کیا ملالہ پاکستان کا فخر ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260125-03-6
پاکستان کے سیکولر اور لبرل دانش ور مغرب کے ذہنی، نفسیاتی اور فکری ایجنٹ ہیں۔ مغرب جس چیز کو حق کہتا ہے یہ اسے حق کہتے ہیں، مغرب جس کو باطل کہتا ہے یہ اسے باطل کہتے ہیں۔ مغرب عقل کو خدا مانتا ہے، یہ بھی مانتے ہیں، چونکہ مغرب ملالہ کو ’’ہیروئن‘‘ بنا کر پیش کرتا ہے اسی لیے پاکستان کے معروف دانش ور وجاہت مسعود نے 17 جنوری 2026ء کے کالم میں ملالہ کے بارے میں فرمایا ہے کہ وہ پاکستان کا فخر ہے۔ لیکن ملالہ نہ کبھی پاکستان کا فخر تھی نہ ہے اور نہ ہوگی۔ وہ پاکستان کی شرمندگی تھی، ہے اور رہے گی۔ اس دعوے کی دلیل ہمارا وہ کالم ہے جو 2012ء میں ملالہ پر حملے کے بعد فرائیڈے اسپیشل کے 19 اکتوبر 2012ء کے شمارے میں شائع ہوا۔ اس کالم میں ہم نے ملالہ پر حملے کے بعد مغرب میں سامنے آنے والے ’’غیر معمولی‘‘ ردِعمل کی تفصیل اور اس کا تجزیہ پیش کیا ہے۔ یہ کالم جماعت اسلامی کے ادارے منشورات لاہور نے ایک کتابچے کی صورت میں بھی شائع کیا تھا۔ یہ کالم وجاہت مسعود کے دعوے کا منہ توڑ جواب ہے۔ ملاحظہ کیجیے۔
’’9 اکتوبر 2012ء کو ملالہ یوسف زئی اور اس کی 2 ساتھیوں پر حملہ ہوا تو یہ قتل کی ان ہزاروں عام وارداتوں میں سے ایک واردات تھی جو گزشتہ 25 سال سے پاکستان میں ’’معمول بنی ہوئی ہیں اور جن کے نتیجے میں اب تک 50 ہزار سے زیادہ پاکستانی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ لیکن چند ہی گھنٹوں میں ملالہ پر حملے کی خبر پاکستان کیا دنیا کی سب سے بڑی خبر بن گئی اور ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ملالہ پر نہیں امریکا کے صدر پر قاتلانہ حملہ ہو گیا ہے جس نے پاکستان امریکا اور دیگر مغربی ملکوں کی سیاست اور معیشت میں ایک زبردست بحرانی صورت حال پیدا کر دی ہے۔ ملالہ پر حملے کا یہی وہ پہلو ہے جس نے چند ہی گھنٹوں میں پورے واقعے کو مشتبہ بنا کر اس کی تعبیر کو بدل ڈالا ہے۔ کسی شاعر نے خوب کہا ہے۔
خنجر پہ کوئی چھینٹ نہ دامن پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
ملالہ کے واقعے نے اس شعر کو جس طرح مجسم کیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ جس وقت ملالہ پر حملہ ہوا اس وقت کہا جا سکتا تھا کہ اس واقعے میں کوئی بھی ملوث ہو سکتا ہے لیکن اس واقعے پر جس طرح کا رد عمل سامنے آیا اسے دیکھ کر یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ ملالہ اور اس کی دو معصوم ساتھیوں کو امریکا اور اس کی مقامی ایجنٹ ایجنسیوں نے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے اپنی گولیوں کا نشانہ بنایا ہے اور اب وہ اس واقعے کو شمالی وزیرستان میں آپریشن کے لیے بروئے کار لانے کے لیے کوشاں ہیں۔ لیکن اس دعوے کی دلیل کیا ہے؟۔
اس واقعے کی دلیل یہ ہے کہ جیسے ہی ملالہ پر حملے کی خبر آئی تو صدر امریکا بارک حسین اوباما نے واقعے کی مذمت فرمائی اسے بدمزہ کرنے والا واقعہ قرار دیا اور کہا کہ امریکا ملالہ کے علاج معالجے کے لیے ہر ممکن مدد کے لیے تیار ہے۔ اس رد عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ صدر امریکا اتنا فارغ ہے کہ وہ پاکستان میں تین بچیوں پر حملے کی مذمت کے لیے دستیاب ہے۔ واضح رہے کہ یہ وہی صدر امریکا ہے جس نے پاکستان کے سلالہ ائر بیس پر امریکا کے حملے اور وہاں دو درجن پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت پر اظہار افسوس سے بھی صاف انکار کر دیا تھا۔ واضح رہے کہ یہ وہی صدر امریکا ہے جس نے ریمنڈ ڈیوس جیسے مجرم کی باعزت امریکا واپسی کا اہتمام کرتے ہوئے پاکستان کی آزادی اور خود مختاری کو پامال کرنے میں ذراسی بھی ہچکچاہٹ محسوس نہ کی۔ تو کیا زخمی ملالہ امریکا کے صدر کے لیے دو درجن پاکستانی فوجیوں سے زیادہ قیمتی ہوگئی ہے؟ اور کیا ریمنڈ ڈیوس کو چھڑانے اور سلالہ پر حملے کی مذمت کرنے والا صدر امریکا دو مختلف افراد سے عبارت ہے؟ لیکن یہ تو ملالہ پر حملے کے حوالے سے ہونے والے سیاسی اور ابلاغی تماشے کی محض ابتدا ہے۔
اقوام متحدہ ایک عالمی تنظیم ہے اور اس کے پاس کرنے کے لیے ہزاروں کام ہیں۔ دنیا میں روزانہ ہزاروں بے گناہ افراد جرائم پیشہ عناصر کا نشانہ بنتے ہیں مگر اقوام متحدہ کا سیکرٹری جنرل ان کا نوٹس تک نہیں لیتا، یہاں تک کہ اس کے پاس فلسطین اور کشمیر جیسے مسائل کا نوٹس لینے کے لیے بھی وقت نہیں ہے لیکن ملالہ پر حملہ ہوتے ہی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون بھی متحرک ہو گئے۔ انہوں نے ملالہ پر حملے کی مذمت کی اور کہا کہ وہ تعلیمی حقوق سے متعلق ملالہ کی مہم سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔ بان کی مون کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ جیسے وہ ملالہ سے برسوں سے واقف تھے اور ’’گہری نظر‘‘ سے ملالہ کی جدو جہد کا مشاہدہ و مطالعہ کر رہے تھے۔ اور کیوں نہ کرتے ملالہ نے لڑکیوں میں تعلیم کو عام کرنے کے لیے جو جدو جہد کی ہے اس کی کوئی مثال گزشتہ سو سال میں سامنے نہیں آسکی ہے؟ امریکا کی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے بھی ملالہ پر حملے کی مذمت کی اور اسے افسوسناک قرار دیا۔ امریکا کے سابق صدر جارج بش کی اہلیہ لارا بش ملالہ پر حملے سے اتنی متاثر ہوئیں کہ انہوں نے امریکا کے ممتاز اخبار واشنگن پوسٹ میں ایک پورا مضمون اس حوالے سے لکھ ڈالا۔ اس مضمون میں انہوں نے فرمایا کہ ملالہ انہیں کیا پوری دنیا کو Inspire کر رہی ہے۔ آدمی کو کسی سے Inspire ہونے کے لیے دہائیاں یا کم از کم دو چار برس درکار ہوتے ہیں۔ مگر لارا بش ملالہ پر حملے کی خبر سنتے ہی Inspire ہو گئیں۔ لارا بش سے پوچھا جا سکتا ہے کہ نائن الیون کے بعد امریکا کی جنگ میں مارے جانے والے 30 ہزار پاکستانیوں سے وہ کتنا Inspire ہیں؟ اگر وہ زخمی ملالہ کے لیے ایک مضمون لکھ سکتی ہیں تو 30 ہزار پاکستانیوں کے لیے تو انہیں اب تک انسائیکلو پیڈیا مرتب کر دینا چاہیے تھا۔ مگر ہم نے آج تک اس سلسلے میں ان کی جانب سے ایک لفظ بھی منظر عام پر آتے نہیں دیکھا۔ نیو یارک سے امریکی سینیٹ کی رکن کرشین گلی برینڈ نے ملالہ پر حملے کے حوالے سے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی ملالہ سے بہت متاثر یا Inspire ہیں اور ملالہ نے ایک فرد کی قوت کو ظاہر کیا ہے۔ عمران خان کی سابق شریک حیات جمائما خان نے ملالہ پر حملے کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ملالہ پر حملہ کرنے والے طالبان نامی قصائیوں کی سب ہی کو مذمت کرنی چاہیے۔ اقوام متحدہ میں امریکا کی سفیر سوسان رائس بھی ملالہ پر حملے کے حوالے سے چیخ اٹھیں اور انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل ملالہ سے وابستہ ہے۔ امریکی کانگریس کی رکن سوسات ڈیوس نے فرمایا کہ آج ہم سب ملالہ بنے ہوئے ہیں۔ آسٹریلیا کی سینیٹ کی رکن کرشین ملنے نے فرمایا کہ بچیوں کے عالمی دن کے موقع پر آئیے ہم سب ملالہ کی تکریم کریں۔ امریکا کے ممتاز اخبار نیو یارک ٹائمز نے ملالہ پر حملے کے حوالے سے پورا اداریہ سپر قلم کیا ہے اور کہا کہ پاکستان کا اگر کوئی مستقبل ہے تو ملالہ اس کی علامت ہے۔ امریکا کے ممتاز Forbes (فاربس) میگزین نے ملالہ پر حملے کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ہمت اور اخلاقی جرأت کی علامت ہے۔ یہاں تک کہ امریکا کی ممتاز گلو کارہ میڈونا بھی پاکستان پر اتنی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ جیسے ہی ملالہ پر حملہ ہوا انہیں اس کی اطلاع ہوگئی۔ اس وقت وہ ایک کنسرٹ میں تھیں اور اْنہوں نے اپنا ایک گیت ملالہ کے نام کر دیا۔
اللہ کا شکر ہے کہ ملالہ زندہ ہے لیکن امریکا کی جنگ میں 30 ہزار پاکستانی مارے جاچکے ہیں مگر افسوس میڈونا کو ان میں سے کوئی پاکستانی بھی اس لائق محسوس نہ ہوا کہ وہ اپنا ایک گیت اس کے نام کر دیتیں۔
یہ ملالہ کے حوالے سے مغرب میں سامنے آنے والے رد عمل کی محض ایک ’’جھلک‘‘ ہے اور اس جھلک سے ظاہر ہے کہ جو کچھ ہوا امریکی سی آئی اے اور بلیک واٹر کی منصوبہ بندی سے ہوا۔ پاک امریکا تعلقات کی تاریخ 65 برسوں پر محیط ہے۔ ان 65 برسوں میں کیا نہیں ہوا۔ بھٹو صاحب جیسے لیڈر کو پھانسی ہوگئی۔ جنرل ضیاء الحق طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہوئے۔
بے نظیر بھٹو جیسی مقبول رہنما دن دہاڑے قتل کر دی گئیں یہاں تک کہ 1971 ء میں پاکستان دو ٹکڑے ہوا مگر امریکا اور دیگر اہل مغرب کو پاکستان یا کسی پاکستانی کے لیے اس طرح تڑپتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔
لیکن ملالہ کے حوالے سے صرف مغرب کا رد عمل ہی اہم نہیں۔ ملالہ پر حملے نے پاکستان کے فوجی اور سول حکمرانوں کو بھی ’’ہلا کر‘‘ رکھ دیا۔ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل کیانی ملالہ کے زخمی ہونے سے اتنے ’’غم زدہ‘‘ ہوئے کہ وہ ملالہ کی خیریت معلوم کرنے اور اس کے علاج معالجے کے معاملات کا جائزہ لینے کے لیے بہ نفس نفیس اسپتال پہنچے۔ امریکا کے ڈرون حملوں سے اب تک ہزاروں پاکستانی اور درجنوں بے گناہ اور معصوم بچے اور عورتیں شہید ہوچکی ہیں۔ مگر جنرل پرویز کیانی ان شہیدوں کے گھر تو کیا جاتے انہوں نے شہدا کے ورثا کے نام ایک تعزیتی خط تک نہیں لکھا۔ یہاں تک کہ وہ یہ بھی بھول گئے کہ ملالہ کے ساتھ دو اور معصوم بچیاں بھی زخمی ہوئی ہیں۔ جنرل کیانی ان کی بھی عیادت کر لیتے تو ان کا کیا بگڑ جاتا مگر تماشے کا اہتمام تو معصوم ملالہ کے حوالے سے ہوا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ملالہ کے حوالے سے امریکی سی آئی اے، بلیک واٹر اور آئی ایس آئی ایک ہی دائرے میں رقص کناں ہیں۔
ملالہ پر حملے کے حوالے سے راجا پرویز اشرف اور ان کی حکومت جو ’’زندہ درگور‘‘ کا منظر پیش کر رہی تھی اچانک ’’چھلانگ‘‘ مار کر سامنے آگئی۔ راجا پرویز اشرف نے سیاست دانوں کی ایک فوج کے ساتھ ملالہ کی عیادت کی اور فرمایا کہ یہ پاکستان ملالہ کا پاکستان ہے۔ سوال یہ ہے کہ جو لوگ پاکستان کو اقبال اور قائد اعظم کا کیا بھٹو کا پاکستان بھی نہیں بنا سکے وہ کس منہ سے کہہ رہے ہیں کہ یہ ملالہ کا پاکستان ہے۔ راجا پرویز اشرف کو یہ بات کہنے سے پہلے بتانا چاہیے کہ انہوں نے دو سال مسلسل آنے والے سیلاب سے ہلاک اور بے گھر ہونے والے لاکھوں بے گناہ لوگوں کا پاکستان کیوں نہیں بنایا؟ انہوں نے پاکستان کو امریکا کی جنگ میں ہلاک ہونے والے 25 ہزار عام شہریوں اور 5 ہزار فوجیوں کا پاکستان کیوں نہیں بنایا؟ انہوں نے امریکا کے ڈرونز سے شہید ہونے والے ہزاروں پاکستانیوں کی موت کو محض ’’رجسٹر‘‘ بھی کیوں نہیں کیا؟
اس حوالے سے ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین بھی اکھاڑے میں کود پڑے۔ انہوں نے فرمایا کہ علما یا تو ملالہ پر حملہ کرنے والوں کی مذمت کریں ورنہ ایم کیو ایم انہیں ’’Expose‘‘ کر دے گی۔ انہوں نے عوام سے کہا کہ وہ ایسے اماموں کے پیچھے نماز نہ پڑھیں جو ملالہ پر حملے کی مذمت نہیں کرتے۔ بات یہ ہے کہ یہ باتیں ایک ایسا ر ہنما کر رہا ہے جس پر کراچی میں 20 ہزار انسانوں کے قتل کا جواب واجب ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس سارے تماشے کا سبب کیا ہے؟
9 اکتوبر کو ملالہ پر حملہ ہوا اور 12 اکتوبر کو پاکستان کے وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا کہ شمالی وزیرستان میں موجود طالبان اتنے گھناؤنے ہیں کہ وہ مذاکرات کے لائق نہیں ہیں اور 13 اکتوبر کو یہ اطلاع آگئی کہ شمالی وزیرستان میں آپریشن کا حتمی فیصلہ ہوا ہے مگر یہ فیصلہ فارمیشن کمانڈرز کی دو روزہ کانفرنس میں کیا جائے گا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منور حسن کے اس بیان میں بڑی صداقت ہے کہ سوات آپریشن سے پہلے ایک ویڈیو آئی تھی جس میں نامعلوم افراد ایک لڑکی کو کوڑے مارتے دکھائے گئے تھے۔ بعد میں ویڈیو کا جعلی ہونا ثابت ہوگیا مگر پاکستان کی فوجی اور سیاسی قیادت نے اس ویڈیو کی بنیاد پر طالبان کے خلاف ملک میں ایک فضا تیار کر دی۔ ٹھیک یہی صورت حال اس وقت ہے۔ پاکستان کی فوجی اور سول قیادت شمالی وزیرستان میں مجاہدین کے خلاف امریکا کی ہدایت پر فوجی آپریشن کرنا چاہتی ہے اور اس کے لیے اسے ایک ایسی فضا درکار ہے جس میں وہ شمالی وزیرستان میں جو چاہے کرے۔ اس کام کے لیے امریکا اور اس کے مقامی آلۂ کاروں نے ملالہ کو ڈھال بنالیا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ ملالہ بچیوں کی تعلیم کے لیے بہت کام کر رہی تھی اور وہ ملک میں بچیوں کی تعلیم کی علامت تھی لیکن کراچی اور پورے ملک میں ایسے ایک درجن علما دانشوروں اور صحافیوں کے نام گنوائے جاسکتے ہیں جنہوں نے ملک میں علم، تعلیم اور شعور کو عام کرنے کے لیے زندگی وقف کی ہوئی تھی مگر وہ ’’نامعلوم افراد‘‘ کے ہاتھوں مارے گئے اور ان کے قتل نے ملک کے کسی اخبار میں ایک شہہ سرخی بھی تخلیق نہ کی۔ لیکن ملالہ 9 اکتوبر 2012ء سے تادم تحریر یعنی 13 اکتوبر 2012ء تک قومی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ پر چھائی ہوئی ہے۔ کیا اس فرق کا مفہوم واضح نہیں؟ کیا یہ فرق باشعور لوگوں کو کچھ بھی سوچنے پر مجبور نہیں کر رہا؟
پاکستان کے حکمران کہہ رہے ہیں کہ طالبان بچیوں کی تعلیم کے خلاف ہیں۔ اس بیان کی تصدیق یا تردید کے لیے طالبان کا کوئی مستند نمائندہ دستیاب نہیں۔ لیکن ساری دنیا جانتی ہے کہ پاکستان کو آزاد ہوئے 65 سال ہو گئے مگر اس کے باوجود پاکستان کے 60 فی صد لوگ، جن میں خواتین کی اکثریت ہے نا خواندہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس کا سبب بھی طالبان ہیں؟ پاکستان کو آزاد ہوئے 65 سال ہو گئے مگر پاکستان کی 70 فی صد آبادی خط غربت سے نیچے کھڑی ہے۔ کیا اس کی وجہ بھی ’’طالبان‘‘ ہیں؟ پاکستان کو آزاد ہوئے 65 سال ہو گئے اور پاکستان کے 70 فی صد لوگوں کو پینے کا صاف پانی فراہم نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس کے ذمے دار بھی طالبان ہیں۔ پاکستان کو آزاد ہوئے 65 سال ہو گئے مگر پاکستان کی 70 فی صد آبادی کو علاج معالجے کے لیے ایک سند یافتہ ڈاکٹر میسر نہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ کارنامہ بھی طالبان نے انجام دیا ہے؟ پاکستان کے جرنیل بھارت اور امریکا کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہیں اور اپنی قوم کو فتح کرتے ہیں مگر اس کے باوجود قوم کے بجٹ کا 50 فی صد ہڑپ کر جاتے ہیں۔ کیا اس کا سبب بھی طالبان ہیں؟
کہنے والے کہتے ہیں کہ طالبان نے ملالہ پر حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے بلکہ حکومت نے تو دعویٰ کر دیا ہے کہ اس نے حملہ آوروں کو گرفتار بھی کر لیا ہے۔ طالبان ایک زیر زمین تحریک ہیں اور ایسی تحریکوں کے بارے میں کوئی بھی نہیں جانتا کہ ان کا حقیقی ترجمان اور حقیقی نمائندہ کون ہے۔ جو طاقتیں جھوٹ کی بنیاد پر بڑی بڑی جنگ ایجاد کرتی ہیں ملک توڑتی اور بناتی ہیں ان کے لیے ’’جعلی طالبان‘‘ تخلیق کرنا کون سا مشکل کام ہے۔ البتہ امت مسلمہ کا اجتماعی شعور اور اجتماعی ضمیر جن طالبان کو خوب پہچانتا ہے وہ وہ ہیں کہ جن کے امیر ملا عمر نے بدترین خانہ جنگی کے شکار افغانستان میں امن قائم کیا۔ انسانی جان کی حرمت بحال کی۔ سادگی اور قناعت کی اعلی مثالیں قائم کیں۔ اُمت مسلمہ کا اجتماعی ضمیر اور شعور ان طالبان کو خوب جانتا ہے جنہوں نے 11 ستمبر کے بعد وقت کی واحد سپر پاور امریکا سے خوف زدہ ہونے سے صاف انکار کردیا۔ یہ وہ وقت تھا جب عالم اسلام کی پہلی اور دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت پاکستان کے حکمران ایک ٹیلی فون کال پر پورا ملک امریکا کے حوالے کررہے تھے اور ملا عمر اقبال کے اس شعر کی زندہ مثال بنے کھڑے تھے کہ؎
اگر ملک ہاتھوں سے جاتا ہے جائے
تُو احکامِ حق سے نہ کر بے وفائی
امتِ مسلمہ کا اجتماعی شعور اور اجتماعی ضمیر ان طالبان کو بھی خوب پہچانتا ہے جنہوں نے افغانستان میں مٹھی بھر مجاہدین کی طاقت کے ساتھ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو شکست سے دو چار کیا۔ یہاں تک کہ طالبان کو وحشی اور درندے کہنے والا امریکا طالبان سے مذاکرات کی بھیک مانگتا نظر آیا۔ طالبان کے تصور دین میں نقص ہو سکتا ہے ان کی فکر میں خامی اور کمی ہوسکتی ہے لیکن طالبان پر تنقید کے لیے ایک ایسی بلند اخلاقی اور علمی سطح درکار ہے جو پاکستان کے حکمرانوں اور ذرائع ابلاغ کے پاس نہیں ہے۔ ملالہ اور اس کی دو دیگر ساتھیوں کا دکھ بجا ہے ان کے ساتھ جتنی ہمدردی کی جائے کم ہے لیکن عدالت عظمیٰ نے 12 اکتوبر کو جاری ہونے والے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ بلوچستان میں ایجنسیوں کی مداخلت کے ناقابل تردید ثبوت مل گئے ہیں اور بلوچستان میں 300 ’’ملالائیں‘‘ غائب ہیں۔ پاکستان کے اخبارات اور پاکستان کے ٹیلی وژن ان 300 ملالاؤں کے غم میں کب دن رات ایک کریں گے؟ اب تک تو پاکستان کے ذرائع ابلاغ نے ان ’’ملالاؤں‘‘ کا ایک فی صد غم بھی نہیں منایا ہے حالانکہ ان ’’ملالاؤں‘‘ کو غائب ہوئے مہینوں ہو گئے ہیں۔ جہاں تک مغرب کے ذرائع ابلاغ کا تعلق ہے تو ان کا ’’ریکارڈ‘‘ یہ ہے کہ یورپ کے قلب میں موجود بوسنیا ہرزیگووینا میں سرب درندوں نے ساڑھے 3سال میں ہزاروں ’’ملالاؤں‘‘ کی عصمتوں کو تار تار کیا اور ان میں سے بہت سوں کو مار ڈالا مگر امریکا اور یورپ کے ذرائع ساڑھے تین سال میں ایک ’’ملالہ‘‘ کے ساتھ ہونے والے ظلم کو بھی رپورٹ نہ کر سکے۔ کشمیر میں گزشتہ 25 سال کے دوران 5 ہزار سے زیادہ چھوٹی اور بڑی عمر کی ’’ملالائیں‘‘ بھارتی فوجیوں کی ہوس کا نشانہ بن گئیں مگر ان میں سے ایک ’’ملالہ‘‘ بھی مغربی ذرائع ابلاغ میں جگہ نہ پاسکی۔ اسرائیل نے چند سال پہلے چھے ماہ کے دوران غزہ میں اسکول جاتے ہوئے 250 بچوں اور بچیوں کو گولی مار کر ہلاک کیا مگر ان میں سے بھی کوئی ’’ملالہ‘‘ نہ بن سکی۔ آئیے گزشتہ سطور میں لکھا گیا شعر پھر دہرائیں:
خنجر پہ کوئی چھینٹ نہ دامن پہ کوئی داغ
تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو
ملالہ سے متعلق اس کالم کو پہلی بار شائع ہوئے 15 سال ہوگئے ہیں۔ ان برسوں میں ملالہ کا جو کردار سامنے آیا ہے اس سے اس بات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ ملالہ امریکی سی آئی اے کا تراشا ہوا ایک کردار ہے جس سے امریکا کو کسی وقت کام لینا ہے۔ ملالہ کے جعلی اور مغربی ایجنٹ ہونے کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ملالہ افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کی حالت زار پر تو بیان دیتی ہیں مگر غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام پر انہوں نے آج تک کوئی بیان نہیں دیا۔ کیا ایسی شخصیت پاکستان کا فخر ہوسکتی ہے؟
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان کو ا زاد ہوئے 65 سال ہو گئے شمالی وزیرستان میں پر حملے کی مذمت پاکستان کا فخر سوال یہ ہے کہ نے فرمایا کہ اقوام متحدہ ذرائع ابلاغ پر حملہ ہوا پاکستان کی صدر امریکا اکتوبر 2012ء پاکستان کے کا پاکستان بھی طالبان امریکا اور نے پاکستان امریکا کے امریکا کی طالبان کو کرتے ہوئے اکتوبر کو ہونے والے میں ملالہ کہا کہ وہ اور اس کی اور اس کے ملالہ سے ملالہ کی اس واقعے انہوں نے ہے جس نے ہیں مگر والے سے کے ساتھ ملک میں ہیں اور نے والے میں ایک کیوں نہ سکتا ہے پہ کوئی ہے لیکن نہیں ا اور ان کیا ہے فوجی ا کے نام ہیں کہ کے لیے کرو ہو سے ایک کے بعد کیا اس ہے اور
پڑھیں:
جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
سٹی 42: علیمہ خانم نے فیکٹری ناکہ پر میڈیا ٹاک کرتے ہوئے کہا آج بھی بانی سے ملاقات کے لئے آئے ہیں یہ ہمارا آئینی قانونی حق ہے
علیمہ خانم نے کہااگر آج ملاقات نہ ہوئی تو دیکھیں گے ،اگر بانی کے لئے کھڑے نہ ہوں تو کیا کریں آپکا خیال ہے یہاں کچھ قانون کی مطابق چل رہا ہے،کونسا قانون ہے۔ہم عدلیہ اور آزاد میڈیا کے لئے کھڑے ہیں۔ہم اپنے دفاع میں آپ لوگوں(میڈیا)کو پیش کریں گے۔انکو تو جیل میں ڈالنے کا بہانہ چاہیئے،کس کس کو ڈالیں گے جیل میں۔بانی کہہ چکے کہ پاکستان اسی طرف جا رہا ہے جس طرف نیپال،بنگلہ دیش اور سری لنکا گئے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
بانی سے سابق آرمی چیف کی ملاقات کے بارے میں بیرسٹر گوہر سے پوچھا تھا ۔بانی سے ملنے کوئی نہیں گیا،یہ فیک ہے،جان بوجھ کر دیا انفارمیشن پھیلا رہے ہیں ۔
جب انکو لگتا ہے ٹمپریچر اوپر جا رہا ہے،اسکو ٹھنڈا کرنے کے لئے یہ باتیں شروع ہو جاتی ہیں ڈیل کی ۔میں نے بیرسٹر گوہر سے محسن نقوی کی ملاقات کا پوچھا تھا تو انھوں نے کہا تھا کہ ملے ہیں ۔
بیرسٹر گوہر ن نے کہا محسن نقوی کہتے ہیں کہ کل آپ کی ملاقات کروا دیتے ہیں ۔میں نے کہا وہ جھوٹ بولتے ہیں آپ ان کو کہیں کہ وہ بانی کو اسپتال میں علاج کروائیں۔بیرسٹر گوہر کو کہا تھا کہ آپ نے ملاقات کرنی ہوتو ہم سب کو بتا دو،اسی طرح ہونا چاہیئے ۔کچھ نہیں ہو رہا،اپکو نظر آرہا ہے کہ کچھ ہو رہا ہے ۔یہ خوف سے بھرے ہوئے ہیں،یہ خوف نظر نہیں آرہا،اج سڑک پر کرفیو لگا دیا ہے ۔وہ کہتے ہیں بشری بی بی کی بیٹی سے ملاقات کے بعد سوال میں پوچھنا ۔انکا مطلب یہ ہے کہ بانی کی صحت کے بارے میں نہیں پوچھنا ۔مجھے نہیں پتہ یہ ملاقاتیں کس مقصد کے لئے ہوتی ہیں۔ہمیں یہ پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں،حکومت یہ چیزیں کرکے اپنا خوف دکھا رہی ہے ۔نئی سیاست بانی کو رہا کروانا ہے،جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا
غیر ملکی خاتون کے مبینہ اغوا کیس میں نیا موڑ، پولیس تفتیش میں اہم انکشافات
جب آپ ووٹ چوری کرو گے تو اسکے نتائج کیا ہوں گے؟جب وہ بے بسی محسوس کریں گے آپ جان جان کے جھوٹے الیکشن کروا گے،لاٹھی چارج کرو،یہ ڈرامہ کر رہے ہو،ظلم کر رہے ہیں۔آپ انکے امیدواروں کو مار رہے ہو یہ خوفزدہ لوگ کرتے ہیں ۔یہ پی ٹی آئی کا نہیں لوگوں کا حق ہے،آپ نے کسی کو گرفتار کرلیا،کسی کو جہاز نہیں چڑھنے دیا کیا فرق پڑا ۔ان کے پیچھے عوام نہ کھڑی ہو وہ یہی کرتے ہیں ۔ظلم وہ کرتا ہے جسکے ساتھ عوام نہیں ہوتی ۔وہ بانی کو کہہ رہے ہیں منہ بند رکھو،
نجی کمپنیاں گندم کے مقابلے میں آٹا دوگنی قیمت پر فروخت کرنے لگیں، کارروائی کا مطالبہ
ایران کو دیکھ لیں لیڈر قربانیاں دے رہے یہ انکے لئے نارمل چیز ہے ۔بانی اپنی جان کی قربانی دینے کو تیار ہے،وہ ان لوگوں کے ساتھ کیا ڈیل کرکے نکلے گا ۔ڈیل ایک ہی ہے آزاد عدلیہ،ازاد اور منصفانہ انتخابات ۔آپ عدلیہ ازاد کریں،ازاد منصوبہ انتخابات کون یقینی بناتا ہے آزاد عدلیہ۔
افغانستان اور پاکستان کے دونوں اطراف رشتے دار ہیں ،بانی کہتے ہیں یہ حکومت انکے فیور میں ہے،یہ جان جان کر اس حکومت سے چھیڑا چھاڑی کررہے ہیں ۔اپنے ہمسائے کے ساتھ بہت اچھا بنا کر رکھنی چاہیئے۔
آزاد کشمیر:تعلیمی اداروں میں گرمیوں کی چھٹیوں کا اعلان
افغانستان اپنی زاد خارجہ پالیسی کے تحت روس،چین کے ساتھ معاہدے کرکے ملک کر ترقی کی جانب لیکر جا رہے ہیں ۔آپ نے بارڈر اور ایکسپورٹ بند کرکے ملک بلین ڈالرز کا نقصان کردیا۔ ہم انکے ساتھ ایکسپورٹ بند کریں گے وہ ایران سے لے لیں گے،ایران کی ایکسپورٹ بڑھ جائے گی ۔وہ پارٹیاں نہیں لوٹ مار کی کمپنیاں ہیں،
ہم بھائی کے لئے کھڑے ہیں ہر چیز کریں گے ۔اچکزئی اور علامہ ناصر عباس کو بانی سے سلیکٹ کیا،کہ وہ میچور سیاستدان ہیں ۔سیدھی سے بات ہے جو انکا قانونی حق ہے وہ دے دیں ۔ بانی کو بھی پتہ ہے ان پر پریشر ڈالیں گے تو میز پر بیٹھیں گے
لاہور بورڈ کا بڑا فیصلہ، داخلہ فارم مکمل طور پر آن لائن کرنے کی تجویز