردھم) کی خرابی کے باعث لاکھوں افراد مناسب نیند سے محروم رہتے ہیں۔
تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے رات کو متحرک رہنے والے چوہوں اور دن میں سرگرم رہنے والے سوروں پر تجربات کیے۔ خصوصی فلوروسینٹ سینسر کی مدد سے جانوروں کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار مختلف اوقات میں ریکارڈ کی گئی۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ جتنا زیادہ وقت جانور جاگتے رہے، ان کے دماغی مائع میں ٹرپٹامین کی مقدار بھی اتنی ہی بڑھتی گئی۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ مالیکیول جسم میں بڑھنے والے سلیپ پریشر یعنی نیند کی قدرتی طلب کی عکاسی کرتا ہے۔
مزید تحقیق سے پتا چلا کہ جاگنے کے دوران متحرک مخصوص اعصابی خلیے ٹرپٹامین خارج کرتے ہیں، جو بعد ازاں GPR139 نامی ریسیپٹر سے جڑ کر دماغ کے اس حصے کو متحرک کرتا ہے جو نیند کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنسدانوں نے تجرباتی طور پر ایسے مرکبات بھی استعمال کیے جو GPR139 ریسیپٹر کو متحرک کرتے ہیں۔ نتائج کے مطابق ان مرکبات سے نہ صرف نیند کا دورانیہ بڑھا بلکہ اس کے معیار میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مستقبل کی تحقیقات میں یہی حیاتیاتی نظام انسانوں میں بھی ثابت ہو جاتا ہے تو بے خوابی اور دیگر نیند کی خرابیوں کے علاج کے لیے ایسی نئی ادویات تیار کی جا سکیں گی جو موجودہ ادویات کے مقابلے میں زیادہ محفوظ، مؤثر اور کم مضر اثرات کی حامل ہوں گی۔