48 ملین جی میل صارفین کے یوزرنیم اور پاس ورڈز لیک ہوگئے
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
سائبر سیکیورٹی کے ایک بڑے انکشاف میں تقریباً 48 ملین جی میل صارفین کے یوزرنیم اور پاس ورڈز پر مشتمل ڈیٹا سامنے آنے کی اطلاع ملی ہے، جبکہ مجموعی طور پر لیک ہونے والے لاگ اِن کریڈنشلز کی تعداد 149 ملین کے قریب بتائی جارہی ہے۔
سائبر سیکیورٹی ریسرچر جیریمیا فاؤلر کے مطابق یہ ڈیٹا بیس نہ تو پاس ورڈ سے محفوظ تھا اور نہ ہی انکرپٹڈ، جس میں تقریباً 96 جی بی خام کریڈنشل ڈیٹا موجود تھا۔
یہ بھی پڑھیں: 18 کروڑ 30 لاکھ جی میل اکاؤنٹس کا ڈیٹا لیک، صارفین کے لیے خطرے کی گھنٹی
تحقیق میں بتایا گیا کہ یہ معلومات کسی نئی جی میل یا دیگر سروسز پر ہونے والی براہ راست ہیکنگ کا نتیجہ نہیں بلکہ ماضی کے مختلف ڈیٹا لیکس اور انفوسٹیلر میل ویئر کے ذریعے اکٹھا کی گئی تفصیلات پر مشتمل ہیں۔
ماہرین کے مطابق انفوسٹیلر میلویئر ذاتی ڈیوائسز کو متاثر کر کے صارفین کے یوزرنیم، پاس ورڈز اور دیگر حساس معلومات ریکارڈ کر لیتا ہے۔
اس لیک ہونے والے ڈیٹا بیس میں جی میل کے ساتھ ساتھ یاہو، انسٹاگرام، نیٹ فلکس، فیس بک اور آؤٹ لک کے اکاؤنٹس کی تفصیلات بھی شامل تھیں، جبکہ سرکاری اداروں، اسٹریمنگ سروسز اور بینکنگ لاگ اِنز سے متعلق معلومات بھی موجود تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: جی میل صارفین کے لیے انتباہ: 18 کروڑ سے زائد پاس ورڈز ہیکرز کے ہاتھ لگ گئے
رپورٹ کے مطابق ڈیٹا بیس کو ہٹانے کے لیے ایک ماہ سے زائد عرصے کی کوششوں کے بعد اسے آف لائن کیا گیا۔ سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کا ڈیٹا سائبر مجرموں کے لیے انتہائی قیمتی ہوتا ہے، کیونکہ اسے کریڈنشل اسٹیفنگ حملوں میں استعمال کیا جاسکتا ہے، جہاں ایک ہی لاگ اِن تفصیلات کو مختلف پلیٹ فارمز پر آزمایا جاتا ہے۔
ماہرین نے مزید خبردار کیا ہے کہ ڈیٹا بیس کے مسلسل بڑھنے کے آثار ظاہر کرتے ہیں کہ متعلقہ میلویئر اب بھی سرگرم ہو سکتا ہے۔
ادھر گوگل نے تصدیق کی ہے کہ وہ اس معاملے سے آگاہ ہے اور اس کے مطابق یہ ڈیٹا وقت کے ساتھ جمع کیے گئے انفوسٹیلر لاگز پر مشتمل ہے۔ گوگل کا کہنا ہے کہ اس کے پاس خودکار نظام موجود ہیں جو متاثرہ کریڈنشلز کی نشاندہی کر کے متعلقہ اکاؤنٹس کو لاک کرتے اور پاس ورڈ ری سیٹ کرواتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: جی میل صارفین خبردار، گوگل کا ڈھائی ارب اکاؤنٹس کو عالمی سائبر حملے پر الرٹ جاری
سیکیورٹی ماہرین نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے پاس ورڈز تبدیل کریں، مختلف سروسز پر ایک ہی پاس ورڈ استعمال کرنے سے گریز کریں، ٹو فیکٹر آتھنٹیکیشن فعال کریں اور پاس ورڈ مینیجر یا پاس کیز استعمال کر کے اپنے اکاؤنٹس کو محفوظ بنائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news پاسورڈ لیک جی میل ڈیٹا گوگل.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاسورڈ لیک جی میل ڈیٹا گوگل جی میل صارفین اور پاس ورڈ صارفین کے پاس ورڈز کے مطابق ڈیٹا بیس کے لیے
پڑھیں:
معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔
کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔
بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال
اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔
گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔
349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم
کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔
کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔