حکومت کی وادی تیراہ کو فوجی احکامات پر خالی کرانےکی بے بنیاد خبروں کی تردید، دعوے بدنیتی پر مبنی قرار
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حکومت نے وادی تیراہ کو فوجی احکامات کے تحت خالی کرانے سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے سختی سے تردید کر دی ہے۔
وزارتِ اطلاعات و نشریات کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ان گمراہ کن اطلاعات کا نوٹس لیا گیا ہے جن میں یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ وادی تیراہ کو فوجی ہدایات پر خالی کرایا جا رہا ہے۔ وزارت کے مطابق ایسی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے معمول کے مطابق صرف دہشت گرد عناصر کے خلاف انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائیاں کرتے ہیں، جن کے دوران عام شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جاتی ہے۔ ان کارروائیوں کے لیے نہ تو آبادی کی منتقلی کی ضرورت ہے اور نہ ہی کسی قسم کی ہجرت کروائی جا رہی ہے۔
وزارتِ اطلاعات نے مزید بتایا کہ مقامی آبادی خود شدت پسند عناصر کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے اور علاقے میں امن و استحکام کی خواہاں ہے۔ اس حوالے سے خیبر پختونخوا حکومت کے ریلیف، بحالی اور آبادکاری کے محکمے نے 26 دسمبر 2025 کو ایک نوٹیفکیشن بھی جاری کیا تھا، جس کے تحت مالی وسائل کی فراہمی کی گئی۔
وزارت نے کہا کہ وادی تیراہ کو خالی کرانے سے متعلق دعوے بے بنیاد، بدنیتی پر مبنی اور مخصوص مفادات کے تحت پھیلائے جا رہے ہیں، جن کا مقصد عوام میں خوف و ہراس پیدا کرنا اور اداروں کے خلاف غلط فہمیاں جنم دینا ہے۔ ساتھ ہی واضح کیا گیا کہ وفاقی حکومت یا مسلح افواج کی جانب سے وادی تیراہ کو خالی کرانے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وادی تیراہ کو
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔