اسلام آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ نجکاری پروگرام میں شامل
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(مانیٹر نگ ڈ یسک )حکومت نے طویل مدتی رعایتی موڈ کے تحت اسلام آباد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو نج کاری پروگرام شامل کرلیا ہے اور اسلام آباد سمیت کراچی اور لاہور ائرپورٹ کے آپریشنز کی آؤٹ سورسنگ کے لیے ممکنہ طریق کار پر غور کر رہی ہے، جس میں انتظامی معاہدے اور طویل مدتی تجارتی مراعات بھی شامل ہیں۔ نجکاری کمیشن کے مطابق اس حکمت عملی کے ایک حصے کے طور پر اسلام آباد ائرپورٹ کو بھی کراچی اور لاہور کے ہوائی اڈوں کیلیے جاری عمل کے مطابق نجکاری کے فعال پروگرام میں شامل کیا گیا ہے۔کمیشن نے بتایا کہ حکومت کے بنیادی مقاصد کارکردگی کو بڑھانا، خدمات کی فراہمی بہتر بنانا، زیادہ سے زیادہ آمدنی پیدا کرنا، انفرا اسٹرکچر اپ گریڈ کرنا اور ملکی اور بین الاقوامی نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو راغب کرنا ہے۔نجکاری کمیشن نے بتایا کہ امارات، ترکی، سعودی عرب کیساتھ ساتھ دیگر بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز سمیت قابل قدر شراکت دار ممالک کے اداروں کیساتھ تعمیری بات چیت شامل ہے۔بیان میں کہا گیا کہ یہ کوششیں ہوا بازی کے شعبے کو جدید بنانے کیلیے باہمی طور پر فائدہ مند تعاون کو فروغ دینے کیلیے پاکستان کے وسیع تر اقتصادی ویژن کے مطابق ہیں۔مزید بتایا گیا کہ نجکاری کمیشن نے کچھ گمراہ کن رپورٹس کا نوٹس لیا جو اسلام آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ کیلیے کسی مجوزہ معاہدے کو منسوخ کرنیکی خبر پر مبنی ہیں اور ایسی رپورٹس کی سختی سے تردید کرتا ہے۔بتایا گیا کہ پاکستان کا امارات کیساتھ لیز کا کوئی معاہدہ منسوخ کرنے کا دعویٰ حقائق کے منافی اور گمراہ کن ہے کیونکہ اسلام آباد انٹرنیشنل ائرپورٹ سمیت کسی بھی ہوائی اڈے کیلیے ایسا کوئی معاہدہ یا لیز پر دستخط نہیں کیے گئے ہیں۔نجکاری کمیشن نے بتایا کہ نومبر 2025ء میں مختلف سرمایہ کاروں کی جانب سے ان مراعات میں حصہ لینے کیلیے اعلیٰ سطح کی دلچسپی کی وجہ سے، حکومت نے تینوں ہوائی اڈوں کیلیے جی ٹو جی موڈ سے اوپن بڈنگ موڈ پر جانے کا فیصلہ کیا۔اس ضمن میں بتایا گیا کہ اس مسابقتی عمل میں تمام ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے پاس بولی کے عمل میں حصہ لینے کیلیے ایک برابر کا میدان ہوگا، اس فیصلے کا کوئی سیاسی یا سفارتی پس منظر نہیں ہے اور یہ خالصتاً اقتصادی اور طریقہ کار پر مبنی ہے۔نجکاری کمیشن نے بتایا کہ ہوائی اڈے کی آؤٹ سورسنگ کے لیے متعین کردہ مسابقتی عمل شمولیت کو ترجیح دے گا اور تمام اہل اداروں کی شرکت کا خیرمقدم کرے گا، بشمول قابل قدر شراکت دار ممالک اور اس سے علاوہ جبکہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں گے۔کمیشن کے مطابق یہ اصول شفافیت اور منصفانہ مسابقت کو فروغ دینے، پاکستان کی معیشت کے لیے انتہائی فائدہ مند نتائج فراہم کرنے اور بین الاقوامی شراکت داروں کیساتھ ہمارے پائیدار تعلقات کو تقویت دینے کیلیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کمیشن نے بتایا کہ نجکاری کمیشن نے بین الاقوامی اسلام ا باد کے مطابق گیا کہ
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔