بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں آج سے 27 جنوری تک شدید بارشوں اور برفباری کی پیشگوئی
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
خیبر پختونخوا کے بالائی اضلاع چترال، دیر، سوات، شانگلہ اور کوہستان میں شدید بارش اور برفباری متوقع ہے، جبکہ ہری پور، پشاور، مردان، نوشہرہ اور کوہاٹ میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ محکمہ موسمیات نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں آج سے شدید بارشوں اور برفباری کے نئے سلسلے کی پیشگوئی کر دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 27 جنوری تک دونوں صوبوں میں مغربی ہواؤں کا نیا سسٹم داخل ہونے کا امکان ہے، جس کے باعث مختلف علاقوں میں موسمی صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔ خیبر پختونخوا کے بالائی اضلاع چترال، دیر، سوات، شانگلہ اور کوہستان میں شدید بارش اور برفباری متوقع ہے، جبکہ ہری پور، پشاور، مردان، نوشہرہ اور کوہاٹ میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ ناران، کاغان، کالام اور چترال میں برفباری کے باعث سڑکیں بند ہونے اور پھسلن کا خدشہ ہے۔ حکام نے بالائی اضلاع میں لینڈ سلائیڈنگ اور برفانی تودے گرنے کے خطرے سے بھی خبردار کیا ہے۔
ادھر بلوچستان میں بھی مزید برفباری اور بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ کوئٹہ، زیارت، چمن، پشین، قلعہ سیف اللہ اور قلعہ عبداللہ میں برفباری متوقع ہے، جبکہ گوادر، خضدار، آواران، چاغی، پنجگور اور کیچ میں تیز ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارش کا امکان ہے۔ قلات، سوراب، ژوب، خاران، مستونگ، واشک، نوشکی اور موسیٰ خیل میں بھی بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ حکام نے شہریوں اور مسافروں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے، غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور موسمی صورتحال کے پیش نظر الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: خیبر پختونخوا اور برفباری کی پیشگوئی کا امکان
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔