ڈیووس میں غیر اعلانیہ سعودی - اسرائیلی ملاقات کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
معروف امریکی- صیہونی ای مجلے نے ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے موقع پر خفیہ سعودی-اسرائیلی ملاقات اور ریاض کیجانب سے ابراہم معاہدے میں شمولیت پر مشاورت کے از سر نو آغاز کی کوششوں کا انکشاف کیا ہے اسلام ٹائمز۔ معروف امریکی - صیہونی ای مجلے "جیوش انسائیڈر" نے اپنی رپورٹ میں دعوی کیا ہے کہ "امن کونسل" کے معاہدے پر دستخط کی تقریب کے موقع پر سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں ایک پرائیویٹ ظہرانے کا انعقاد بھی کیا گیا تھا جس میں امریکہ میں سعودی عرب کی سفیر ریما بنت بندر آل سعود اور اسرائیلی صدر آئزک ہرزگ سمیت بین الاقوامی حکام کی ایک بڑی تعداد نے بھی شرکت کی۔ امریکی - یہودی مجلے نے باخبر ذرائع سےنقل کرتے ہوئے لکھا کہ اس اجلاس میں بحرین کے ولی عہد سلمان بن حمد آل خلیفہ، مبادلہ انویسٹمنٹ کمپنی کے سی ای او خلدون المبارک اور متعدد امریکی حکام، صحافیوں نیز مختلف عالمی کمپنیوں کے سی ای اوز نے بھی شرکت کی۔
امریکی - صیہونی مجلے کے مطابق، اس اجلاس کے شرکاء نے علاقائی صورتحال پر خصوصی تبادلہ خیال کیا جبکہ مبصرین نے اس اجلاس کا مقصد، قابض صیہونی ریجیم اور عرب ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کی استواری کے عمل کو دوبارہ سے شروع کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
یہ بات ورلڈ اکنامک فورم میں آئزک ہرزگ کے ان ریمارکس کے بعد سامنے آئی ہے کہ جس میں اسرائیلی صدر نے سعودی عرب کے ساتھ قابض صیہونی ریجیم کے تعلقات کو مضبوط بنانے کی خواہش پر زور دیا تھا، تاہم اس سے قبل سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات میں فلسطین کے لئے دو ریاستی حل کی جانب واضح راستہ برقرار رکھتے ہوئے نام نہاد "ابراہم معاہدے'' کو آگے بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
امریکی وزیرخارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات انتہائی ٹیکنیکل اور کئی مہینے لگ سکتے ہیں جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کی صورت میں امریکا کی جانب سے پابندیوں میں نرمی کی کوئی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔
امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو مارکو روبیو نے بتایا کہ دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ ایران اس بات پر تفصیلی اور واضح مذاکرات کے لیے آمادہ ہو کہ گہرے پہاڑی مقام میں محفوظ انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے کا مستقبل میں کیا تصرف کیا جائے گا۔
ایران کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنے ملک میں افزودگی کی سرگرمیوں کو طویل مدت تک محدود یا ختم کرنے کے حوالے سے مذاکرات پر اتفاق کرنا ہوگا۔
مارکو روبیو نے کہا کہ یہ انتہائی ٹیکنیکل معاملات ہیں اس لیے میں نہیں سمجھتا کہ اس کو 5 دنوں کے اندر حل کرسکتے ہیں، اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو 30، 60 یا 90 روز کی مدت میں کام کرے اور تفصیلات اخذ کرے لیکن انہیں ایسا کرنے کے لیے سنجیدہ ہونا پڑے گا۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ تہران نے اپنے جوہری پروگرام کے پہلوؤں پر مذاکرات کے لیے اتفاق کیا ہے لیکن اس حوالے سے تفصیلات فراہم نہیں کی کہ کون سے امور ہیں اور واضح کیا کہ مذاکرات اس بات کی ضمانت نہیں ہیں کہ حتمی طور پر ایسے معاہدے کا باعث ہوں گے جو سینیٹ یا امریکی عوام کے لیے قابل قبول ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو پہلے بغیر کسی ٹول کے آبنائے ہرمز کی بحالی کا اعلان کرنا ہوگا، وہ مائنز ہٹائیں گے اور جہازوں پر فائرنگ نہیں کریں گے۔
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا نے ایران کو آبنائے ہرمز کی بحالی پر پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے اور پابندیوں کا خاتمہ شرائط کی بنیاد پر ہوگا۔
ایرانی سپریم لیڈر زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، روبیو
امریکی وزیر خارجہ نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ میرے خیال میں ایران کے نئے سپریم لیڈڑ آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای زندہ ہیں اور سرگرمیوں میں زیادہ حصہ لے رہے ہیں اور اس کے اشارے مل رہے ہیں۔
خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نیا منصب سنبھالنے کے بعد عوامی سطح پر نظر نہیں آئے ہیں تاہم وہ ایرانی حکام کو بدستور ہدایات دے رہے ہیں اور رپورٹ بھی کیا گیا تھا کہ ایرانی اعلیٰ حکام ان سے ملاقات اور مشاورت کرچکے ہیں۔
امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ حملے میں زخمی ہیں جبکہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ امریکی انٹیلی جینس کا تجزیہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای جنگی حکمت عملی میں ایران کے سینئر عہدیداروں کے ساتھ انتہائی اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔