ریلوے ہاؤسنگ سوسائٹی کیس‘ لیز زمین پر ٹرمینل بنانے کیخلاف درخواست کی سماعت
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ ہائیکورٹ میں پاکستان ریلوے ہاؤسنگ سوسائٹی کے نام پر لیز زمین پر ٹرمینل بنانے کے خلاف درخواست کی سماعت۔ عدالت نے ریلوے حکام سے زمین کی حیثیت سے متعلق رپورٹ طلب کرلی۔ دوران سماعت عدالت کا کہنا تھا کہ حقیقت پر مبنی رپورٹ پیش کی جائے، زمین کی حیثیت سے متعلق تضاد یا گڑ بڑ سامنے آئی تو متعلقہ
افسران کو جیل بھیج دیں گے، آرٹیکل 193 کے تحت عدالت کے سامنے جھوٹ بولنے کی سزا 3 سے 7 سال تک ہوسکتی ہے، درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ پاکستان ریلوے ہاؤسنگ سوسائٹی کے لیے لانڈھی میں 1986ء میں زمین دی گئی تھی، 14 سو سے زائد الاٹیز رقم ادا کرنے کے باوجود اپنی زمین سے محروم ہیں۔ سرکاری وکیل کا کہنا تھا کہ جس زمین پر دعویٰ کیا جا رہا ہے وہاں ٹرمینل بنایا جا رہا ہے۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ 1986ء میں ہاؤسنگ سوسائٹی کے لیے زمین الاٹ کی گئی، 2006ء میں ہاؤسنگ سوسائٹی کی لیز منسوخ کردی گئی، 2012ء میں کہا کہ مذکورہ زمین پر ٹرمینل بنایا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ہاو سنگ سوسائٹی کا کہنا تھا کہ
پڑھیں:
کوئٹہ، سرکاری دفاتر میں ایجنٹس کیخلاف ایف آئی اے کی کارروائی، 14 افراد گرفتار
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کیلئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی تحقیقات ادارے ایف آئی ای نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لئے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔ بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لئے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔