Express News:
2026-06-03@02:30:03 GMT

عشق

اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT

عبدالرحمن عابد‘ میرے لیے اجنبی سا نام ہے۔ یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ شاعری فرماتے ہیں۔ جب ان کی شاعری پڑھنی شروع کی تو صاحب‘ ششدر رہ گیا۔ اتنی بلند خیالی اور سوچنے کا اتنا بڑا کینوس ۔ عابد صرف شاعر ہی نہیں، حد درجہ اعلیٰ شاعر ہے۔ کمال سوچنے والا انسان‘ پتہ نہیں، پہلے اس کے اشعار‘ نظرسے کیوں نہیں گزر پائے۔ اس پر بہر حال افسوس ہے۔ ویسے دکھ اور غم تو بہت سے ہیں۔ مگر کیا کریں‘انھیں کے جھرمٹ اور پناہ میںسانس لینی ہے۔

خواہش تھی کہ کینیا کے کسی سفاری پارک میں دو تین ماہ اکیلا گزاروں ۔ خدا کی بنائی ہوئی خوبصورت ترین مخلوق ‘ یعنی پرندوں اور جانوروں کو قدرتی ماحول میں دیکھوں۔ مسائی قبیلہ کے ساتھ ‘ ہاتھ میں لاٹھی پکڑ کر ان کا ہزاروں سال قدیم رقص کروں۔پر نہ کر پایا۔ اس لیے کہ وقت ہی نہیں مل سکا۔ یہ بھی تمنا تھی‘کہ پیرا گلائیڈنگ سیکھوں۔ ہوا میں اڑتے اڑتے ‘ بادلوںکو محسوس کر سکوں۔ روئی کے ان گالوں کے ساتھ کھیلوں‘ مگر یہ خواب بھی ادھورا رہ گیا۔ چلیے اس قصے کو جانے دیجیے ۔ مگر ایک مسلسل غم کا شکار ہوں کہ علم حاصل نہ کر سکا۔ جتنا پڑھتا ہوں‘ اپنے جاہل ہونے کا احساس بڑھتا جاتا ہے۔ ہاں اہل صفا کی جوتیاں سیدھی کرتا رہتا ہوں تاکہ کچھ عطا ہو جائے۔ دیکھئے کب مہربانی ہوتی ہے۔

اتفاق سے‘ عابد کی کتاب ’’عشق‘‘ پڑھنے کا لاجواب موقع ملا۔ یہ شخص اتنی لازوال شاعری کرتا ہے ۔ نہیں معلوم تھا۔ بہر حال ‘ اس نسخہ نے فکر کے نئے دریچے کھول ڈالے۔’’عشق‘‘ کتاب کی بابت خالد احمد لکھتے ہیں: وہ لوگ جو انسانی جذبات کی تاریخ رقم کرتے ہیں۔ پیغمبر‘ اولیاء ‘ اہل دین ودانش‘ مفکر‘ شاعر اور غلاموں کو آزاد کروانے والے قائد ہوتے ہیں۔ یہ کاغذ پر ہی نہیں ہماری حیات اور ہمارے جذبات میں بھی زندہ رہتے ہیں‘ عبدالرحمن عابد ایک ایسا ہی مفکر شاعر ہے جسے ’اقبال کی نظم‘ کہا جا سکتا ہے‘ جو ہمارے رگ و پے میں سمانے اور ہمارے لہو میں دوڑ اٹھنے کو ہے‘ بس یہ مجموعہ پڑھنے کی دیر ہے!

’’ہمیں بس دیکھنا کہ ہم

 مسیحاؤں کے گھیرمیں

اک ایسی نسل اور ایسا زمانہ ہیں

جسے گزرے ہوئے ایک حادثہ میں ایک طبعی موت مرنا ہے جسے ماضی نے مستقبل میں آ کر قتل کر دیا ہے‘‘۔

خواجہ محمد زکریا رقم طراز ہیں :حالانکہ تمام بنی نوع انسان بنیادی طور پر ایک ہی شجر کی شاخیں ہیں۔ پوری انسانی تاریخ ارزانی آدم کی دکھ بھری داستان ہے اور انسان نے انسان کے ساتھ جو کچھ روا رکھا ہے وہ انتہائی شرمناک ہے۔ شاعر اس بات کا شدت سے خواہش مند ہے کہ انسان اپنی اس ہولناک تاریخ سے بلند ہو کر دنیا کو سنوارے اور انسان کے دکھ درد کا مداوا کرے۔ اگرچہ یہ شاعری‘ پیغام رسانی کا فریضہ انجام دیتی ہے لیکن پیغام رساں شاعروں کے برعکس کہیں خطابت‘ بلند آہنگی اور نعرہ بازی کی سطح پر نہیں اترتی بلکہ اظہار کے لیے شاعرانہ وسائل پر انحصار کرتی ہے۔ یہ مجموعہ وفور جذبات‘ بلندی افکار اور شعری صداقتوں کوآپس میں یوں ہم آہنگ کرتا ہے کہ قاری بے ساختہ تحسین و آفرین کہنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔

سوال:

خدائے عرش عظیم تو جو علیم بھی ہے خبیر بھی ہے

 تجھے بتاؤں تو کیا بتاؤں

کہ میری گلیاں صدائے ماتم سے

بھرتے بھرتے چھلک گئی ہیں

نحیف کندھے جو ان لاشے

اٹھا اٹھا کے ڈھلک گئے ہیں

دعائیں ہاتھوں کی انگلیوں سے

پھل کے زانو پہ گر گئی ہیں

یہ میری بے بس برہنہ آنکھیں

شہید گن گن کے تھک گئی ہیں

زخموں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا:

تاریخ:

کبھی مؤرخ

مرا زمانہ یا میری تاریخ

 لکھنے بیٹھا تو کیا لکھے گا

تو کیا لکھے گا کہ اس زمیں پر

کچھ ایسے لیل و نہار بھی تھے

جب آسماں تو سخاوتوں پر مصر تھا لیکن

زمیں نے وصف نمو سے انکار کر دیا تھا

خدا کی خلقت کی اپنی ہیئت وہی تھی لیکن

کسی کے شانے پہ سر نہیں تھا

زبانیں بطنوں پہ اگ رہی تھیں

تمام ہاتھوں کا چہرہ اوپر اٹھا ہوا تھا

تماشا برسررا ہے:

 ہمیں دیکھو!

کہ ہم اس دور میں

اس بے پیمبر دور میں

اک معجزے کا حکم رکھتے ہیں

ہمیں دیکھو!

ہمیں گزرے ہوئے اک حادثے میں

ایک طبعی موت مرنا ہے

ہمیں ماضی نے مستقبل میں آ کر قتل کرنا ہے

ہمیں دیکھو!

طریقت دعا:

اک لفظ ڈھونڈتا ہوں

جو میں خدا کو بھیجوں

اور اس کی بے نیازی

عرش بریں سے اس کو

واپس زمیں پہ بھیجے

میں اس زمیں پہ بکھرے

وہ حرف پھر سمیٹوں

پھر ایک لفظ ڈھالوں

اور اس نے جتنے سینے

تخلیق کر دیے ہیں

ان سب میں اس کو بانٹوں

مگر اس کام سے پہلے:

کسی آفت زدہ بستی کے ملبے پر کھڑا تنہا

کوئی بچہ یہ کہتا تھا

مرے رخسار پر یہ جو جمے خوں کی لکیریں ہیں

مری مرتی ہوئی ماں کی محبت کی نشانی ہیں

مرے منہ کو نہیں دھونا

میرے بالوں میں تہ در تہ جو مٹی اور ریزے ہیں

یہی تو اک گواہی ہیں کہ میرے سر پہ بھی چھت تھی

مرے بالوں کو مت دھونا

اعتراف:

 نجات میری ندامتوں سے

کہ اپنے اعمال کی سیاہی

بدن پہ اس طرح سے لپٹیے

میں اپنے رب کے حضور کس طرح جا سکوں گا

مگر جب تم نے آنا ہو:

تمہیں کیسے بتائیں اب

کہ خوش اطوار ہونے میں

اور اپنی زندگی کو اک سلیقے سے

بسر کرنے میں کتنا فرق ہوتا ہے

تخیل کے اسیروں کو تو ویسے بھی

استقامت:

محبت کا تقاضا ہے

کہ اس کو اس کی بینائی

کبھی واپس نہ کی جائے

وہ یہ اصرار کرتی ہے

کہ اس کے پہلے پل‘ پہلی نظر کے فیصلے

چھیڑے نہیں جائیں

وہ کہتی ہے کہ ہاں ہوں گے

میرے ان فیصلوں کے جسم پر کچھ داغ بھی ہوں گے

یہ ممکن ہے

کہ میرے فیصلوں کی زندگی آسان بھی ناں ہو

اسے تسلیم ہے

برادرم عبدالرحمن عابد! محترم ‘ اتنا عظیم شاعر ہونے کے باوجود ‘ اتنی دیر کیوں اور کہاں چھپے رہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی