غزہ امن بورڈ میں پاکستان کی شمولیت قبول نہیں: حافظ نعیم الرحمن
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
پشاور (نوائے وقت رپورٹ) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پاکستان کا ٹرمپ کے نام نہاد غزہ امن بورڈ میں شمولیت کا فیصلہ کسی صورت قبول نہیں، فیصلہ پر قوم کو اعتماد میں لیا گیا نہ ہی معاملہ وفاقی کابینہ میں زیرِ غور آیا۔ پچیس کروڑ عوام بھیڑ بکریاں نہیں کہ حکمران جو فیصلہ کریں قوم من و عن تسلیم کرلے۔ مرکز الاسلامی پشاور میں جمعیت طلبہ عربیہ کے مرکزی سالانہ تین روزہ اجتماع ارکان و امیدواران سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے ایک دفعہ پھر زور دیا کہ اسلام آباد اور کابل مسائل کا حل مذاکرات سے نکالیں۔ خیبر پختونخوا اور ضم شدہ قبائلی علاقوں میں فوجی آپریشن مسائل کا حل نہیں۔ افغانستان کی سرزمین کسی صورت بھی پاکستان میں دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ خطہ میں امن کی کنجی پاک افغان تعلقات کی بحالی میں ہے۔ امیر جماعت اسلامی کے پی وسطی عبدالواسع، امیر پنجاب وسطی جاوید قصوری ، سابق ایم این اے عبدالاکبرچترالی ، صوبائی نائب امراء مولانا ڈاکٹر محمد اسماعیل،ڈاکٹر ہدایت اللہ ،جمعیت طلبہ عربیہ کے صوبائی منتظم مولانا نعمان مسرور سمیت دیگر ذمہ داران بھی اس موقع پر موجود تھے۔ امیر جماعت اسلامی نے سوال اٹھایا کہ حکمران بتائیں کس کی مشاورت سے غزہ بورڈ میں شمولیت کا اتنا بڑا فیصلہ کیا ہے؟ فارم سنتالیس ہی کی پارلیمنٹ سہی، اس میں تو اس اقدام پر بحث ہونی چاہیے تھی۔ مشرف کی پالیسیوں کا خمیازہ پاکستانی قوم آج تک بھگت رہی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: امیر جماعت اسلامی
پڑھیں:
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
نیویارک (آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا۔اپنے سوشل میڈیا اکانٹ پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان جو سول جوہری معاہدہ طے کیا جا رہا ہے، اس میں کسی بھی قسم کی یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں ہوگی۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ صرف پرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا، بالکل ویسا ہی جیسے ایران، متحدہ عرب امارات اور بعض دیگر ممالک کے پاس موجود سول جوہری پروگرام ہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ اس معاہدے کی منظوری دی جائے گی لیکن اس کی ایک بنیادی شرط یہ ہوگی کہ سعودی عرب باعزت، کامیاب اور نہایت قابل احترام معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہو۔
ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ امریکا کو پرامن مقاصد کے لیے قائم کیے جانے والے ایسے سول جوہری مراکز پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ ان میں یورینیم کی افزودگی نہ کی جائے۔اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کا معاہدہ ابراہیمی میں شامل ہونا مشرق وسطی میں امن کے لیے ایک تاریخی پیش رفت ثابت ہوگا۔
ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ فوجی کارروائی اور ایران کے حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورک کو اسرائیل کی جانب سے شدید نقصان پہنچانیکے بعد اب امن کے دائرے کو مزید وسیع کرنیکا ایک نیا موقع پیدا ہوگیا ہے۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے امریکا اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدیکا کوئی ذکر نہیں کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرآزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع اگلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم