الیکشن کمیشن آف انڈیا اب جمہوریت کا محافظ نہیں بلکہ ووٹ چوری کی سازش کا اہم شراکت دار، راہل گاندھی
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
کانگریس لیڈر کا کہنا ہے کہ خاص طبقات اور کانگریس حامی بوتھوں کے ووٹ چن چن کر کاٹے گئے، جہاں بھی بی جے پی کو شکست نظر آتی ہے، وہاں ووٹر ہی سسٹم سے غائب کر دیے جاتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ حزب اختلاف کے مرکزی لیڈر راہل گاندھی مستقل "ووٹ چوری" کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔ وہ پریس کانفرنس کر کئی بار ووٹ چوری سے متعلق ثبوت بھی سامنے رکھ چکے ہیں، لیکن اس معاملہ میں الیکشن کمیشن کی طرف سے کوئی پیش رفت دیکھنے کو نہیں مل رہی ہے۔ بلکہ راہل گاندھی اور کانگریس کے ذریعہ عائد کردہ الزامات پر ٹال مٹول والا رویہ اختیار کیا جاتا رہا ہے۔ اب راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ جاری کر واضح لفظوں میں کہا ہے کہ جہاں جہاں ایس آئی آر، وہاں وہاں ووٹ چوری۔
گجرات میں "ایس آئی آر" کے دوران گڑبڑی کے کئی معاملات سامنے آئے ہیں، اسی کو پیش نظر رکھتے ہوئے راہل گاندھی نے مذکورہ بالا بیان دیا ہے۔ انھوں نے اس پوسٹ میں یہ بھی لکھا ہے کہ گجرات میں ایس آئی آر کے نام پر جو کچھ کیا جا رہا ہے، وہ کسی بھی طرح کا انتظامی عمل نہیں ہے، یہ منصوبہ بند، منظم اور حکمت عملی کے تحت کی جا رہی ووٹ چوری ہے۔ وہ یہ بھی لکھتے ہیں کہ سب سے حیرت انگیز اور خطرناک بات یہ ہے کہ ایک ہی نام سے ہزاروں ہزار اعتراض درج کیے گئے۔
راہل گاندھی کا کہنا ہے کہ خاص طبقات اور کانگریس حامی بوتھوں کے ووٹ چن چن کر کاٹے گئے، جہاں بھی بی جے پی کو شکست نظر آتی ہے، وہاں ووٹر ہی سسٹم سے غائب کر دیے جاتے ہیں۔ یہ پیٹرن آلند میں نظر آیا، یہی راجورا میں ہوا اور اب وہی بلو پرنٹ گجرات، راجستھان اور ہر اس ریاست میں نافذ کیا جا رہا ہے، جہاں ایس آئی آر تھوپا گیا ہے۔
کانگریس رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ایس آئی آر کو "ایک شخص، ایک ووٹ" کے آئینی حق کو ختم کرنے کے اسلحہ میں بدل دیا گیا ہے۔ ایسا اس لئے تاکہ عوام نہیں، بی جے پی طے کرے کہ اقتدار میں کون رہے گا۔ سوشل میڈیا پوسٹ کے آخر میں اپنی فکر ظاہر کرتے ہوئے راہل گاندھی لکھتے ہیں کہ سب سے سنگین حقیقت یہ ہے کہ الیکشن کمیشن اب جمہوریت کا محافظ نہیں، بلکہ اس ووٹ چوری کی سازش کا اہم شراکت دار بن چکا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: راہل گاندھی ایس ا ئی ا ر ووٹ چوری
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔