کام یابی کا پیغام اورپاکستانی نوجوان
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2026 GMT
کام یابی صرف بڑے خواب دیکھنے اور بہت زیادہ کتابیں پڑھنے سے حاصل نہیں ہوتی ہے۔ کام یابی کے لیے انسان کو بھرپور تیاری، منصوبہ سازی، محنت اور منظم اسٹریٹیجی کی ضرورت ہوتی ہے، جس انسان کے اہداف واضح اور لائحہ عمل مضبوط ہوتا ہے اُس کے لیے کام یابی کا سفر آسان ہو جاتا ہے۔
میری نظر میں کام یابی ایک سفر ہے جو زندگی بھر جاری رہتا ہے۔ میں اکثر ٹی وی کے مارننگ شوز اور نوجوانوں کے ساتھ پروگرامز میں شرکت کرتا ہوں تو مجھ سے یہ سوال بہت عام کیا جاتا ہے کہ کام یابی کا کوئی فارمولا بتائیں؟ میں ذاتی طور پر سمجھتا ہوں کہ سوشل میڈیا کے اس تیزرفتار دُور میں پاکستانی نوجوان ایک ایسے فکری اور عملی موڑ پر کھڑا ہے جہاں کام یابی کے خواب پہلے سے کہیں زیادہ دل کش، مگر حقیقت سے کہیں زیادہ دور دکھائی دیتے ہیں۔
فیس بک، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب نے جہاں اظہار، رابطے اور مواقع کے نئے دروازے کھولے ہیں، وہیں کام یابی کا ایک ایسا تصور بھی جنم دیا ہے جس میں محنت، صبر اور تسلسل کے بجائے شارٹ کٹ کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔ مگر یہ سوال اہم ہے کہ مصنوعی دُنیا میں حقیقی اور دیرپا کام یابی کیسے حاصل کریں؟ مجھے پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں پر کبھی شک نہیں رہا بلکہ بعض دفعہ تو رشک ہوتا کہ یہ محدود وسائل کے باوجود اس قدر باصلاحیت ہیں۔ تاہم بیشتر کا حال ایسا نہیں بلکہ آج کا نوجوان اسکرین پر چند سیکنڈز میں وائرل ہونے والی ویڈیوز، اچانک شہرت پانے والے چہروں اور راتوں رات امیر بننے کی کہانیوں کو دیکھ کر یہ سمجھنے لگا ہے کہ کام یابی ایک فوری عمل ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سوشل میڈیا ایک نعمت کے بجائے ایک فکری آزمائش بن جاتا ہے۔ اصل مسئلہ سوشل میڈیا نہیں، بلکہ وہ سوچ ہے جو کام یابی کو محض لائکس، فالورز اور ویوز تک محدود کردیتی ہے۔ اپنے مختلف ٹی وی پروگرامز، ورکشاپس اور نوجوانوں سے ہونے والی گفتگو میں ایک سوال بار بار سامنے آتا ہے۔
’’کیا واقعی کام یابی کا کوئی آسان اور عملی فارمولا موجود ہے؟‘‘ یقیناً کام یابی کو کسی ایک جملے یا نعرے میں قید کرنا ممکن نہیں، لیکن تجربے اور مشاہدے کی روشنی میں میں نے نوجوانوں کے لیے کام یابی کو ایک سادہ مگر مؤثر ABCD فارمولے میں سمجھانے کی کوشش کی ہے، ایسا فارمولا جو سوشل میڈیا کے شور میں بھی راستہ دکھا سکتا ہے۔ ہم نے بچپن میںA سے Apple، B سے Ball، C سے Cat اور D سے Dog پڑھا تھا، کاش کبھی ہم نے اُنہیں عملی زندگی میں کام یابی کا ABCD کچھ یوں بتا یا ہوتا تو شاید ہماری نسلیں سنور جاتیں۔
Attitude ، رویہ
کام یابی کا اصل سرمایہ؛ مثبت رویہ ہے۔ کام یابی کے سفر میں کسی بھی فرد، خاندان، معاشرے اور قوم کے لیے اگر کوئی سب سے قیمتی سرمایہ ہے تو وہ رویہ ہے۔ رویہ ہی وہ بنیاد ہے جو قوموں کی تعمیر، ان کی تشکیل اور ترقی کے عمل میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ انسانی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ رویے نے نہ صرف انسان کے ارتقاء، مزاج اور سوچ کو متاثر کیا بلکہ اس کی فیصلہ سازی کی سمت بھی متعین کی ہے۔ اگر ہم تاریخ کے مختلف ادوار، لمحات اور حالات کا باریک بینی سے جائزہ لیں تو یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ بڑے راہ نماؤں، کام یاب افراد، کھلاڑیوں اور تبدیلی لانے والی شخصیات نے اپنی زندگی کی تقدیر مثبت رویے کے ذریعے بدلی۔ حالات اکثر یکساں نہیں ہوتے، مگر رویہ وہ طاقت ہے جو عام انسان کو غیرمعمولی بنا دیتا ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں ایک عام چلن یہ ہے کہ لوگوں کا رویہ زیادہ تر منفی ہوتا ہے۔ اسی منفی رویہ کی وجہ سے وہ آگے بڑھنے کی ہمت، جستجو اور مسلسل کوشش سے محروم رہ جاتے ہیں۔ مایوسی، شکوہ اور حالات کو کوسنا ہمیں آگے نہیں بڑھنے دیتا ہے۔ اپنے ذاتی تجربے کی بنیاد پر میں ہمیشہ نوجوانوں کو یہ تلقین کرتا ہوں کہ اردگرد کے حالات جیسے بھی ہوں، وسائل کم ہوں، مسائل زیادہ ہوں، اپنا رویہ مثبت رکھیں، کیوںکہ مثبت رویہ ہی وہ قوت ہے جو ہمیں حالات سے لڑنے کی طاقت، حوصلہ اور استقامت عطا کرتا ہے۔ مثبت رویہ ایک مضبوط پہاڑ کی مانند ہے جو ہمیں ہر طرح کے طوفانوں، خطرات اور آزمائشوں میں کھڑا رہنے کا حوصلہ دیتا ہے۔ اگر آپ کے اندر مثبت رویے کی طاقت موجود ہے تو آپ زندگی کے ہر چیلینج کا سامنا کرسکتے ہیں، مسائل پر قابو پاسکتے ہیں اور کام یابی کے نئے جھنڈے گاڑ سکتے ہیں۔ یاد رکھیے، حالات ہمیں نہیں بناتے، ہمارا رویہ ہمیں بناتا ہے۔
یہ ہمارا اپنا ذہنی رویہ ہی ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ دُنیا ہمارے لیے کیا ہے۔ ہمارے خیالات ہی چیزوں کو خوب صورت بناتے ہیں، ہمارے خیالات ہی چیزوں کو بدصورت بناتے ہیں۔ پوری دُنیا ہمارے دماغ میں ہے۔ چیزوں کو مکمل روشنی میں دیکھنا سیکھیں۔ اپنی سوچ کا معیار بلند رکھیں گے تو اعلیٰ اور بلند خیالات ہی ہم تک پہنچ پائیں گے۔ بڑا انسان اپنی منفرد، مختلف اور بلند سوچ سے زندہ رہتا ہے، ورنہ بڑے عہدوں اور مرتبوں والوں سے تو قبرستان بھرے پڑے ہیں۔ ہم سب حالات اور واقعات کی وجہ سے اندر سے لڑ رہے ہوتے ہیں، بس کچھ وقت کے ساتھ نکھر جاتے ہیں اور کچھ بکھر جاتے ہیں۔ کوشش یہ کریں کے ان منفی حالات سے کنارہ کشی کر کے کچھ مثبت تلاش کریں۔
Behaviour، طرزِعمل
کام یابی کا پوشیدہ مگر طاقت ور ہتھیار ہمارا طرزِعمل ہے درحقیقت ہماری سوچ، نظریے اور مشاہدے کا عملی اظہار ہوتا ہے۔ مشہور عالمی لیڈرشپ ایکسپرٹ جان سی میکسویل کا کہنا ہے کہ ’’ہم چیزوں کو جیسا دیکھتے ہیں، ویسا ہی انہیں سمجھتے اور سرانجام دیتے ہیں۔‘‘ یہی نظریہ ہماری سوچ، فیصلوں اور بالآخر ہمارے طرزِعمل کی بنیاد بنتا ہے۔ میری زندگی کا ذاتی تجربہ اس حقیقت کی تصدیق کرتا ہے کہ چیزوں کو دیکھنے کا ہمارا زاویہ، انہیں سمجھنے کا انداز اور اس کے مطابق اختیار کیا گیا طرزِعمل ہماری کام یابی یا ناکامی میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اکثر اوقات مسئلہ حالات کا نہیں بلکہ نقطؑۂ نظر کا ہوتا ہے۔
جب میں اپنے اردگرد نوجوانوں کو دیکھتا ہوں تو ایک تشویش ناک رجحان نظر آتا ہے کہ وہ اپنی محنت، جدوجہد اور صلاحیتوں پر توجہ دینے کے بجائے زیادہ تر دوسروں کی کام یابی، دولت اور ظاہری معیارِ زندگی کو دیکھتے ہیں۔ اس مسلسل موازنے کی وجہ سے ان کا رویہ اور طرزِعمل منفی ہوجاتا ہے، جو انہیں آگے بڑھنے سے روک دیتا ہے۔ اگر نوجوان اپنے طرزِعمل کو مثبت رکھیں، اپنی صلاحیتوں پر یقین کریں اور قدرت کی عطا کردہ نعمتوں پر توجہ مرکوز کریں تو یہی مثبت طرزعمل انہیں معاشرے میں دوسروں سے منفرد اور ممتاز بنا دیتا ہے۔ مثبت طرزِعمل نہ صرف خوداعتمادی پیدا کرتا ہے بلکہ نئے امکانات کے دروازے بھی کھولتا ہے۔
بعض اوقات ہمارا طرزعمل ہمیں ایسی کام یابیوں کے انجان راستوں سے ہم آہنگ کردیتا ہے جن کا تصور بھی ہم نے نہیں کیا ہوتا ہے۔ یہ کام یابیاں صرف اور صرف مثبت رویے، درست سوچ اور تعمیری طرزِعمل کی بدولت حاصل ہوتی ہیں۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے طرزعمل کو ہمیشہ مثبت رکھیں، اپنی ذات سے دوسروں کو فائدہ پہنچانے کا جذبہ رکھیں، اپنی کام یابی میں دوسروں کو شریک کریں اور اجتماعی تبدیلی کے لیے یکجا ہو کر آگے بڑھیں۔ کیوںکہ اصل کام یابی وہی ہے جو صرف ہمیں نہیں بلکہ پورے معاشرے کو آگے لے جائے۔
Character کردار
معروف صحافی احفاظ الرحمٰن نے اپنی کتاب میں لکھا تھا’’کردار بے عیب ہوگا تو جدوجہد کا حوصلہ بھی ہوگا!‘‘ ہمارے ایک اور ٹرینر اکثر ایک جملہ دہراتے ہیں،’’عظمت کردار میں ہے۔‘‘ میں دِل سے اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ کسی انسان کی اصل پہچان اس کی کام یابی نہیں بلکہ اس کا کردار ہوتا ہے۔ کام یابی وقتی ہوسکتی ہے، مگر کردار ہمیشہ انسان کے ساتھ زندہ رہتا ہے۔ کام یابی کے سفر میں جو کردار مشکلات، آزمائشوں اور مسائل کے دوران تشکیل پاتا ہے، درحقیقت وہی ہماری اصل طاقت بن جاتا ہے۔ کردار ہمارے اخلاق، ہماری سوچ اور ہمارے طرزِعمل کا عملی عکس ہوتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ ہم مشکل حالات میں بھی مثبت پہلو تلاش کرنے، سیکھنے اور آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جب تک ہمارا کردار ہمارے الفاظ کی تائید نہیں کرتا، ہم نہ تو دُنیا کے لیے مثال بن سکتے ہیں اور نہ ہی ہماری کام یابی قابلِ قدر سمجھی جاتی ہے۔
صرف وقتی کام یابی حاصل کرلینا انسان کو عظیم نہیں بناتا، بلکہ یہ کردار ہی ہوتا ہے جو انسان کو معتبر، قابلِ اعتماد اور قابلِ تقلید بناتا ہے۔ اسی لیے میں نوجوانوں کو ہمیشہ یہی مشورہ دیتا ہوں کہ وہ وقتی اور سطحی کام یابی کے پیچھے بھاگنے کے بجائے اپنے کردار کو ڈھالنے، سنوارنے اور مضبوط بنانے پر توجہ دیں، کیوںکہ آپ کا کردار ہی آپ کی اصل طاقت، اصل پہچان اور اصل سرمایہ ہے۔ کام یابی حاصل کرنا بلاشبہہ ایک اہم سنگِ میل ہے، مگر کردار وہ بنیاد ہے جس پر یہ کام یابی کھڑی ہوتی ہے۔ اگر بنیاد مضبوط ہو تو کام یابی نہ صرف بلند ہوتی ہے بلکہ دیرپا بھی ہوتی ہے، اور پھر یہی کام یابی دوسروں کے لیے روشنی کا مینار بن جاتی ہے۔ یاد رکھیے، کام یابی آپ کو پہچان دے سکتی ہے، مگر کردار آپ کو عظمت عطا کرتا ہے۔
Discipline ، نظم و ضبط
دُنیا کی کوئی بھی بڑی کام یابی ڈسپلن کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ ڈسپلن قربانی مانگتا ہے، راتوں کی نیند، وقتی آرام اور فوری خوشی چھوڑنے کا تقاضا کرتا ہے۔ خاص طور پر وہ نوجوان جو محدود وسائل، پس ماندہ علاقوں یا راہ نمائی کی کمی کا شکار ہیں، ان کے لیے ڈسپلن ہی واحد راستہ ہے جو انہیں آگے لے جاسکتا ہے۔ بدقسمتی سے سوشل میڈیا کا موجودہ رجحان نوجوانوں کو مستقل مزاجی کے بجائے فوری نتائج کا عادی بنا رہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ کئی باصلاحیت نوجوان آغاز تو کرلیتے ہیں، مگر تسلسل برقرار نہیں رکھ پاتے۔ جب نوجوان مجھ سے یہ سوال کرتے ہیں کہ آپ کے نزدیک کام یابی کے لیے وہ کون سی ایک خوبی، صلاحیت یا مہارت ہے جسے اپنا کر ہم حقیقی اور پائے دار کام یابی حاصل کر سکتے ہیں؟ میرا جواب ہمیشہ سادہ مگر واضح ہوتا ہے،’’ڈسپلن‘‘ میرا ماننا ہے کہ اگر آپ یہ تسلیم کرلیتے ہیں کہ قدرت نے آپ کو کسی نہ کسی صلاحیت سے ضرور نوازا ہے، تو پھر نظم و ضبط، واضح قواعد و ضوابط، خود پر قابو اور مستقل مزاجی کے ذریعے آپ عام انسانوں سے کہیں زیادہ کام کر سکتے ہیں۔ نظم و ضبط وہ قوت ہے جو معمولی صلاحیت کو غیر معمولی کامیابی میں بدل دیتی ہے۔
دُنیا کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو جتنے بھی کام یاب، معروف، قابلِ ذکر اور قابلِ فخر افراد گزرے ہیں، جنہوں نے کام یابی اور عظمت کی معراج حاصل کی، ان سب کی زندگی میں ڈسپلن کی ایک قدر مشترک نظر آتی ہے ۔ یہ افراد صرف باصلاحیت نہیں تھے بلکہ اپنی صلاحیتوں کو مسلسل، منظم اور مقصد کے ساتھ استعمال کرنا جانتے تھے۔
یہ حقیقت بھی ہمیں سمجھنی چاہیے کہ اگر آپ کے پاس بے شمار صلاحیتیں ہوں، مگر آپ نظم و ضبط اور مستقل مزاجی سے محروم ہوں، تو آپ اپنی صلاحیتوں کا حقیقی ثمر کبھی حاصل نہیں کرسکتے۔ صلاحیت بغیر نظم کے بکھر جاتی ہے، جب کہ نظم و ضبط اسے سمت دیتا ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ محدود وسائل اور عام سی صلاحیتوں کے باوجود آپ خاطر خواہ، قابلِ ذکر اور دیرپا کام یابی حاصل کریں، تو سب سے پہلے خود کو ڈسپلن کرنا سیکھیں۔ جب انسان خود کو منظم کر لیتا ہے تو کام یابی خود اس کے لیے دروازے کھولنے لگتی ہے۔ یاد رکھیے، صلاحیت آپ کو آغاز دیتی ہے، مگر نظم و ضبط آپ کو منزل تک پہنچاتا ہے۔
علامہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا
جہان تازہ کی افکار تازہ سے ہے نمود
کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کام یابی حاصل کر نوجوانوں کو کام یابی کا کام یابی کے سوشل میڈیا کام یابی ا نہیں بلکہ سکتے ہیں نوجوان ا انسان کو چیزوں کو کے بجائے دیتا ہے کرتا ہے جاتا ہے ہوتی ہے کے ساتھ ہوتا ہے اگر ا پ ہوں کہ ا نہیں بلکہ ا کے لیے
پڑھیں:
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔
مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔
عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔
فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکیCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم