Express News:
2026-07-24@01:30:52 GMT

عشق

اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT

عبدالرحمن عابد‘ میرے لیے اجنبی سا نام ہے۔ یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ شاعری فرماتے ہیں۔ جب ان کی شاعری پڑھنی شروع کی تو صاحب‘ ششدر رہ گیا۔ اتنی بلند خیالی اور سوچنے کا اتنا بڑا کینوس ۔ عابد صرف شاعر ہی نہیں، حد درجہ اعلیٰ شاعر ہے۔ کمال سوچنے والا انسان‘ پتہ نہیں، پہلے اس کے اشعار‘ نظرسے کیوں نہیں گزر پائے۔ اس پر بہر حال افسوس ہے۔ ویسے دکھ اور غم تو بہت سے ہیں۔ مگر کیا کریں‘انھیں کے جھرمٹ اور پناہ میںسانس لینی ہے۔

خواہش تھی کہ کینیا کے کسی سفاری پارک میں دو تین ماہ اکیلا گزاروں ۔ خدا کی بنائی ہوئی خوبصورت ترین مخلوق ‘ یعنی پرندوں اور جانوروں کو قدرتی ماحول میں دیکھوں۔ مسائی قبیلہ کے ساتھ ‘ ہاتھ میں لاٹھی پکڑ کر ان کا ہزاروں سال قدیم رقص کروں۔پر نہ کر پایا۔ اس لیے کہ وقت ہی نہیں مل سکا۔ یہ بھی تمنا تھی‘کہ پیرا گلائیڈنگ سیکھوں۔ ہوا میں اڑتے اڑتے ‘ بادلوںکو محسوس کر سکوں۔ روئی کے ان گالوں کے ساتھ کھیلوں‘ مگر یہ خواب بھی ادھورا رہ گیا۔ چلیے اس قصے کو جانے دیجیے ۔ مگر ایک مسلسل غم کا شکار ہوں کہ علم حاصل نہ کر سکا۔ جتنا پڑھتا ہوں‘ اپنے جاہل ہونے کا احساس بڑھتا جاتا ہے۔ ہاں اہل صفا کی جوتیاں سیدھی کرتا رہتا ہوں تاکہ کچھ عطا ہو جائے۔ دیکھئے کب مہربانی ہوتی ہے۔

اتفاق سے‘ عابد کی کتاب ’’عشق‘‘ پڑھنے کا لاجواب موقع ملا۔ یہ شخص اتنی لازوال شاعری کرتا ہے ۔ نہیں معلوم تھا۔ بہر حال ‘ اس نسخہ نے فکر کے نئے دریچے کھول ڈالے۔’’عشق‘‘ کتاب کی بابت خالد احمد لکھتے ہیں: وہ لوگ جو انسانی جذبات کی تاریخ رقم کرتے ہیں۔ پیغمبر‘ اولیاء ‘ اہل دین ودانش‘ مفکر‘ شاعر اور غلاموں کو آزاد کروانے والے قائد ہوتے ہیں۔ یہ کاغذ پر ہی نہیں ہماری حیات اور ہمارے جذبات میں بھی زندہ رہتے ہیں‘ عبدالرحمن عابد ایک ایسا ہی مفکر شاعر ہے جسے ’اقبال کی نظم‘ کہا جا سکتا ہے‘ جو ہمارے رگ و پے میں سمانے اور ہمارے لہو میں دوڑ اٹھنے کو ہے‘ بس یہ مجموعہ پڑھنے کی دیر ہے!

’’ہمیں بس دیکھنا کہ ہم

 مسیحاؤں کے گھیرمیں

اک ایسی نسل اور ایسا زمانہ ہیں

جسے گزرے ہوئے ایک حادثہ میں ایک طبعی موت مرنا ہے جسے ماضی نے مستقبل میں آ کر قتل کر دیا ہے‘‘۔

خواجہ محمد زکریا رقم طراز ہیں :حالانکہ تمام بنی نوع انسان بنیادی طور پر ایک ہی شجر کی شاخیں ہیں۔ پوری انسانی تاریخ ارزانی آدم کی دکھ بھری داستان ہے اور انسان نے انسان کے ساتھ جو کچھ روا رکھا ہے وہ انتہائی شرمناک ہے۔ شاعر اس بات کا شدت سے خواہش مند ہے کہ انسان اپنی اس ہولناک تاریخ سے بلند ہو کر دنیا کو سنوارے اور انسان کے دکھ درد کا مداوا کرے۔ اگرچہ یہ شاعری‘ پیغام رسانی کا فریضہ انجام دیتی ہے لیکن پیغام رساں شاعروں کے برعکس کہیں خطابت‘ بلند آہنگی اور نعرہ بازی کی سطح پر نہیں اترتی بلکہ اظہار کے لیے شاعرانہ وسائل پر انحصار کرتی ہے۔ یہ مجموعہ وفور جذبات‘ بلندی افکار اور شعری صداقتوں کوآپس میں یوں ہم آہنگ کرتا ہے کہ قاری بے ساختہ تحسین و آفرین کہنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔

سوال:

خدائے عرش عظیم تو جو علیم بھی ہے خبیر بھی ہے

 تجھے بتاؤں تو کیا بتاؤں

کہ میری گلیاں صدائے ماتم سے

بھرتے بھرتے چھلک گئی ہیں

نحیف کندھے جو ان لاشے

اٹھا اٹھا کے ڈھلک گئے ہیں

دعائیں ہاتھوں کی انگلیوں سے

پھل کے زانو پہ گر گئی ہیں

یہ میری بے بس برہنہ آنکھیں

شہید گن گن کے تھک گئی ہیں

زخموں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا:

تاریخ:

کبھی مؤرخ

مرا زمانہ یا میری تاریخ

 لکھنے بیٹھا تو کیا لکھے گا

تو کیا لکھے گا کہ اس زمیں پر

کچھ ایسے لیل و نہار بھی تھے

جب آسماں تو سخاوتوں پر مصر تھا لیکن

زمیں نے وصف نمو سے انکار کر دیا تھا

خدا کی خلقت کی اپنی ہیئت وہی تھی لیکن

کسی کے شانے پہ سر نہیں تھا

زبانیں بطنوں پہ اگ رہی تھیں

تمام ہاتھوں کا چہرہ اوپر اٹھا ہوا تھا

تماشا برسررا ہے:

 ہمیں دیکھو!

کہ ہم اس دور میں

اس بے پیمبر دور میں

اک معجزے کا حکم رکھتے ہیں

ہمیں دیکھو!

ہمیں گزرے ہوئے اک حادثے میں

ایک طبعی موت مرنا ہے

ہمیں ماضی نے مستقبل میں آ کر قتل کرنا ہے

ہمیں دیکھو!

طریقت دعا:

اک لفظ ڈھونڈتا ہوں

جو میں خدا کو بھیجوں

اور اس کی بے نیازی

عرش بریں سے اس کو

واپس زمیں پہ بھیجے

میں اس زمیں پہ بکھرے

وہ حرف پھر سمیٹوں

پھر ایک لفظ ڈھالوں

اور اس نے جتنے سینے

تخلیق کر دیے ہیں

ان سب میں اس کو بانٹوں

مگر اس کام سے پہلے:

کسی آفت زدہ بستی کے ملبے پر کھڑا تنہا

کوئی بچہ یہ کہتا تھا

مرے رخسار پر یہ جو جمے خوں کی لکیریں ہیں

مری مرتی ہوئی ماں کی محبت کی نشانی ہیں

مرے منہ کو نہیں دھونا

میرے بالوں میں تہ در تہ جو مٹی اور ریزے ہیں

یہی تو اک گواہی ہیں کہ میرے سر پہ بھی چھت تھی

مرے بالوں کو مت دھونا

اعتراف:

 نجات میری ندامتوں سے

کہ اپنے اعمال کی سیاہی

بدن پہ اس طرح سے لپٹیے

میں اپنے رب کے حضور کس طرح جا سکوں گا

مگر جب تم نے آنا ہو:

تمہیں کیسے بتائیں اب

کہ خوش اطوار ہونے میں

اور اپنی زندگی کو اک سلیقے سے

بسر کرنے میں کتنا فرق ہوتا ہے

تخیل کے اسیروں کو تو ویسے بھی

استقامت:

محبت کا تقاضا ہے

کہ اس کو اس کی بینائی

کبھی واپس نہ کی جائے

وہ یہ اصرار کرتی ہے

کہ اس کے پہلے پل‘ پہلی نظر کے فیصلے

چھیڑے نہیں جائیں

وہ کہتی ہے کہ ہاں ہوں گے

میرے ان فیصلوں کے جسم پر کچھ داغ بھی ہوں گے

یہ ممکن ہے

کہ میرے فیصلوں کی زندگی آسان بھی ناں ہو

اسے تسلیم ہے

برادرم عبدالرحمن عابد! محترم ‘ اتنا عظیم شاعر ہونے کے باوجود ‘ اتنی دیر کیوں اور کہاں چھپے رہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف