غزہ بورڈ آف پیس در اصل گزشتہ برس ستمبر میں غزہ جنگ بندی سے متعلق معاہدے کا تسلسل ہے، وہ جنگ بندی کہ جو آج تک عملی جامہ نہیں پہن پائی اور اسرائیل مسلسل غزہ پر جارحیت جاری رکھے ہوئے ہے، حالانکہ اس نام نہاد جنگ بندی معاہدے کو ہوئے، اب ایک سو سے زائد ایام گزر چکے ہیں، لیکن فلسطینیوں کے لیے کبھی ایک دن ایسا نہیں گزرا ہے کہ جب سفاک اسرائیلی قابض فوجوں نے ان کے پیاروں کو قتل نہ کیا ہو۔
امریکی صدر نے ستمبرکے مہینے میں کچھ مسلمان اور مغربی ممالک کو ملا کر غزہ میں جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اورکہا گیا تھا کہ آٹھ مسلمان ممالک اس جنگ بندی کے ضامن ہیں، لیکن آج بھی اسرائیلی جارحیت اور دہشتگردانہ کارروائیاں جاری ہیں۔ ٹرمپ کے بیس نکاتی امن معاہدے کے تحت پہلے مرحلے میں فلسطینی اور اسرائیلی قیدیوں کا دوطرفہ تبادلہ طے پایا تھا جو انجام دیا گیا اور اب دوسرے مرحلے کی بات کی گئی تھی کہ جس میں غزہ کی تعمیر نو، انتظامی نگرانی سمیت دیگر امور بھی شامل ہیں۔ غزہ بورڈ آف پیس دراصل جنگ بندی معاہدے کا دوسرا حصہ تصورکیا جا سکتا ہے۔
اس منصوبے کا بنیادی دعویٰ یہ تھا کہ غزہ میں جنگ کے خاتمے کے بعد وہاں ایک غیر جانبدار سیکیورٹی، انتظامی اور تعمیراتی اتھارٹی قائم کی جائے جو غزہ کے مستقبل کو مستحکم بنا سکے۔ بظاہر یہ منصوبہ امن، تعمیر نو اور معاشی بحالی کا خاکہ پیش کرتا ہے، لیکن فلسطینی حلقوں میں اس منصوبے نے نہ صرف شدید خدشات پیدا کیے بلکہ اسے ایک نئے نوعیت کے نوآبادیاتی کنٹرول (Colonial Management) کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ فلسطینی عوام کے یہ خدشات اس لیے بھی درست ہیں کیونکہ اس بورڈ کا چیئرمین خود امریکی صدر ٹرمپ ہے جوکہ اس وقت دنیا بھر میں جنگ و جدال کو ہوا دینے کے ساتھ ساتھ خود مختار ممالک کی حکومتوں کو گرانے اور افراتفری پھیلانے میں ملوث ہے۔ حالیہ مثالوں میں وینز ویلا اور ایران ہیں جن کے خلاف امریکی صدر ٹرمپ کے جارحانہ عزائم پوری دنیا دیکھ چکی ہے۔
اسی طرح ٹرمپ نے اس بورڈ میں سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلئیرکو بھی شامل کیا ہے جس کے ہاتھ ہزاروں عراقی عوام کے خون سے رنگین ہیں۔ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کوشنر اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ ساتھ مغربی ایشیائی ممالک میں امریکی ایلچی اسٹیو ویٹکوف بھی اس بورڈ کا حصہ ہیں اور ہندوستانی شہری عالمی بینک کے صدر اجے بنگا کو بھی اس بورڈ میں شامل کیا گیا ہے۔فلسطینی عوام کے خدشات اور شکوہ اپنی جگہ درست ہے کہ فلسطین کا مسئلہ حل کرنے کے لیے غیر فلسطینیوں کو مسلط کیا جا رہا ہے۔
غزہ بورڈ آف پیس کے منصوبے میں فلسطینی عوام کو سیاسی فیصلہ سازی کے مرکزی کردار سے باہر رکھا گیا ہے۔ یہ اصولی طور پر کئی بنیادی سوال کھڑے کرتا ہے۔ فلسطین کے مستقبل کا فیصلہ بیرونی طاقتیں کس اختیار کے تحت کریں؟ مقامی سیاسی قوتیں، منتخب نمایندے اور مزاحمتی دھڑے کہاں جائیں گے؟ کیا غزہ کو ایک بین الاقوامی وارنشپ یا پروٹیکٹوریٹ میں تبدیل کرنے کی کوشش ہے؟ یہ خدشہ بہت گہرا ہے کہ منصوبہ فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت کوکمزورکرنے کی شکل اختیارکرے گا۔
فلسطینیوں کی ایک بڑی اکثریت پہلے ہی سمجھتی ہے کہ عالمی طاقتیں فلسطینی مسئلے کو حقیقی سیاسی حل کے بجائے انتظامی بحران میں تبدیل کررہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دوسری طرف اسرائیل نے صومالی لینڈ کو تسلیم کر کے غزہ کے شہریوں کو وہاں جبری جلا وطن کرنے کا منصوبہ بھی بنا رکھا ہے۔حقیقت میں اس منصوبے کا ہدف غزہ کو عسکری طور پر توڑنا اور سیاسی طور پر غیر موثر رکھنا ہے تاکہ غزہ میں مزاحمت کو ختم کیا جائے اور اسے کمزورکیا جائے، تاکہ وہ دوبارہ منظم نہ ہو۔ غزہ بورڈ آف پیس کی عملی شکل میں مسلمان ممالک کی افواج کو عالمی استحکام فورس کے عنوان سے غزہ میں تعینات کرنے کا منصوبہ بھی رکھا گیا ہے۔
غزہ میں امن کے نام پر دراصل فلسطینیوں کے حقوق کی تلفی کی جا رہی ہے اور امریکا کی کوشش ہے کہ فلسطینیوں کے اسٹرٹیجک وسائل محدود رہیں، اسرائیل کو کم لاگت سیکیورٹی فائدہ ملے۔ یعنی یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ حقیقت میں امریکا کا یہ نام نہاد امن منصوبہ اسرائیل کے دفاع کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہ امن کے نام پر سیکیورٹی کولونیلزم (Security Colonialism) کی نئی صورت ہے، جہاں امن کا مطلب دراصل قابض طاقت کے لیے تسکین اور زیر قبضہ آبادی کے لیے کنٹرول ہوتا ہے۔ امریکی حکام کی جانب سے غزہ کے لیے پیش کردہ یہ منصوبہ بظاہر تعمیر نو کے مالی پیکیج کا وعدہ کرتا ہے، لیکن اس کے ساتھ وابستہ ممکنہ شرائط نہایت تشویشناک ہیں، یعنی اس معاہدے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ غزہ میں تعمیر نو فلسطینی مزاحمت کی جانب سے جوابی میزائل فائر نہ ہونے کی شرط سے وابستہ ہے، یعنی اگر اسرائیل جب چاہے، جیسے چاہے معاہدے کی خلاف ورزی کرے اور جیسا کہ جنگ بندی معاہدے کے بعد سے مسلسل خلاف ورزی کی جا رہی ہے لیکن اس کے جواب میں کوئی کارروائی نہ کی جائے؟ کیا یہ منصفانہ بات ہے؟ یہ واضح طور پر قاتلوں کو حمایت فراہم کرنے کا معاہدہ بنایا گیا ہے۔
اس معاہدے میں غزہ کی تعمیر نو کو بھی اس بورڈ کے مرہون منت کردیا گیا ہے کہ جہاں چاہیں گے وہاں تعمیر نو کی جائے گی، یعنی غزہ سے باہرکے لوگ غزہ کے مقامی لوگوں کے لیے طے کریں گے کہ کیا اچھا ہے اورکیا اچھا نہیں ہے۔ یہ کھلم کھلا ناانصافی اور غنڈہ گردی پر مبنی معاہدہ تشکیل دیا گیا ہے۔ امریکی حکام کا یہ وہی ماڈل ہے جو پہلے عراق، لیبیا، بوسنیا جیسے کیسز میں استعمال ہوچکا ہے جہاں پوسٹ وار اکانومی نے عوام کو مزید انحصارکی طرف دھکیلا۔ غزہ کو بھی مزید کمزورکرنے اور امریکی بالادستی کے سامنے سر تسلیم خم کرنے کے لیے غزہ بورڈ آف پیس تشکیل دیا گیا ہے۔
غزہ بورڈ آف پیس کو فلسطین کی تحریکِ مزاحمت کے خلاف ایک نرم متبادل جنگ کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ فلسطینی مزاحمتی تحریکوں نے اس معاہدے پر اپنے تحفظات کا اظہارکیا ہے اور غلط اقدامات کو قبول نہ کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ حماس نے واضح موقف اپناتے ہوئے غزہ میں ایسے کسی بھی بندوبست کو ماننے سے انکارکیا ہے جس کی کمانڈ غیر ملکیوں کے پاس ہو۔ فلسطین کے باشندے بھی کسی ایسی حکومت کو ماننے سے انکاری ہیں جس میں تمام باشندے بیرونی ہوں۔
امریکا اور اسرائیل جو غزہ اور اس کی مزاحمت کو عسکری طور پر شکست دینے میں ناکام رہے ہیں تو اب امن کے نام پر فلسطینی عوام کو دھوکہ دینے کی سازش کی جا رہی ہے، یعنی غزہ کے فلسطینی باشندوں کو سیاسی و انتظامی طور پر غیر موثر بنا کر فلسطینی مزاحمت کو کمزورکرنا اور اس طرح کے متعدد مکروہ عزائم اس منصوبہ کا حصہ ہیں۔
فلسطینی مسئلے کا اصل حل یہ ہے کہ امن قابض کے لیے نہیں محکوم کے لیے محسوس ہو اور یہ ممکن تب ہی ہے جب فلسطینی عوام اپنے مستقبل کے خود مالک ہوں، یعنی فلسطین فلسطینیوں کا وطن ہے اور فلسطین کی قسمت کا ہر فیصلہ فلسطینیوں کو کرنے دیا جائے، نہ کہ دنیا بھر میں جنگ و جدال کرنیوالی امریکی حکومت امن کے نام پر فلسطینیوں کا استحصال کرے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔