مقبوضہ کشمیر‘بھارتی قابض فورسزنے پُرامن مظاہرے میں سوگواران کوخون میں نہلادیا
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
سری نگر(آن لائن) 25 جنوری 1990ء کو ہندواڑہ کے قتلِ عام میں بھارتی قابض فورسز نے پُرامن مظاہرے میں سوگواران کو خون میں نہلایادیا۔ 25جنوری کشمیرکی تاریخ کا المناک اور سیاہ ترین دن وادی کوسوگ منانے کی بھی اجازت نہ دی گئی۔ نہتے کشمیری ابھی گاؤکدل کاسانحہ بھولے نہیںتھے کہ ہندواڑامیں بھارتی قابض فورسز نے ظلم کی انتہاکردی۔بھارتی قابض فورسز نے ہندواڑہ میں ایک بارپھریہی پیغام تازہ خون سے لکھاکہ کشمیریوں کے لیے غم کی گنجائش ہے نہ احتجاج کاحق۔اُس وقت پوری وادی صدمے کی لپیٹ میں تھی،حالات کو سنبھالنے کے بجائے بھارتی حکام نے جبر کو مزید تیز کر دیا۔ کشمیرمیں بھارتی ظالم اورجابرفورسزکی جانب سے اُس وقت کرفیو،جبری گرفتاریاں اورفوجی محاصرے معمول بن چکے تھے۔25جنوری1990ء کو ضلع کپواڑہ کے علاقے ہندواڑہ میں ہونے والا اجتماع پُرامن اورغیر مسلح افرادپرمشتمل تھا۔مقبوضہ جموں وکشمیر کے مختلف علاقوں میں قتل عام کیخلاف آوازاٹھانے اور انصاف مانگنے والے بھی بھارتی بربریت کی بھینٹ چڑھ گئے، جس میں بھارتی فورسز کی اس بربریت اور سفاکیت کے نتیجے میں 21 بیگناہ کشمیری شہید اور 75 سے زائد زخمی ہوئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: بھارتی قابض فورسز میں بھارتی
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
فائل فوٹوآزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع ہوگئی، میرپور ڈویژن میں انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہوئی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی ہدایت پر پی ٹی اے نے انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا عمل شروع کیا، آزاد کشمیر میں 5 جون سے انٹرنیٹ سروس معطل تھی۔
آزاد کشمیر میں امن و امان کی صورتحال کے باعث انٹرنیٹ سروس بند کی گئی تھی، چئیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حکومت سے انٹرنیٹ بحال کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔