جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی ڈرون حملے،2 بچوں سمیت 3 فلسطینی شہید
اشاعت کی تاریخ: 26th, January 2026 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
260126-01-19
غزہ /تل ابیب /ڈبلن (مانیٹرنگ ڈیسک /صباح نیوز) غزہ کی سول ڈیفنس ایجنسی کے مطابق اسرائیلی ڈرون حملوں میں 3 فلسطینی شہید ہو گئے، جن میں 2 کم عمر لڑکے بھی شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملے گزشتہ روز شمالی غزہ میں مختلف مقامات پر کیے گئے‘ ایک اسرائیلی ڈرون حملہ بیت لاہیا میں کمال عدوان اسپتال کے قریب کیا گیا، جس کے نتیجے میں 2 فلسطینی لڑکے جاں بحق ہو گئے۔ الشفا اسپتال نے تصدیق کی ہے کہ جاں بحق ہونے والوں کی عمریں 13 اور 15 سال تھیں۔ ایک الگ واقعے میں شمالی غزہ کے علاقے جبالیہ میں اسرائیلی کوآڈ کاپٹر ڈرون نے شہریوں کے ایک گروپ کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک اور فلسطینی جاں بحق ہو گیا۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے فلسطینی پناہ گزین’انروا‘ کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے کہا ہے کہ غزہ میں 6 لاکھ سے زاید بچے تعلیم سے محروم ہیں،گزشتہ چند برسوں کے دوران فلسطینی پناہ گزینوں کی تعلیم کو مسلسل اور بڑھتے ہوئے حملوں کا سامنا رہا ہے۔ فلپ لازارینی نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ کو 2 سال سے زیادہ عرصے سے باقاعدہ اور منظم تعلیم سے محروم رکھا گیا ہے۔ فلسطینی عوامی تنظیموں کے نیٹ ورک کے سربراہ امجد الشوا نے غزہ کی پٹی کے اندر تیزی سے بگڑتی ہوئی انسانی صورت حال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ رفح بری گزرگاہ کی مسلسل بندش اور بنیادی انسانی امداد کی روک تھام نے عوام کی تکالیف کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔ امجد الشوا نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ کم از کم 18 ہزار 500 مریض اور زخمی ایسے ہیں جنہیں فوری طور پر غزہ سے باہر علاج کے لیے منتقل کرنا ناگزیر ہو چکا ہے جبکہ مسلسل بمباری اور ادویات اور طبی سامان کی شدید قلت کے باعث صحت کا نظام تقریباً مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا ہے۔ انہوں نے مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی نمائندوں اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر سے مطالبہ کیا کہ وہ گزرگاہوں کی فوری بحالی اور بلا رکاوٹ انسانی امداد کی فراہمی کے لیے دباؤ ڈالیں۔ فلسطینی اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سیاسی بیورو کے رُکن اور ممتاز فلسطینی رہنما ڈاکٹر عطا اللہ ابو السبح اتوار کی صبح 78 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وہ سابق وزیر قانون ساز کونسل کے رکن ممتاز مفکر ادیب اور شاعر بھی تھے۔ مرحوم ابو السبح نے غزہ کی اسلامی یونیورسٹی میں بطور پروفیسر خدمات انجام دیں۔ وہ فلسطینی ثقافتی زندگی میں بھی ایک نمایاں مقام رکھتے تھے۔ ایک ادیب، شاعر اور مصنف کی حیثیت سے انہوں نے متعدد شعری مجموعے اور تصانیف پیش کیں۔ تحریک حماس نے اپنے بیان میں ڈاکٹر عطا اللہ ابو السبح رحمہ اللہ کو خراج عقیدت پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ ان کی جدوجہد کا سفر عطا قربانی اور فلسطینی قومی منصوبے کے دفاع سے عبارت تھا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے اس جائز حق کا بھرپور دفاع کیا جو آزادی اور خود مختاری کے لیے ان کی مسلسل جدوجہد کا محور ہے۔ آئرلینڈ کے دارالحکومت ڈبلن میں ہفتے کے روز ایک بڑے عوامی احتجاجی مظاہرے کا انعقاد کیا گیا جس میں سیکڑوں افراد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے غزہ کی پٹی میں قابض اسرائیل کی جانب سے جاری سنگین خلاف ورزیوں اور سفاکیت کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ ترکیہ کی خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق مظاہرین نے ڈبلن کے وسطی علاقوں کی سڑکوں پر مارچ کیا۔ اس دوران فلسطینی پرچم لہرائے گئے اور ایسے بینرز اٹھائے گئے جن پر فلسطین آزاد ہے جیسے نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی جارحیت فوری طور پر بند کرنے اور نہتے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
ایرانی سفیر رضا امیری مقدم(فائل فوٹو)۔پاکستان میں متعین ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے کہا کہ ٹرمپ کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ میناب میں اسکول اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، امریکا اور اسرائیل کو 40 روزہ جنگ کے بعد شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے مزید کہا کہ مذاکرات کے حوالے پاکستان ثالث کے طور پر ابھرا، ہم مذاکرات میں اس لیے آئے کہ ہماری نیت ہے، ٹرمپ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہونے چاہئیں۔
ایرانی سفیر نے کہا ہمارے رہبر اعلیٰ نے فتویٰ دیا ہوا ہے کہ ہم ایٹمی ہتھیاروں کو حرام سمجھتے ہیں، مذاکرات کی میز پر امریکی کہتے ہیں آپ یورینیم بھی افزودہ نہیں کرسکتے۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں اور پرامن مقاصد کیلئے یورینیم افزودہ کرنا الگ ہے، امریکا اور مغرب کے سامنے ایران کبھی نہیں جھکے گا۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ٹرمپ صبح سے شام تک دیوانوں کی طرح باتیں کرتے رہتے ہیں، ان کی خام خیالی تھی کہ وہ ہمیں مذاکرات میں مشغول کرکے حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے۔