تھرپارکر میں تین ہفتوں کے دوران 45 بچے دم توڑ گئے
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
تھرپارکر: تھرپارکر کے ضلعی ہیڈکوارٹر مٹھی کے اسپتال میں گزشتہ تین ہفتوں میں غذائی قلت اور مختلف امراض کے باعث 45 معصوم بچے دم توڑ گئے جب کہ 75 بچے اب بھی زیر علاج ہیں۔
ایم ایس سول اسپتال مٹھی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جاں بحق ہونے والے 3 بچوں کی عمریں ایک سال سے کم تھیں۔سردی اور غذائی قلت کے باعث یہ بچے پیدائشی طور پر کم وزن اور مختلف بیماریوں کا شکار تھے جو دوران علاج جانبر نہ ہوسکے۔
ایم ایس مٹھی اسپتال کا کہنا ہےکہ بچوں کے وارڈ میں گنجائش 70 بچوں کی ہے جب کہ اس وقت سردی اور دیگر امراض میں مبتلا 76 بچے زیر علاج ہیں۔
بیمار بچوں کے والدین کا کہنا ہے کہ اسپتال کے بچوں کے انتہائی نگہداشت وارڈ میں طبی سہولیات کی کمی کا سامنا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا محمد انعام یوسفزئی نے استعفا دے دیا۔ محمد انعام یوسفزئی کا کہنا تھا کہ بطور ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ذمہ داری ادا کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، تاہم مزید اس پوسٹ پر کام جاری نہیں رکھ سکتا۔ مستعفی ہونے والے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ وزیر قانون اور سیکرٹری قانون کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔