Jasarat News:
2026-07-24@02:40:03 GMT

اسلام آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ نجکاری پروگرام میں شامل

اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اسلام آباد(مانیٹر نگ ڈ یسک )حکومت نے طویل مدتی رعایتی موڈ کے تحت اسلام آباد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نج کاری پروگرام شامل کرلیا ہے اور اسلام آباد سمیت کراچی اور لاہور ائرپورٹ کے آپریشنز کی آؤٹ سورسنگ کے لیے ممکنہ طریق کار پر غور کر رہی ہے، جس میں انتظامی معاہدے اور طویل مدتی تجارتی مراعات بھی شامل ہیں۔ نجکاری کمیشن کے مطابق اس حکمت عملی کے ایک حصے کے طور پر اسلام آباد ائرپورٹ کو بھی کراچی اور لاہور کے ہوائی اڈوں کیلیے جاری عمل کے مطابق نجکاری کے فعال پروگرام میں شامل کیا گیا ہے۔کمیشن نے بتایا کہ حکومت کے بنیادی مقاصد کارکردگی کو بڑھانا، خدمات کی فراہمی بہتر بنانا، زیادہ سے زیادہ آمدنی پیدا کرنا، انفرا اسٹرکچر اپ گریڈ کرنا اور ملکی اور بین الاقوامی نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔نجکاری کمیشن نے بتایا کہ امارات، ترکی، سعودی عرب کیساتھ ساتھ دیگر بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز سمیت قابل قدر شراکت دار ممالک کے اداروں کیساتھ تعمیری بات چیت شامل ہے۔بیان میں کہا گیا کہ یہ کوششیں ہوا بازی کے شعبے کو جدید بنانے کیلیے باہمی طور پر فائدہ مند تعاون کو فروغ دینے کیلیے پاکستان کے وسیع تر اقتصادی ویژن کے مطابق ہیں۔مزید بتایا گیا کہ نجکاری کمیشن نے کچھ گمراہ کن رپورٹس کا نوٹس لیا جو اسلام آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ کیلیے کسی مجوزہ معاہدے کو منسوخ کرنیکی خبر پر مبنی ہیں اور ایسی رپورٹس کی سختی سے تردید کرتا ہے۔بتایا گیا کہ پاکستان کا امارات کیساتھ لیز کا کوئی معاہدہ منسوخ کرنے کا دعویٰ حقائق کے منافی اور گمراہ کن ہے کیونکہ اسلام آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ سمیت کسی بھی ہوائی اڈے کیلیے ایسا کوئی معاہدہ یا لیز پر دستخط نہیں کیے گئے ہیں۔نجکاری کمیشن نے بتایا کہ نومبر 2025ء میں مختلف سرمایہ کاروں کی جانب سے ان مراعات میں حصہ لینے کیلیے اعلیٰ سطح کی دلچسپی کی وجہ سے، حکومت نے تینوں ہوائی اڈوں کیلیے جی ٹو جی موڈ سے اوپن بڈنگ موڈ پر جانے کا فیصلہ کیا۔اس ضمن میں بتایا گیا کہ اس مسابقتی عمل میں تمام ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے پاس بولی کے عمل میں حصہ لینے کیلیے ایک برابر کا میدان ہوگا، اس فیصلے کا کوئی سیاسی یا سفارتی پس منظر نہیں ہے اور یہ خالصتاً اقتصادی اور طریقہ کار پر مبنی ہے۔نجکاری کمیشن نے بتایا کہ ہوائی اڈے کی آؤٹ سورسنگ کے لیے متعین کردہ مسابقتی عمل شمولیت کو ترجیح دے گا اور تمام اہل اداروں کی شرکت کا خیرمقدم کرے گا، بشمول قابل قدر شراکت دار ممالک اور اس سے علاوہ جبکہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں گے۔کمیشن کے مطابق یہ اصول شفافیت اور منصفانہ مسابقت کو فروغ دینے، پاکستان کی معیشت کے لیے انتہائی فائدہ مند نتائج فراہم کرنے اور بین الاقوامی شراکت داروں کیساتھ ہمارے پائیدار تعلقات کو تقویت دینے کیلیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

مانیٹرنگ ڈیسک گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کمیشن نے بتایا کہ نجکاری کمیشن نے بین الاقوامی اسلام ا باد کے مطابق گیا کہ

پڑھیں:

یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام

یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔

یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔

کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔

یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔

کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش