گل پلازہ کی آگ: حادثہ نہیں، اجتماعی غفلت ہے
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
گل پلازہ کی ہولناک آتشزدگی کے شعلے ٹھنڈے ہوئے تو اس سانحے پر سیاسی دشنام طرازی کے شعلے اسی تیزی سے بھڑک اٹھے۔ صوبائی حکومت اور مئیر کراچی کی جماعت پر فائر بریگیڈ کی تاخیر سے آمد، ناقص کارکردگی اور پانی کی وافر دستیابی نہ ہونے سمیت سانحے کے مختلف پہلوؤں پر تنقید ہوئی۔ ایم کیو ایم نے شہر کراچی کی ناپرسانی کا گلہ کیا اور اسے وفاقی علاقہ قرار دینے کا مطالبہ بھی کردیا۔
آتشزدگی کے مناظر، 67 سے زائد لاشوں اور 80 سے زائد افراد کی تاحال گمشدگی کی تفصیلات ہم ایسے کمزور دلوں کو دیکھنے کا حوصلہ ہے نہ سننے کا۔ ابتدائی انکوائری رپورٹ کے مطابق آگ گراؤنڈ فلور پر مصنوعی پھولوں کی ایک دکان میں لگی اور پھر تیزی سے پھیلتی گئی۔ اوور کراؤڈڈ پلازے کی 1200 دکانوں میں سے صرف 200 دکانوں پر آگ بجھانے کے آلات نصب تھے۔ نہیں معلوم کہ یہ سب چالو حالت میں تھے یا نہیں؟ انھیں استعمال کرنے کی ٹریننگ بھی متعلقہ لوگوں نے لے رکھی تھی یا نہیں؟ اس پلازے میں فائرفائٹنگ کی کبھی ڈرل یعنی مشق بھی ہوئی یا نہیں؟ ایمرجنسی دروازوں کی موجودگی اور رسائی پر بھی سوالات ہیں۔
کراچی کے گل پلازہ میں آتشزدگی نے ایک بار پھر ہمارے شہروں کی ایک بڑی کمزوری کی طرف متوجہ کیا ہے۔ اس آگ میں قیمتی تجارتی سامان مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہوا، درجنوں دکانیں متاثر ہوئیں، روزگار کا ایک بڑا ذریعہ لمحوں میں خاکستر ہو گیا لیکن جانی نقصان کا دلخراش المیہ سب پر بھاری ہے۔ ایک دوسرا المیہ مگر یہ بھی ہے کہ ہم ایسے سانحات کے عادی کیوں ہو چکے ہیں؟
گزشتہ دو برسوں کے دوران آتشزدگی کے واقعات پر نظر ڈالی جائے تو ہماری اجتماعی بے حسی واضح ہو جاتی ہے۔ جون 2024 میں لاہور کے معروف کاروباری سینٹر میں آگ بھڑکی، جس نے ماضی کے زخم تازہ کر دیے۔ ستمبر 2024 میں کراچی کے لانڈھی صنعتی ایریا کی ایک فیکٹری میں آگ لگی، جہاں مزدور گھنٹوں محصور رہے۔ جنوری 2025میں فیصل آباد کے ٹیکسٹائل زون میں آتشزدگی نے کروڑوں روپے کا سامان جلا ڈالا جب کہ چند ماہ بعد راولپنڈی کی ایک کمرشل مارکیٹ میں آگ نے کاروبار مفلوج کر دیا۔ یہ فہرست طویل ہے مگر افسوس ناک بات یہ ہے کہ ہر واقعہ کی وجوہات اور آگ پر قابو نہ پاسکنے کی تقریباً ایک ہی کہانی ہے۔
شہری آبادیوں اور تعمیرات کا بنیادی اصول دنیا بھر میں تسلیم شدہ ہے: منصوبہ بندی، بلڈنگ کوڈز اور حفاظتی ضوابط پر سختی سے عمل ہو تو بڑے نقصانات روکے جا سکتے ہیں لیکن ہمارے ہاں شہر مفادات کے تحت پھیلتے ہیں، قواعد بالعموم فائلوں تک محدود ہیں اور یوں انسانی جانوں کو ثانوی حیثیت پر دھکیل دیا جاتا ہے۔ گل پلازہ کی آگ اسی اجتماعی طرزِعمل اور غفلت نتیجہ ہے۔
پاکستان میں فائر سیفٹی کو صنعتی اور تجارتی شعبوں میں ہمیشہ ایک اضافی بوجھ سمجھا گیا۔ فائر الارم، اسپرنکلر سسٹم، ایمرجنسی ایگزٹ یا عملے کی تربیت… یہ سب ایسے اقدامات اور اخراجات سمجھے جاتے ہیں جن سے کم وبیش اجتماعی گریز پائی ہے۔ نتیجتاً زیادہ تر کمرشل عمارتیں صرف اس حد تک ’’محفوظ‘‘ ہوتی ہیں جس حد تک کاغذی کارروائی کی مجبوری ہو۔
کمرشل پلازوں میں بجلی کی تنصیب کا حال بالعموم غیرمحفوظ اور نان پروفیشنل ہے۔
غیرمعیاری اور الجھی وائرنگ، اوورلوڈنگ، غیرقانونی کنکشن اور جنریٹرز و یو پی ایس کا بے ہنگم استعمال معمول ہے۔ اکثر عمارتوں میں ایمرجنسی سیڑھیاں یا تو سرے سے موجود نہیں ہوتیں یا بعد میں انھیں گودام یا اضافی دکانوں یا کسی اور مقصد کے لیے استعمال کر لیا جاتا ہے۔ فائر ایکسٹنگوشر لگے بھی ہوں تو اکثر ایکسپائر ہو چکے ہوتے ہیں یا کسی نے انھیں چلانا سیکھا ہی نہیں ہوتا۔
گزشتہ برسوں کے بڑے آتشزدگی کے واقعات کی ایک قدر مشترک حفاظتی انتظامات کی عدم موجودگی رہی ہے۔ مالی نقصان اربوں روپے میں ناپا جا سکتا ہے مگر جو انسانی جانیں ضایع ہوئیں، وہ کسی حساب میں نہیں آتیں۔ ملک بھر میں پہ در پہ واقعات کے باوجود بے حسی اور انسانی جانوں کے مقابلے میں مفادات کو ترجیح ہمارا اصل المیہ ہے۔
حکومتی اداروں کی کمزوری اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ فائر بریگیڈ جیسے محکمے شدید مالی قلت، پرانے آلات اور محدود افرادی قوت کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ دنیا کے جدید شہروں میں جہاں فائر فائٹنگ منظم ادارے اور اہم قومی ترجیح ہے، وہاں ہمارے ادارے انتہائی بنیادی سطح پر ہیں۔ اس پر مستزاد بدانتظامی اور کرپشن نے نظام کو مزید کھوکھلا کر دیا ہے۔
تاہم یہ کہنا بھی مکمل سچ نہیں کہ قصور صرف حکومت کا ہے۔ عوام، تاجر اور صنعتکار بھی اس غفلت میں برابر کے شریک ہیں۔ ہم میں سے کتنے لوگ دکان یا دفتر لیتے وقت فائر ایگزٹ اور حفاظتی انتظامات پر سوال اٹھاتے ہیں؟ کتنے لوگ غیرقانونی تعمیر یا خطرناک وائرنگ پر خاموشی اختیار نہیں کرتے؟ ہماری اجتماعی نفسیات یہی ہے کہ سہولت اور سستائی، حفاظت پر غالب آ جاتی ہے۔
دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں صورتحال مختلف ہے۔ وہاں فائر سیفٹی کوئی ثانوی معاملہ نہیں بلکہ شہری نظم وضبط کا لازمی جزو ہے۔ عمارت کی تکمیل سے پہلے فائر ڈیپارٹمنٹ کی منظوری، باقاعدہ انسپیکشن اور سخت سزائیں ایک معمول ہیں۔ اسی لیے وہاں آگ لگتی بھی ہے تو بڑے سانحات کم دیکھنے میں آتے ہیں۔
گل پلازہ آتشزدگی کا سانحہ ہمیں جھنجھوڑ گیا ہے کہ ہم اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں۔ وفاقی حکومت کو فائر سیفٹی کو قومی ترجیح بنانا ہوگا۔ صوبائی حکومتوں کو بلڈنگ کوڈز پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانا ہوگا۔ مقامی حکومتوں کو حقیقی اختیارات دے کر جوابدہ بنانا ہوگا۔ فائر بریگیڈ کو جدید آلات، مناسب فنڈنگ اور پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ کمرشل پلازوں اور صنعتی یونٹس کے لیے فائر سیفٹی سرٹیفکیشن محض کاغذی شرط نہ رہے بلکہ عملی حقیقت بنے۔ بجلی کی تنصیب اور ترسیلی نظام کو مؤثر اور معیاری بنایا جائے۔ خلاف ورزی کی سزا اس قدر مؤثر ہو کہ قانون توڑنا فائدے کا سودا نہ رہے۔
گل پلازہ کی آگ اگر ہمیں اس اجتماعی غفلت سے باہر نکال دے تو شاید یہ سانحہ کسی مثبت تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکے ورنہ اندیشہ یہی ہے کہ ہم چند دن افسوس کریں گے اور پھر کسی اگلی آتشزدگی تک خواب غفلت میں سو جائیں گے۔ گزشتہ واقعات کی سنگینی سامنے رکھیں تو خاکم بدہن کوئی نئی آگ پچھلی سے زیادہ ہولناک ثابت ہوسکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: گل پلازہ کی ا تشزدگی کے فائر سیفٹی کی ایک
پڑھیں:
ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
ایس یو سی کے مرکزی رہنماء نے رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان جامعۃ النجف کوٹلی امام حسین میں گرمیوں کی چھٹیوں سے استفادہ کرتے ملت جعفریہ کے بچوں کے لیے پرنسپل جامعتہ النجف علامہ محمد رمضان توقیر کی نگرانی بیس روزہ دین شناسی شارٹ کورس کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں ڈیرہ شہر اور مضافات سے کثیر تعداد میں بچوں نے شرکت کی۔اس دین شناسی شارٹ کورس میں بچوں کو قرآن وحدیث،وضو،صوم ،صلوات اور بنیادی فقہی احکام سے روشناس کرایا گیا۔ جس میں جامعتہ النجف کے دیگر مدرسین محنت و لگن کے ساتھ بچوں کی رہنمائی کرتے رہیں۔ دین شناسی شارٹ کورس کے آخر میں مدرسین نے اپنی محنت اور طلاب کرام کی کارکردگی کو جانچنے کے لیے بچوں سے امتحان لیا۔اساتذہ کی محنت اور بچوں کی محنت قابلِ تعریف تھی۔تقسیم تقریب انعامات کا اہتمام کیا گیا۔
پرنسپل جامعہ علامہ محمد رمضان توقیر نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کی محنت اور طلاب کرام کی امتحانات میں تسلی بخش نتائج کو سراہتے ہوئے کہا کہ انشاء اللہ اس طرح دین مبین کی خدمت کا سلسلہ جاری رکھیں گے اور ملت کے جوانوں کی دینی تعلیم و تربیت کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔ اس موقع پر رہبرِ انقلاب کی دینی و انقلابی خدمات اور ایران کی استقامت اور ثابت قدمی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اسی قرآن و سنت کی آگاہی اور خدا تعالیٰ کی وحدانیت کے پختہ عقیدہ کی وجہ سے ایران کی حکومت اور عوام شیطان بزرگ کے خلاف استقامت اور جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن بدن حاوی ہوتی جا رہا ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ لیکن کچھ ناقدین آج بھی ایران کی استقامت اور کامیابیوں سے پریشان ہیں اور شیطان بزرگ کی خوشنودی کے لیے ایران پر تنقید کر رہے ہیں کہ ایران عرب ممالک پر حملہ کر رہا ہے۔
علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے۔ اس موقع پر نئے رہبر آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای سے تجدیدِ عہد کا اظہار بھی کیا گیا اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ حق، عدل، وحدتِ امت اور مظلوموں کی حمایت کے اصولوں پر ثابت قدم رہتے ہوئے اسلامی اقدار کے فروغ کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں گے۔ تقریب تقسیم انعامات میں مدرسین اور معززین علاقہ نے شرکت کی اور امتحان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلاب کرام کو انعامات سے نوازا گیا اور انکی حوصلہ افزائی کی گئی۔ امتِ مسلمہ کے اتحاد، ایران کی فتح و نصرت، پاکستان کی سلامتی اور شہدائے اسلام، بالخصوص رہبر شہید کے لئے دعا کی گئی۔